نیا پاکستان ضرور بنے گا۔ احمد جواد مرکزی سیکرٹری اطلاعات

237
.

آٹو انڈسٹری کے حوالے سے کچھ گزارشات ہیں جو کہ میں پیش کر رہا ہوں پاکستان میں تقریبا چالیس سال پہلے لوکل اسمبل گاڑیوں کی صنعت کا آغاز ہوا اور ان چالیس سالوں میں اس لوکل آٹو انڈسٹری نے عوام کا کس طریقے سے استحصال کیا، میں آپ کو بتانا چاہوں گا، گاڑیوں کی صنعت کا آغاز اس مقصد کے تحت کیا گیا تھا کہ لوکل مینوفیکچرنگ ہوگی لیکن آج تقریبا 40 سال گزرنے کے بعد بھی اس آٹو انڈسٹری کے پرزے تقریبا 50 سے 60 فیصد ابھی بھی باہر سے امپورٹ کیے جاتے ہیں ہیں اس لوکل انڈسٹری کا مقصد یہ تھا کہ یہ مہارت پاکستان کے اندر پیدا ہو پاکستان کے اندر نوکریاں پیدا ہو اور پاکستان کو اپنا قیمتی زرمبادلہ ان کو پرزوں کی امپورٹ پر خرچ نہ کرنا پڑے لیکن یہ مقصد 40 سال گزرنے کے بعد بھی حاصل نہیں ہو سکا،

اس کے بعد دوسرا سوال ان کی قیمت کے حوالے سے اٹھتا ہے کہ وہی گاڑی وہی ماڈل جو پاکستان میں بھی لوکل اسمبل ہوتا ہے اور انڈیا میں بھی ہوتا ہے، پاکستان میں اسکی قیمت ۳۰ سے ۴۰ فیصد ذیادہ کیوں ہے،ہمیں اس سوال کا جواب ڈھونڈنا چاہیے۔

اس کے بعد تیسرا عوام کے ساتھ ظلم یہ ہو رہا ہے کہ جب ایک صارف گاڑی کی بکنگ کرواتا ہے تو وہ سو فیصد اس کی قیمت ادا کر دیتا ہے اور اس کے بعد اسے 3 مہینے 6 مہینے ایک سال کا ٹائم دے دیا جاتا ہے اور وہ ڈلیوری ٹائم آنے پر بھی اس کو مزید دو تین مہینے اس کو دیر کردی جاتی ہے، یہ جو کم و بیش ایک سال کا ٹائم ہے جس میں سو فیصد پیمنٹ لے لی جاتی ہے اس کا دس فیصد انٹرسٹ ریٹ جو ہے یہ آٹو انڈسٹری کی جیب میں جاتا ہے اور جتنا وہ ڈلیوری کو لیٹ کرتے ہیں اتنا ہی ان کو اس کا فائدہ ہے آپ صرف اس سے اندازہ کرلیں کہ اگر ایک کار انڈسٹری ارب روپیہ کا آڈر لیتے ہیں اور اس کو ایک سال تک اپنی اکاؤنٹ میں رکھتے ہیں اور وہ ان کو گاڑی مہیا نہیں کرتے تو سیدھا سیدھا دس بارہ کروڑ تو صرف سود سے کما لیتے ہیں ہیں تو یہ کتنا ظلم ہے جو عوام کے ساتھ پچھلے چالیس سال سے ہو رہا ہے

پھر اس کی سیفٹی پر آ جائیں اس کے سیفٹی سٹینڈر جو ہیں وہ اتنے گھٹیا قسم کے رکھے گئے ہیں اور جس کی وجہ سے میرا خیال ہے کہ ہر سال پاکستان میں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں جانیں چلی جاتی ہے اس کا خون بھی آٹو انڈسٹری کے سر کے اوپر ہے جو کہ اپنے منافع کو بہتر کرنے کے لئے انسانی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

پھر اس کی کوالٹی کے اوپر آ جائیں آپ کسی ایک ماڈل کی گاڑی لوکل سمبل پاکستانی اور امپورٹڈ گاڑی کا موازنہ کر لیں آپ زمین اور آسمان کا فرق نظر آئے گا، لوکل اسمبل گاڑی کا سٹینڈرڈ اور اس کی کوالٹی انتہائ گھٹیا ہوتی ہے

یہ وہ تمام سوالات ہیں جو کہ پچھلے چالیس سال سے موجود ہیں اور اب امید ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اس کے حوالے سے قانون سازی کرے گی اور یہ بھی آئی پی پیز ، شوگر، گندم مافیا اور دوسرے انڈسڑریل مافیاز کی طرح سے عوام کا استحصال کر رہی ہے اس کے خلاف بھی ایکشن ہونا چاہئے اس کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے

یہاں میں اپنا ذاتی تجربہ دیتا ہوں کہ کس طریقے سے گاڑیوں کی ڈیلیوری کو لیٹ کیا جاتا ہے، گاڑی کی بکنگ کے بعد جب ڈلیوری کا ٹائم بھی گزر گیا اور گاڑی نہ ملی تو میں نے منسٹری آف انڈسٹری کو خط لکھا تو فیڈرل سیکرٹری سے جائنٹ سیکریٹری تک کسی نے جواب دینا پسند نہ کیا۔

اور وہ اس لئے کہ ہماری بیوروکریسی عوام کو غلام یا اپنی رعایا سمجھتے ہیں۔ اور اپنے آپ کو پبلک سرونٹ نہیں سمجھتے اس لئے اگر آپ ان کو کوئی خط لکھیں تو یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کو اس کا جواب دیں اس لیے مجھے بھی کوئی جواب نہیں ملا- اس کے بعد میں نے وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کو خط لکھا اور انہوں نے منسٹری آف انڈسٹری اور کار انڈسٹری کے نمائندے کو بلا لیا ،وفاقی محتسب نے منسٹری آف انڈسٹری سے پوچھا جی آپ کیوں نہیں ان شکایات کا ازالہ کرسکتے، جبکہ تمام اجازت نامے اپ دیتے ہیں پھر آپ ان کو کنٹرول کیوں نہیں کر سکتے اوروفاقی محتسب سیکرٹیریٹ نے سیکریٹری سے رپورٹ مانگ لی۔ اسی طرح آٹو انڈسٹری کے نمائندے سے پوچھا گیا کہ آپ بتائیں کہ جو ڈیٹ آپ نے دی تھی اس کے بعد کتنی ایسی گاڑیاں جو ڈیلیور نہیں کیں گئیں اور پھر جو تعداد ان کو بتائی گی وفاقی محتسب نے حکم دیا کہ آپ جون کے پہلے ہفتے تک یہ تمام گاڑیاں ان تمام صارفین کو ڈلیوری کروائی جاۓاور مجھے اس کی رپورٹ جمع کرائ جاۓ، تو کہنے کا مقصد یہ ہے حکومت کے اندر جو بھی کام کرنا چاہے گا وہ کر سکتا ہے۔
وفاقی محتسب کا ادارہ صدر پاکستان کے نیچے آتا ہے اور میں صدر پاکستان کو وفاقی محتسب سیکریٹریٹ کی اچھی کارکردگی پر مبارکباد دیتا ہوں

موٹر وھیکل آرڈینینس ۱۹۶۹ تمام برائی کی جڑ ہے-اس کے تحت آٹو انڈسٹری میں تبدیلی نہیں آ سکتی۔ منسٹری آف انڈسٹری کو لیڈ کرنا ہو گا۔

الیکٹرک گاڑیوں کی پالیسی پر تمام ممالک میں عملدرآمد ہو چکا ہے۔ ۲۰۳۰ تک دنیا 40% تک الیکٹرک گاڑیوں پر شفٹ ہو جاۓ گی۔ تمام ممالک میں انجن والی گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کو پھینکا جا رھا ہے، اور ایسے ممالک جہاں آٹو انڈسٹری مافیا کی طرح موجود ہے وہ اس متروک ٹیکنالوجی کو کچھ اور عرصے تک استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ نواز شریف کے دور میں اس پر بلکل کام نہیں ہوا۔ اب عمران خان کی سربراہی میں الیکٹرک وہیکل پالیسی آگئی ہے۔ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی کم کر دی گئی ہے لیکن آٹو انڈسٹری کا مافیا دو ماہ گزرنے کے باوجود اسک SRO نکلنے نہیں دے رہا۔ آٹو انڈسٹری کا مافیا الیکٹرک وہیکل پالیسی کو ناکام بنانے کیلئے جت گیا ہے۔

پاکستان کیلئے الیکٹرک گاڑیاں اس لیئے بھی ضروری ہے کیونکہ ہمارا قیمتی زرمبادلہ تیل کی امپورٹ میں ضائع ہوتا ہے۔ ذرا سوچیں
الیکٹرک وہیکل پالیسی سے اس ملک میں انقلاب آ سکتا ہے۔ اس ملک میں دو کروڑ موٹر سائیکل اگر الیکٹرک موٹر سائیکل بن جائیں تو صرف ایک شہری کو مہینہ کے تین ہزار کی بچت ہو سکتی ہے۔ یہ دو کروڑ لوگوں کو مستقل ۳۰۰۰ روپے کی ماہانہ بچت کا پلان ہے۔ یہ کسی بھی بینظیر اِنکم یا احساس پروگرام سے بڑا فلاح و بہبود کا پروگرام بن سکتا ہے۔

ذرا سوچیں کہ سڑک پر ٹریفک رواں دواں ہو اور آپ کو مکمل خاموشی ملے کیونکہ الیکٹرک گاڑیاں کی آواز نہیں ہوتی۔ ذرا سوچیں کہ آپ کی موٹر سائیکل اور گاڑی کی مینٹیننس نہ ہونے کے برابر رہ جاۓ۔

الیکٹرک وہیکل انقلاب ترقی پذیر ممالک کیلئے ایک سنہرا موقع ہے۔ جو اس موقع سے جلد فائدہ اُٹھاۓ گا وہ ترقی کے دوڑ میں آگے نکل جاۓ گا۔ چین میں تقریباً تقریباً ۳۰ کروڑ الیکٹرک موٹر سائیکل سڑکوں پر چل رہے ہیں۔پینتس لاکھ الیکٹرک کار چل رہی ہیں۔ انڈیا بڑی تیزی سے الیکٹرک پالیسی پر گامزن ہے۔ یاد رہے کہ انڈیا نے سولر اور ونڈ انرجی پالیسی کا آغاز ۲۰۱۰ میں کیا اور آج 80,000 میگا واٹ بجلی سولر اور ونڈ سے پیدا کر رہا ہے۔ یہ وہی دور ہے جس میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں نے اس انڈسٹری میں روڑے اٹکانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ ایک دفعہ پھر انڈیا الیکٹرک وہیکل انڈسٹری میں ہم سے آگے ہے۔ ہمیں اس میں جلدی کرنی ہو گی۔ آٹو انڈسٹری مافیا کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔یہ پاکستان کے مستقبل کا سوال ہے۔

وقت آ گیا ہے اب عوام کی سنی جاۓ اور مافیا کی پکڑ ہو۔ انشااللہ نیا پاکستان ۔