چلتی ٹرین سے اُتر کے دکھاؤ

0
127

چلتی ٹرین پر چڑھنا تو سب کو آتا ہے، مزا تو تب ہے کہ چلتی ٹرین سے اُتر کے دکھاؤ، صرف ہمت والے ایسا کر سکتے ہیں

اختلاف، بغاوت، استعفی، حاکم وقت پر تنقید،طاقتور پر تنقید، مشکل حالات میں اپنے موقف پر ڈٹے رہنا، مظلوم کیساتھ کھڑے ہونا، ظالم کیخلاف کھڑے ہونا، یہ سب اصول پسند، دیانت دار اور سچے لوگوں کا شیواہے، جو 76 سال سے ضائع ہو رہے ہیں، اپنے بچوں کو اگر یہ سکھانا ہے تو اپنے بچوں کو ملک سے باہر لے جائیں ورنہ وہ تمام عمر میرٹ کے انتظار میں سسکتے رہیں گے

چمچہ گیری، حاضر جناب، جی حضوری،وٹس ایپ گروپس میں واہ واہ، چڑھتے سورج کو سلام، ہوا کے رخ پر چلنا، چلتی ٹرین میں سوار ہونا، معاشرے کے بدترین ناسوروں کا وطیرہ ہے جو 76 سال سے معاشرے کا خون چوس رہے ہیں، اگر اپنے بچوں کی ترقی دیکھنی ہے تو یہ اطوار سکھاؤ، وہ وزیراعظم، صدر، وزیراعلی، گورنر، وزیر، طاقتور اور مقتدر اشرافیہ، ٹاپ صحافی، ٹاپ سول سرونٹ، ٹاپ منصف بن جائیں گے اور اعلی نوکریاں دروازے پر دستک دیں گی، جو رہ جائیں گے، انہیں قومی ایوارڈ مل جائیں گے، ہمارے معاشرے میں ترقی کا یہی معیار ہے، اُمید ہے عمران خان واپس آ کر اس معیار کو بدلیں گے، تبھی تبدیلی کا احساس ہو گا، مجھے فخر ہے کہ میں نے اس تبدیلی کے مشن میں عملی طور پر حصہ ڈالا، صرف باتیں نہیں کیں، اس مشن کا حصہ رہا اور اب بھی اس مشن کیساتھ جڑا ہوں، ورنہ چلتی ٹرین سے اُترنا کتنے لوگوں کو نصیب ہوتا ہے اور کتنے اسکی ہمت کر سکتے ہیں؟