سایہ جو زمین اور انسان دونوں کو چاہئیے-احمد جواد

192
.

سایہ جو زمین اور انسان دونوں کو چاہیے۔

‎احمد جواد
مرکزی سیکرٹری اطلاعات پی ٹی آئ
Jawad.BTH@gmail.com

خوبصورت پھولوں اور آرائشی پودوں کی نسبت
‎سایہ دار درخت کافی اونچائی تک بلند ہوتے ہیں اور ان کی شاخیں دور دور تک پھیلی ہوتی ہیں۔

‎پاکستان میں گھروں کے صحن، گلیوں،سڑکوں، پارکس، ہاوسنگ سوسائیٹییز میں آرائشی پودے مسلسل نگہداشت مانگتے ہیں، اس کے لئے بھرپور محنت کے ساتھ کافی سرمایہ اور وافر پانی چاہیے ہوتا ہے۔

‎اس کے برعکس سایہ دار درختوں کو بڑی آسانی سے انتہائی سستے داموں پروان چڑھایا جا سکتا ہے ۔ سایہ دار درخت انسانوں، جانوروں اور گاڑیوں کے لئے سایہ فراہم کرتے ہیں، ماحول میں بہتری لاتے ہیں، بادل برسانے کا سبب بنتے ہیں اورپرندوں کو بحفاظت ٹھکانہ فراہم کرتے ہیں۔بلند و بالادرخت قدرتی حسن اور خوبصورت رہن سہن کا ماحول بخشتے ہیں۔یہ زیبائشی پودوں سے زیادہ خوبصورت بہار دکھلاتے ہیں۔
‎ہماری کمزور معیشت، از حد گرم موسموں اور ماحولیاتی آلودگی سے اٹے ہمارے علاقہ جات کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہم سایہ دار پودے لگائیں اور دوسروں کو لگانے کی حوصلہ افزائی کریں۔

‎گھروں، کارخانوں، دوکانوں، کمرشل پلازوں اور رہائشی سکیموں کو قانونی طور پر سایہ دار درخت لگانے کا پابند کیاجانا چاہیئے ۔

‎پانچ مرلے سے لے کر چند ایکڑوں کے رقبے میں چھوٹے پیمانے کے جنگلات متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔اگر درختوں کی شاخیں سات فٹ کی اونچائی تک رکھی جائیں تب بھی انسانوں کی آمدورفت میں کوئی رخنہ نہیں پڑے گا اوردرخت اپنی بلندی کی وجہ سے ارد گرد کی زمین کو وافر سایہ فراہم کرے گا۔

‎آرائشی پودوں کی اپنی تجارتی اہمیت ہے کیونکہ وہ کثیر سرمائے کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں۔تاہم اگر ہم پھولدار پودوں کی نسبت زیادہ سایہ دار درخت لگا لیں تو ان سے زیادہ پیسےبھی کما سکتے ہیں۔

ہمارے خطے کا موسم پھلوں کیلئے انتہائ موزوں ہے، اگر سایہ دار درختوں کے ساتھ ہم پھلوں والے پودے لگائیں تو ہمارا ملک نہ صرف غریب آدمی کیلئے پھلوں کی شکل میں ضروری غذا فراہم کرے گا بلکہ اس ملک کو اقتصادی طور پر فائدہ ہو گا۔

اگر ہم میں سے ہر کوئ اپنی زندگی میں درخت لگانا اپنا قومی فرض بنا لیں تو ہم دنیا کا سبز ترین ملک بن سکتے ہیں۔

عام طور پر ہم سر سبز لان اور ماحول کی تزئین آرائش کیلئے گھاس لگاتے ہیں، لیکن درخت لگانے میں کنجوسی کرتے ہیں، زیادہ تر ایک خوبصورت لان میں آپ کو اکا دکا درخت ملیں گے۔

زمین کو ٹھنڈا رکھنے کیلئے درخت سب سے بہتر اور کم لاگت کا موثر ترین حل ہے۔ گرمیوں میں اگر آپ گھاس کو ایک دن بھی پانی نہ دیں تو وہ جلنے لگتی ہے اور اگر گھاس کو چند ھفتے نہ کاٹیں تو وہ جڑی بوٹی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ درخت ایک دفعہ اپنی جڑیں پکڑ لے تو وہ بغیر پانی کے کافی عرصہ زندہ رہ سکتا ہے۔

آپ سوچیں آپ کا لگایا ہوا درخت دنیا میں ایک صدی سے بھی زیادہ زندہ رہ سکتا ہے، ایک معمولی لاگت سے آپ دنیا اور ماحول کی ایک صدی سے زیادہ خدمت کر سکتے ہیں۔ دنیا میں کوئ اور شے اتنی کم لاگت میں آپ کا نشاں بن کر زندہ رہ سکتی ہے۔ درخت کی اوسط عمر ۲۵ سال سے زیادہ ہے۔ کچھ درخت ھزاروں سال بھی زندہ رہتے ہیں۔دنیا کا قدیم ترین درخت امریکہ میں 4800 سال پرانا ہے۔ دنیا کے قدیم ترین درخت امریکہ، ترکی، ایران، چلی، ناروے میں پاۓ جاتے ہیں۔

پاکستان میں قدیم ترین درخت زیارت میں پاۓ جاتے ہیں لیکن ان کی حفاظت کاکوئ انتظام نہیں۔ بُوڑ کا درخت پاکستان کے قدیم ترین درختوں میں سے ہے، لیکن ہمارے بدقسمتی کہ کسی بھی شجر کاری مہم یا گھروں میں اب یہ درخت نہیں لگایا جاتا۔ اس درخت کا پھیلاؤ بڑا متاثر کن ہے۔

باغ جناح لاھور میں درختوں کی سینکڑوں اقسام ہیں اور دس سے بارہ درخت سو سال سے لیکر چار سو سال تک پرانے درخت ہیں۔

زندہ قومیں قدیم درختوں کی حفاظت کرتی ہیں اور ایسےدرخت سیاحت کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں۔کوالالمپور میں ۱۵۰۰ سو سال پرانا درخت ہر سال لاکھوں لوگوں کی توجہ کا مرکز بنتا ہے۔

چھانگا مانگا انسان کے ہاتھ کا لگایا ہوا دنیا کا سب سے بڑا جنگل تھا لیکن اس کی مسلسل کٹائ اور مزید پودے نہ لگانے سے اب مسلسل زوال پذیر ہے۔پاکستان میں صرف دو فیصد رقبے پر جنگلات ہیں۔

بدقسمتی سے ہماری قوم درخت دوست نہیں بلکہ درخت دشمن ہے۔اگر ۲۲ کروڑ عوام میں ہر فرد ہر سال صرف ۱۰ درخت لگاۓ تو ہر سال دو ارب سے زیادہ درخت لگائے جا سکتے ہیں۔ درخت غریب آدمی کو پھل، سایہ اور ضرورت کی لکڑی مہیا کرتا ہے۔ میڈیا، کاروباری ادارے، این جی اوز، سول سوسائٹی اور حکومت کو درختوں اور زیبائشی پودوں میں فرق سمجھانا پڑے گا، اور درختوں کو زیبائشی پودوں پر فوقیت دینی ہو گی۔

ہمارے گھروں کی چھتیں بھی درخت لگانے کیلئے استعمال ہوُسکتی ہیں، مغرب میں اسے روف گارڈن کہتے ہیں۔ بڑے گملوں میں نمبو، کینو، آڑو، سیب، امرود اور دوسرے پھل لگاۓ جا سکتے ہیں۔

درختوں کی دیکھ بھال قدرتی طریقے سے مشہور زرعی ماہر آصف شریف کے قدرتی طریقے سے کریں، یعنی گملوں کو ملچ (گرے ہوۓ پتوں، بچی کھچی سبزیوں، پھلوں کا مکس) سے ڈھانپ دیں، پانی صرف اتنا دیں جو پودا جذب کر سکے۔گوڈی کبھی مت کریں، پودے کو گملے میں زیادہ سے زیادہ اُوپر کی طرف لگائیں تاکہ جڑ کو نیچے زیادہ سے زیادہ جگہ ملے، کسی قسم کا سپرے اور کھاد کا استعمال مت کریں۔ ان ہدایات پر عمل کریں اور اسکا نتیجہ جلد آپ پودوں میں دیکھیں گے۔ پودوں میں حشرات پودے کی اصل حفاظت ہیں، انہیں گوڈی، سپرے، کھاد اور زیادہ پانی سے مت تباہ کریں۔

دنیا کا قدیم ترین جنگل ایمازون فارسٹ بھی ایک قدرتی جنگل ہے جہاں نہ تو کبھی کسی نے ہل چلایا یا گوڈی کی، نہ سپرے ہوۓ، نہ کھادیں ڈالی گئیں، ایمازون کو دنیا کے پھیپھڑے بھی کہا جاتا ہے کیونکہ ایمزون دنیا کی ۲۰ فیصد آکسیجن پیدا کرتا ہے، ایمزون میں دنیا کے ایک تہائ درخت، پودے اور حشرات ہیں، ایمزون زمین کے چار فیصد رقبے پر واقع ہے۔ ایمزون میں ۵۰ فیصد بارش صرف جنگلات کی وجہ سے ہے۔اسی لیے ہمیں جنگلات لگانے کی ضرورت ہے، پاکستان کا بلین ٹری پروگرام سیاست سے بالا تر ہو کر تمام صوبوں میں جاری رہنا چاہیے۔

ہمارے شہر لاھور، کراچی، پشاور، کوئٹہ، فیصل آباد، دنیا کے آلودہ ترین شہر ہیں۔ پاکستان دنیا کا دوسرا آلودہ ترین ملک ہے۔ہمارے سے زیادہ آلودہ صرف بنگلہ دیش ہے۔

‎بہترین سایہ دار درختوں کی لسٹ ملاحظہ کریں اور جہاں موقع ملے ان درختوں کو لگائیں
۱- ارجن
۲۔سُکھ چین
۳۔ پلکان
۴- آمل تاس
۵-نیم
۶-بکین
۷- مورینگا
۸- الستونیا
۹-جامن