لداخ پر اصل حقیقت احمد جواد

574

اس تنازعہ سے ہماری توقعات حقیقت پسند ہونی چاہیے۔چائنہ ، انڈیا اور انٹرنیشل میڈیا میں کہیں پر بھی ایسی رپورٹنگ نہیں ہوئ جیسی ہم میڈیا اور سوشل میڈیا پر لداخ کے حوالے سےکر رہے ہیں۔ ہماری توقعات ہماری اپنی طاقت پر منحصر ہونی چاہیے۔ چین اپنے فیصلے اپنے قومی مفاد کو دیکھ کر کرے گا۔ہمیں اپنی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ ھماری جنگ کوئ اور نہیں لڑے گا۔کشمیر ہم نے آزاد کرانا ہے، کوئ جھولی میں ڈال کر نہیں دے گا۔

آپکا دشمن اپ نے لڑنا ہے، چین نے نہیں لڑنا۔ ہمیں قوم بننا چاہیے تماشائ نہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسا تاثر دیا گیا جیسے چین نے لداخ فتح کر لیا ہو۔ انڈیا امریکہ کے بعد چین کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ ۵۶ سال سے دونوں ممالک میں کوئ جنگ یا کوئ بارڈر پر شیلنگ تک نہیں ہوئ۔اپنی عضمت اور اپنی طاقت کو اپنے آپ میں پیدا کریں نا کہ دوسروں میں ڈھونڈنے کی کوشش کریں۔

اب اصل صورتحال بھی پڑھ لیں۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا ہے کہ چین – بھارت سرحد پر صورتحال “عام طور پر مستحکم اور قابل کنٹرول ہے۔”

ژاؤ نے بیجنگ میں ایک نیوز کانفرنس میں کہا ، “فریقین سے بات چیت اور مشاورت کے ذریعے مناسب طریقے سے حل کرنے کے لئے ، دونوں فرنٹ لائن فوجی یونٹوں اور ان کے متعلقہ سفارت خانوں کے ذریعے بات چیت کر رہے تھے۔

ژاؤ نے کہا ، چین فریقین کے ذریعے طے پانے والے معاہدوں کی پاسداری اور “چین اور بھارت کے مابین سرحدی علاقے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لئے پرعزم ہے۔”

ژاؤ لیجیان: حدود کے معاملے پر چین کا مؤقف مستقل اور واضح ہے۔ ہم دونوں ممالک کے رہنماؤں کے ذریعے طے پانے والے اہم اتفاق رائے کو پوری شدت سے نافذ کررہے ہیں ، دونوں ممالک کے مابین طے شدہ متعلقہ معاہدوں کی سختی سے پابندی کرتے ہیں ، اور چین – بھارت کی سرحدی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے ساتھ ساتھ چین اور بھارت کی سرحد میں امن و استحکام کے لئے پرعزم ہیں۔ علاقوں. اس وقت چین – بھارت سرحدی علاقوں میں مجموعی صورتحال مستحکم اور قابل کنٹرول ہے۔ سرحد سے متعلق امور پر ، چین اور ہندوستان کے مابین رابطے کے ٹھوس طریقہ کار اور چینلز موجود ہیں ، اور دونوں فریق باہمی بات چیت اور مشاورت کے ذریعہ مناسب طریقے سے حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

مئی کے شروع میں ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست سکم میں ایک سرحدی محاذ پر چینی اور ہندوستانی فوجیوں میں جھگڑا ھوا-

ہندوستانی میڈیا نے ملک کے فوجی سربراہ ، جنرل منوج مِکونڈ ناراوانے کے حوالے سے بتایا ہے کہ لداخ اور سکم میں پیش آنے والے واقعات کی وجہ سے “دونوں اطراف سے جارحانہ ردعمل ھوا۔

اگرچہ اس طرح کی جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہیں ، لیکن حالیہ ہفتوں میں لداخ کی وادی گالان میں تعطل مزید بڑھ گیا ہے ، جہاں دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی ایک دوسرے سے صرف چند سو میٹر کیمپ میں ڈیرے ڈال چکے ہیں۔

ہندوستان اس خطے کو ایک فضائی پٹی سے جوڑنے والی وادی گالے کے راستے اسٹریٹجک روڈ بنا رہا ہے۔

چین اور ہندوستان کا سرحدی تنازعہ تقریبا 3500 کلومیٹر (2،175 میل) سرحد کا احاطہ کرتا ہے جسے دونوں ممالک لائن آف ایکچیولوٹ کنٹرول کہتے ہیں۔ ان ممالک نے 1962 میں جنگ لڑی لیکن اس کے بعد کبھی کوئ گولا بارود استعمال نہیں ہوا۔صرف کبھی کبھار ھاتھا پائ یا زیادہ سے زیادہ پتھراؤ ہوا۔