بنگلہ دیش ایک سوال اور پچاس سال

    154
    .

    بنگلہ دیش ایک سوال اور پچاس سال

    احمد جواد

    پچاس سال گزر گئے اور جنہیں ہم غدار کہتے تھے وہ اب ایک آزاد ملک کے آزاد شہری ہیں اور ہم سے زیادہ ترقی یافتہ اور زیادہ کامیاب بھی ہیں۔ معاشی اعدادوشمار اس کا ثبوت ہیں۔

    ہم نے انگلینڈ سے آزادی حاصل کی اور بنگلہ دیش نے پاکستان سے آزادی حاصل کی۔ ہماری آزادی کو حق تسلیم کیا گیا اور برٹش ہمیں آزادی دے کر چلے گئے۔بنگالیوں کے لیڈر شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی نے پاکستان کے آئین کے مطابق الیکشن جیتا لیکن اُنہیں حکومت کا آختیار نہ دیا گیا، جب کسی کا حق چھینا جیتا ہے تو وہ اپنے حق کیلۓ کھڑا ہو جاتا ہے اور پھر حاکم اور محکوم کے درمیان جنگ شروع ہو جاتی ہے جسے آزادی کی جنگ کہتے ہیں۔ بنگالیوں نے اپنے حق کیلۓ جنگ لڑ ی اور جیت لی۔ بھارت ہمارا دشمن ہے اور اُس نے اس موقع کا فائدہ اُٹھایا جسطرح کوئ بھی دشمن اُٹھاتا ہے۔

    دوسری جنگ عظیم میں جرمنی دو ٹکڑے کر دیا گیا لیکن مغربی جرمنی نے اقتصادی ترقی اور انصاف پر مبنی معاشرے سے مشرقی جرمنی کو دوبارہ اپنا حصہ بنا لیا۔ جرمنی نے ہٹلر اور اُس کے حواریوں کو عبرت کا نشان بنایا تاکہ کوئ دوبارہ ہٹلر نہ پیدا ہوسکے۔جرمنی نے اپنی نسل کو ہٹلر جیسے نظام سے نفرت کرنا سکھایا۔ جرمنی نے سبق سیکھا اور دنیا کے سامنے مشرقی جرمنی کی انجیلہ مرکل کا نمونہ پیش کیا۔ اسے کہتے ہیں ترقی، ہٹلر سے انجیلہ مرکل تک کا سفر۔اگر ہم شیخ مجیب الرحمن کو انجیلہ مرکل بننے کا موقع دے دیتے تو شاید ہم بھی آج جرمنی کی طرح ایک متحد اور مظبوط ملک ہوتے۔

    پاکستان نے 1971 کے ذمہ داروں کو فائلوں میں چھپا دیا اور اُنہیں عبرت کا نشان بنانے کے بجاۓ نئی زندگی دے دی گئی۔ ہم نے حقیقت کو چھپایا اور ہماری جنریشن کو آج تک حقیقت نہیں بتائ۔ جس کا نتیجہ ہم پچھلے 50 سال سے بھگت رہے ہیں۔ ہمیں سچ برداشت نہیں اور ہم اپنی مرضی کا سچ تخلیق کر لیتے ہیں اور اُس پر ایمان لے آتے ہیں۔ جھوٹ پر بنے گھر کبھی ترقی کا گہوارہ نہیں بنتے۔ ۱۹۷۱ کے ذمہ دار کرداروں کو جب تک عبرت کا نشان نہیں بنایا جاتا، آگے کا سفر دشوار گزار راستوں سے نہیں نکلے گا۔ ہم اسی طرح گرتے پڑتے، ھاپنتے کانپتے سفر کو ترقی کا سراب سمجھتے رہیں گے۔ بدقسمتی سے ۱۹۷۱ کے ذمہ دار نشان عبرت بننے کی بجاۓ عزت کا نشان بن گئے، آج بھی ان کرداروں کی میراث اس ملک کے فیصلے کرتی ہے۔

    بنگلہ دیش ہمارا سب سے بہترین سبق ھونا چاہیے لیکن بنگلہ دیش کا نام سن کر ہمیں کرنٹ لگ جاتا ہے اور ہم خوف و حراس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بنگلہ دیش ایک حقیقت ہے، ہمارے آنکھیں بند کرنے سے یہ حقیقت اوجھل نہیں ہو گی۔ بلکہ خطرات میں اضافہ ہو گا۔اگر کسی کی ایک ٹانگ ٹوٹی ہو اور وہ کہے کہ میری ٹانگ نہیں ٹوٹی تو وہ زندگی کا ہر وہ مقابلہ ہار جاۓ گا جہاں دو ٹانگوں والے دوڑ لگاتے ہیں۔ ہاں اگر وہ یہ تسلیم کر لے کہ اسکی ایک ٹانگ ٹوٹی ہوئ ہے اور وہ نئی ٹانگ لگوا کر دوبارہ فٹ ہو جاۓ تو وہ ترقی کی دوڑ میں دوبارہ شامل ہو جاۓ گا، بھلے اُس کی رفتار کم ہو، لیکن اُسے پتہ ہے کہ اُسکی ٹانگ کیوں ٹوٹی اور اب دوبارہ ایسی حرکت نہیں کرے گا کہ جس سے اُس کی ٹانگ دوبارہ ٹوٹے، وہ اپنی نئی ٹانگ کو بہتر کرے گا اور وقت کے ساتھ اپنی رفتار کو بہتر کر لے گا۔ کسی نے ۱۹۷۱ میں کہا جو بنگلہ دیش جاۓ گا اُسکی ٹانگیں توڑ دیں گے، وہ اپنی ٹانگیں تڑواہ بیٹھے۔

    غلطیاں سب قومیں کرتی ہیں لیکن کچھ قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں اور پہلے سے زیادہ مظبوط ہو جاتی ہیں اور کچھ قومیں غلطیاں کرتی چلی جاتی ہیں اور جھوٹ بولے جاتی ہیں، ایسی قومیں اپنی تباہی کے گڑے خود کھودتی ہیں اور خود ان میں بار بار گرتی ہیں۔جھوٹ ہیروئن کے نشے کی طرح ہے، مزہ دیتا ہے لیکن ہر روز تباہی کی طرف ایک قدم اور بڑھ جاتا ہے۔ کیا ہم ایسے ہی نشے کے عادی ہو گئے ہیں، مزے دینے والے، مزے لینے والے، مزے اُڑانے والے، مزے لکھنے والے، مزے سنانے والے، مزے تخلیق کرنے والے، سب موجود ہیں۔ مزوں کی آدھی صدی پوری ہو گئی ہے۔ مزہ ایک دن ختم ہو جاتا ہے، گناہ قبر کے اُوپر اور نیچے زندہ رہتا ہے۔

    سچ کی کونین کھا لیں جتنی جلدی ہو سکے، افاقہ شرطیہ ہے۔ جرمنی اور جاپان سے سیکھ لیں، سلطنت عثمانیہ کا انجام مت بنیں، ترکی کا نیا آغاز سمجھیں اور اُسے فالو کریں۔ برما کی طرح ریورس گئیر مت بنیں۔ بھارت اور بنگلہ دیش سے سیکھنے میں بھی کوئ حرج نہیں۔ کل کے دشمن، آج کے دوست، یورپ سے سیکھ لیں۔ قومیں کیسے بنتی ہیں، اسرائیل سے سیکھیں، سنگا پور سے سیکھیں۔ ہمسایوں سے دوستی کریں تاکہ ہر وقت حالت جنگ میں نہ رہیں اور امن کے پھل کھائیں۔ کفر کا نظام چل سکتا ہے، ظلم کا نظام نہیں چل سکتا، حضرت علی کا قول۔ 31 اگست ۲۰۱۴ کو عمران خان نے جلسے میں اسکا ذکر کیا۔

    کہیں سپین کے آخری دور کے مقرر، لکھاری، سامعین اور ناظرین پاکستان میں دوبارہ نمو دار تو نہیں ہو گئے، ذرا توجہ کریں۔اگر میں کچھ زیادہ بول گیا ہوں تو معاف کر دیں، آپ اپنے مزے جاری رکھیں۔ آئندہ مزوں کا ذکر نہیں کروں گا، بلکہ لسی پینا شروع کر دوں گا، آنکھیں کھلی رکھ رکھ کر تھک گیا ہوں، اب تو نیند بھی آرہی ہے۔ لیکن آنکھیں کھولی رکھوں گا نئے پاکستان کے انتظار میں۔ عمران خان نے اپنے سب وعدے پورے کیے، دیر ہو سکتی ہے لیکن اندھیر نہیں۔ تھوڑا سا انتظار کہ صبح ہونے والی ہے۔

    اردوگان انجیلہ مرکل اور مہیا تیر جیسے لیڈروں کی خواہش کرنیوالی قوموں کو پہلے ترکی، جرمنی اور ملائشیا جیسی قومیں بننا پڑتا ہے۔ صرف خواہش سے خوابوں کی تعبیر نہیں ملتی۔ اپنی ناجائز طاقت بھی ترک کرنی پڑتی ہے، اپنے ناجائز حقوق بھی ترک کرنے پڑتے ہیں، دوسروں کو جگہ دینی پڑتی ہے، دوسروں کو مساوی مواقع دینے پڑتے ہیں، قانون کو سب کیلئے برابر کرنا پڑتا ہے،اپنی انا کو دفن کرنا ہوتا ہے، نفرت کو محبت میں بدلنا ہوتا ہے، برداشت پیدا کرنی ہوتی ہے، اپنی ذات کو پیچھے کرنا ہوتا ہے، تب قومیں بنتی ہیں اور پھر اردوگان، مہاتیر ، لی کوان اور انجیلہ مرکل پروان چڑھتے ہیں ورنہ کئی اردوگان منظر عام پر آنے سے پہلے ہی گمنامی میں چلے جاتے ہیں۔