تین معصوم بچوں کی آنکھوں سے جھلکتے سخت سوال

458

احمد جواد

ہم لوگ  گذشتہ 48سالوں اورخاص طور  پر پچھلے30سالوں میں اے پی ایس اور خدیجہ  سے لے کر زینب تک جیسے بے شمار دردناک سانحات کے جلو میں پلے بڑھے ہیں۔گذشتہ روز ساہیوال میں رونما ہونے والے واقعہ میں بچ جانے والی دو بہنوں اور ان کے بھائی کی تصویر نے  مجھےہلا کر رکھ دیا ہے جن  کی آنکھوں کے سامنے ان کے والدین  کو گولیوں سے بھون دیا گیا۔اس سے بڑا سانحہ بھلا  اور کیا ہوگا۔  مجھے ان  کی آنکھوں میں  چھپے کئی سوال دکھائی دئیے جو اس قوم اور اس کے سابقہ اور موجودہ حکمرانوں سے جواب مانگ رہی  تھیں۔

تمام ادارے بالخصوص پولیس  کے محکمے کو یحیٰ، بھٹو، ضیاء الحق، بینظیر، نواز شریف، زرداری اور گجرات کے چوہدریوں کے ادوار میں برباد کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ سارا نظام ہی زمین بوس ہو چکا ہے۔ہماری سلامتی خطرے میں ہے۔ ہمیں کسی بھی ریسٹورنٹ  میں زہریلے کھانے سے ہلاک کیا جا سکتا ہے۔ کوئی بھی آواہ گولی ہمارے جسم میں پیوست ہو سکتی ہے۔ ہمیں توہین مذہب کا الزام لگا کر موت کے گھاٹ اتارا جا سکتا ہے۔ ہم کسی معالج کی مسیحائی کے حادثے کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ہم نشے میں دھت کسی نودولتئیے  کی لینڈ کروزر کی زد میں آ کر کچلے جا سکتے ہیں۔کسی دہشت گرد  حملے میں پھٹنے والے  بم دھماکے میں ہمارے چیتھڑے اڑائے جا سکتے ہیں۔ہم آلودہ پانی پینے سے ہلاک ہو سکتے ہیں۔ ہم کئی دہائیوں تک انصاف کی تلاش میں عدالتوں کی سیڑھیوں پر ایڑیاں  رگڑتے رگڑتے جاں بحق ہو سکتے ہیں۔ ہم سی ڈی اے یا ایل ڈی اے  میں اپنے جائز حقوق کے حصول میں سال ہا سال کی سرگردانی کے دوران دل کے دورے کے باعث وفات پا سکتے ہیں۔ہم کسی اغوا کار کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھو سکتے ہیں یا کسی  کےغضب کا شکار ہو کر  اس جہان فانی سے کوچ کر سکتے ہیں۔

 اگر ہم بوجوہ زندہ ہیں تب بھی ہم دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پل پل سانس لیتے  ہوئےموت کی جانب گامزن  ہیں۔  

ہم ہر روز کشمیری بھائیوں کی موت کا سوگ مناتے ہیں اور اپنی قومی سلامتی کی پالیسی میں کشمیر پر توجہ مرکوز کر رکھی ہے۔ہم اپنی سرحدوں کےباہر نہیں بلکہ اپنی  سرحدوں  کے اندر ایک لاکھ افراد کی قربانی دے چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری قومی سلامتی  کی پالیسی ناقص ہے۔

ہماری افسر شاہی کا جن طاقت اور اختیار کے نشے  کی لت میں مبتلا ہے جو ہر سول  یا فوجی حکومت کو اپنی حسب منشا چلاتے ہوئےایسے اندھے کنویں میں دھکیل دیتا ہے جہاں روشنی  کا گذر تک نہیں ہوتا۔

ہماری کرپٹ اور نا اہل عدلیہ جس نے روز روشن میں ہمارے سماجی ڈھانچے کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دئیے ہیں اس کا چناؤ ایسے نظام کے تحت  کیا جاتا  ہےجو  اقربا پروری اور ذاتی مفادات کے بنیادوں پر قائم ہے۔

ہمارے سیاستدان ذاتی طمع اور مفادات کے حصول کے لئے پروان چڑھتے ہیں اور آقاؤں کی خواہشات  کی بجا آوری کے لئے اپنی سمت بدلتے رہتے ہیں۔

باقی بچتی ہے غریب قوم جس میں اشرافیہ شامل نہیں۔ہمارا نظام تہس نہس ہو چکا ہے۔ پارلیمانی جمہوریت  کا نظام ناکام ہو چکا، ہماری قومی سلامتی پالیسی  متروک ٹھہری۔ہمارے کینسر زدہ نظام کی اصلاح کے لئے  بڑی کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ عمران خان، چیف جسٹس اور آرمی چیف پر مبنی سہ رکنی قومی کونسل  بنائی جائے  جو سارے نظام  کی جراحت کرے۔اگر یہ تین دماغ مل بیٹھیں تو کوئی بھی پاکستان کا بال بیکا نہیں کر سکتا ورنہ قومی ترقی کا ہر خواب تنزلی کا شکار ہوتا رہے گا۔ہم نے مارشل لاء کا زمانہ دیکھ لیا، ہم نے پارلیمانی جمہوریت کا مزہ چکھ لیا، ہم نےنیم مارشل لاء کا تجربہ کر لیا،  ہم نے درآمد شدہ حاکموں  کوبھی آزما لیا۔ ہم نے  لوہاروں اور سنیما ٹکٹ بلیک کرنے والوں  کو اقتدار میں لا کر دیکھ لیا۔ ہم نے گجرات کے بلیک میلروں  کو بھی آزما لیا۔ہم  نےعدالتی مہم جوئی بھی بھگت لی۔پاکستان میں سب کچھ ناکام ہوچکا۔  

وزیر اعظم، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس  اور آرمی چیف سے میری گذارش ہے کہ ایک سہ رکنی کونسل قائم کی جائے جو عام آدمی کو مد نظر رکھ کر قومی نظام کی تبدیلی کا جائزہ لے۔یہ جائزہ سیاسی نعرہ زنی، فوج  کی دلجوئی یا عدلیہ کی انا پرستی سے بالا تر ہونا چاہئے۔ہمیں طاقت کے ان تینوں ستونوں کی اہمیت تسلیم ہے اور ماضی میں ان  تینوں ستونوں کے بظاہر اور بباطن تعلقات سے ہم آگاہ  ہیں۔ آج ان تینوں قوتوں کے اتحاد کا مقصد انصاف اور شفافیت کا حصول ہونا چاہئے اس کے بعد سب کچھ درست ہو جائے گا۔ کرپٹ لوگ جو فوج میں ہیں، عدلیہ میں  ہیں یا افسر شاہی میں موجود ہیں ان سب کو ایسے کوڑے دان میں پھینک دینا چاہئے جہاں سے وہ کبھی واپس نہ آسکیں۔

 اگر آپ کو  اس بات سے اتفاق نہیں تو نیوز میڈیا پر اپنے دل پسند ٹاک شو ،  اپنے پسندیدہ سوپ  ڈرامہ سے محظوظ ہوں یا سوشل میڈیا پر دل کی بھڑاس نکالیں۔ ذاتی حفاظت,سلامتی  اور دل خوش کرنےکے لئے اپنے گرد دیواریں کھڑی کر لیں۔آپ کے لئے سب کچھ دستیاب ہے۔

وہ قومیں  جو بڑی تیزی سے ایک دوسرے سے سبقت لےجانے میں جتی ہوئی ہیں، جو تیزی سے ترقی کر رہی ہیں، جو مواقع سے فائدے اٹھا رہی ہیں، جو کمزور قوموں کو مار رہی ہیں ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلیجئے۔ لہریں اور وقت کسی کا انتظار نہیں کرتے نہ ہی میں انتظار کروں گا۔اگرچہ اس میں میری خود غرضی کا اظہار ہوتا ہے پھر بھی  میں  اپنی حفاظت، سلامتی، صحت ، خوشحالی اور اپنے بچوں کے تازہ ہوا میں سانس لینے کے لئے میں اپنے دوسرے گھر کے طور پر ملائشیا کا انتخاب کروں گا۔ہمیں قائد اعظم، لیاقت علی خان، عبدالستار ایدھی  جیسے مخلص رہنما ملے ان میں سب سے آخر میں عمران خان کا نام آتا ہے۔ہمیں چاہئے کہ عمران خان کو ناکام نہ ہونے دیں کیونکہ ہم  کودوبارہ کوئی موقع نہیں ملے گا۔میرے جیسے کمزور لوگوں کو تو استعطاعت میّسر ہے کہ وہ ملک کو افراتفری کے عالم میں چھوڑ جائیں۔