سانحہ 1971

0
77

حامد میر واحد صحافی جو بلوچوں کیلئے ہمیشہ کھڑا ہوتا ہے، آخری دفعہ گولیاں بھی بلوچوں کی مارچ (ماما عبدالقدیر بلوچ)کی حمایت پر کھائ، انکے مرحوم والد پروفیسر وارث میر بنگالیوں کے ساتھ کھڑے تھے اور اس وجہ سے غدار کہلاۓ، انکی کتاب “میں نے پاکستان دو لخت ہوتے دیکھا” سانحہ 1971 کے بارے میں آنکھ کھولنے والا ہے بنگلہ دیش نے وارث میر مرحوم کو قومی ایوارڈ دیا جو انکے بیٹے حامد میر نے وصول کیا اور اس ایوارڈ پر ان پر بہت تنقید ہوئ اور دونوں باپ بیٹے کو غدار کہا گیا اور آج حامد میر اپنی خاندانی روایت کے مطابق بلوچوں کے حقوق اور ان پر ڈھاۓ جانے والے ظلم پر تنقید کرتا ہے آج پاکستان کی اکثریت بنگلہ دیش کی آزادی کو جائز مانتی ہے، مجیب کو محب وطن مانتی ہے لیکن 50 سال تک قوم کو مختلف کہانیوں سے لوری دی گئی اور اب 50 سال بعد قوم کو حقیقت کا احساس ہوا، عاصمہ جہانگیر کو غدار کہا جاتا تھا اور آج عاصمہ جہانگیر کے ویڈیو کلپس اور اقوال یاد کیے جاتے ہیں، لیکن اس حقیقت کو ماننے کا سب سے بڑا سہرا عمران خان کو جاتا ہے اور وہ اسکی سزا بھگت رہا ہے، جو ہم نے بنگالیوں کیساتھ کیا، کیا ہم دوبارہ تو غلطی نہیں دوہرا رہے؟ اب یہ بھی واضح ہو چکا ہے، فرعون کو بھول جاؤ بس یاد رکھو کہ ہر دور میں ایک طاقت کا نشہ یحیی خان ہوتا ہے، ایک محب وطن مجیب ہوتا ہے اور ایک غدار وطن بھٹو ہوتا ہے، تاریخ اپنے آپ کو ضرور دہراتی ہے لیکن انجام مختلف بھی ہو سکتا ہے