پاکستان کے عدالتی اور سرکاری نظام کے منفرد کارنامے

0
150

پاکستان کے عدالتی اور سرکاری نظام کے منفرد کارنامے

مجرم خود ساختہ علاج کیلئے جیل سے نکل کر ملک سے باہر جا سکتا ہے

تین ماہ کی عدالتی اجازت سے چار سال ملک سے باہر رہ سکتا ہے اور عدالتیں چپ کا روزہ رکھ لیں

مجرم کی وطن واپسی پر پاکستانی سفیر سرکاری پروٹوکول دیتا ہے

مجرم کی واپسی سے پہلے عدالتیں گرفتار نا کرنے کی یقین دہانی کراتی ہیں

مجرم پاکستان واپسی سے پہلے لندن، دوبئی اور سعودی عرب میں خاص میٹنگز کرتا ہے

مجرم کے آنے سے پہلے مجرم کی جگہ بائیو میٹرک کوئ بھی اور کر سکتا ہے

پاکستان کی تاریخ میں پہلا مجرم جسے ضمانت ملی، ورنہ ضمانت صرف ملزم کو ملتی ہے

سزا یافتہ مجرم کی ضمانت سے پہلے اُسکے جلسے کے پوسٹر پورے ملک میں آویزاں کیے جاتے ہیں، کسی زمانے میں بھاگے ہوۓ مجرم کو پکڑنے کے اشتہاری پوسٹر آویزاں ہوتے تھے، یعنی ضمانت سے پہلے ہی جلسے کی تیاری

اور ہاں اسی ملک میں 200 سیاسی مقدمات کا ریکارڈ بھی قائم ہوا، پاکستان میں رہتے ہوۓ لاہور اور اسلام آباد میں ضمانت کیلئے خود حاظر ہونے کی شرط رکھی گئی، زخمی ہونے کے باوجود بائیو میٹرک خود کرانے کی شرط رکھی، ضمانت کے باوجود احاطہ عدالت سے گرفتار کیا گیا اور مقدمات کیا ہیں؟ امریکہ کے احکامات کو کابینہ سے ڈی سائفر کروا کے عوام کو کیوں بتایا؟ قانون کے مطابق سرکاری تحائف کیوں لئے؟ اور قانون کے مطابق کیوں فروخت کیے؟ چندے سے القادر یونیورسٹی کیوں بنائ؟ برطانیہ سے 200 ملین ڈالر کیوں پاکستان سپریم کورٹ اکاؤنٹ میں آنے دیے؟

نواز شریف سے موازنہ کرنیوالوں کیلئے بس یہ یاد رکھیں، عمران خان کا دنیا کے کسی ملک میں ایک فارن اکاؤنٹ نہیں, کوئ ایک فارن اثاثہ نہیں؟ تمام ملکی اثاثے یا تو وراثتی ہیں یا ایک لاکھ روپے کینال والی بنی گالا کی آج سے 20 سال پہلے کی زمین ہے اور اُس پر بھی سیاسی لیڈرز میں سادہ ترین گھر ہے جو کہ ایک میجر کے گھر سے بھی سادہ ہے

اب کوئ سوچے کس بات پر ناقابل ضمانت 200 مقدمات پر عمران خان کو ڈھائ ماہ سے سخت ترین جیل میں رکھا ہوا ہے؟ لیکن سوچنا اور بولنا ہی تو منع ہے اُس ملک میں جو ہر 14 اگست کو آزادی کا جشن مناتا ہے؟ کیا یہ آزادی ہے؟ انگریز کے دور میں غازی علم دین کو بھی ثابت شدہ قتل پرپھانسی دی گئی تو اوپن ٹرائل ہوۓ اور اپنے دفاع کا بھرپورا موقع دیاگیا