پاکستان میں دن دیہاڑے پڑنے والا تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ

265

پاکستان میں دن دیہاڑے پڑنے والا تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ

از: احمد جواد

گزشتہ 25 برس سے پاکستان آئی پی پیز سے 20 سے 27 سینٹس فی یونٹ کی مہنگی ترین بجلی بجلی خرید رہا ہے، جبکہ آج 4 اور 6 سینٹس فی یونٹ جیسے نرخوں پر شمسی اور ہوائی توانائی دستیاب ہے۔
نوے کی دہائی میں طے پانے والا آئی پی پیز کا معاہدہ شاید دنیا کا بدترین معاہدہ تھا اور پیپلز پارٹی کا احسان عظیم ہے کہ جب دنیا پانی اور کوئلے سے پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار کررہی ہے، ہم تیل سے بلحاظ شرح دنیا کی مہنگی ترین بجلی پیدا کررہے ہیں۔

اب یہ موقع ہے کہ امر ربی کے طور پر آئی پی پیز کے معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے یا انہیں قومیا لیا جائے۔ جن حالات کا ہمیں سامنا ہے اس میں ہم یہ کرنے میں حق بجانب ہیں۔

25 برس میں کیا ہمیں کبھی اندازہ نہیں ہوا کہ ان آئی پی پیز نے کیسے ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈالا؟

ہماری جہالت بچ نکلنے میں ڈاکوؤں کی معاون ہے۔ آج بھی بہت سے سورماء انکی حمایت میں کھڑے ہوجائیں گے۔

آئی پی پیز پاکستان کی تاریخ میں دن دیہاڑے پڑنے والا سب سے بڑا ڈاکہ ہے۔ ان آئی پی پیز کیلئے 80% سرمایہ پاکستانی بنکوں نے ادا کیا جبکہ بطور ایکوٹی محض 20% رقم ہی ان آئی پی پیز نے مہیا کی۔

یہاں تک کے اس ڈاکے کو محفوظ بنانے کیلئے یہ لندن کے حوالے سے ثالثی کی شق معاہدے کا حصہ بنانے میں بھی کامیاب رہے۔

ان 25 برسوں کے دوران ہر کارخانے نے اربوں کمائے اور پاکستان کو گردشی قرضوں کے جال میں جکڑے رکھا۔

ہر محب وطن پاکستانی ان آئی پی پیز کو اس وقت تک باقاعدہ شرم دلاتا رہے جب تک کہ لٹیروں کا یہ خاندان پاکستان کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کرتا۔

آئی پی پیز کو ملک کے سب سے بڑے ڈاکو قرار دیا جانا چاہئیے.

رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے اسے آگے پھیلائیے. بعض فارغ العقل اب بھی اس آفت کا پس منظر اور تاریخ نہیں سمجھیں گے.

ملک بچا لیجئے یا آئی پی پیز! ڈاکے کا تحفظ کرلیجئے یا پاکستان محفوظ بنا لیجئے! وقت آن پہنچا ہے کہ ان آئی پی پیز کے 25 برسوں کی فرانزک پڑتال کی جائے۔ وقت آگیا ہے کہ لٹیروں کے چہروں سے نقاب اتارے جائیں۔