تحریک انصاف واحد جماعت ہے جو ایک شخصیت کے گرد گھومتی ہے باقی نیچے سب درباری ہیں، صحافی طلعت حسین

0
82

طلعت آپ اس سے بہتر تجزیہ کر سکتے ہیں، شاید آپ بھول گئے کہ 9 اپریل 2022 سے پہلے پی ٹی آئ زیادہ تر ضمنی الیکشن ہار گئی تھی، اسکا ووٹ بینک متاثر ہوا تھا، پی ٹی آئ کے لیڈرز اس کو محسوس کر رہے تھے، میں اسکا گواہ ہوں لیکن 10 اپریل 2022 کے بعد جو رجیم چینج آپریشن ہوا، اسنے عمران خان کو مقبولیت کے ساتویں آسمان پر بٹھا دیا، آج شفاف الیکشن کے ذریعے عمران خان کو حکومت کا موقع دیں اور اگر وہ کارکردگی نا دکھا سکا تو صرف 5 سال میں وہ اگلا الیکشن ہار سکتا ہے اردوگان مقبولیت کی معراج سے اب 50% مقبولیت پر آ چکا ہے، جمہوریت کی خوبی یہ ہے کہ کارکردگی فیصلہ کرتی ہے، لیکن بد قسمتی سے جمہوریت کو چلنے ہی نہیں دیا گیا بھٹو 1977 کا ری الیکشن ہار جاتا لیکن پھانسی دیکر پیپلز پارٹی کو نئی زندگی مل گئی، نواز شریف اور بینظیر دو شفاف الیکشن کی مار تھے لیکن انہیں دو دفعہ ہٹانے کا نتیجہ نواز شریف تین دفعہ وزیراعظم بن گیا اور پیپلز پارٹی آجتک بینظیر اور بھٹو کی موت کو بیچ رہی ہے تمام ممالک بلخصوص ترقی پذیر ممالک میں لیڈرشپ برانڈ سب سے بڑا ووٹ بینک ہوتا ہے نہرو، اندرا گاندھی، مودی، مہاتیر، اردوگان، مجیب الرحمان، نیلسن منڈیلا، ٹرمپ، مارگریٹ تھیچر، انجیلا مارکل، سب لیڈرشپ برانڈز تھے جنھیں عوام نے بار بار موقع دیا جو 9 اپریل 2022 کے بعد ہوا، وہ غیر معمولی قانون اور آئین شکنی ہے اور عوام نے اسکے خلاف ضد پکڑ لی ہے، یہ ردعمل ہے فاشسٹ حربوں کا، اُسے شخصیت پسندی میں لپیٹنے کی کوشش نا کریں، ایک اچھا صحافی اپنے تعصب کو کنڑول کرکے عوام کو ایک نیوٹرل اور وسیع منظر دیتا ہے، ایک لیڈر کی مقبولیت اور عوام کی محبت کو تعصب کی نگاہ سے مت دیکھیں کیونکہ تعصب اور صحافت دونوں اکھٹے نہیں ہو سکتے مسلہ صرف ایک شفاف الیکشن اور 5 سال حکومت پوری کرنے کا ہے، کوئ شخصیت پسندی باقی نہیں رہے گی، اسی فارمولے کو یورپ اور امریکہ میں کامیابی سے استعمال کیا گیا بلی کی گردن میں گھنٹی کون باندھے، بس اب سارا مسلہ یہ ہے، عمران خان کو اگر موقع ملے تو وہ عوام کی طاقت سے یہ کر سکتا ہے اسی لیے اسکے نام سے الیکشن کا پورا نظام اور روایتی جماعتیں اور انکے سہولت کار تھر تھر کانپ رہے ہیں، لیکن سمجھ یہ نہیں آتی کہ صحافی کیوں عمران خان سے تھر تھر کانپ رہے ہیں