کراچی کب تک یتیم رہے گا۔ احمد جواد (سنٹرل سیکریٹری انفارمیشن پی ٹی آی) ای میل: Jawad.BTH@gmail.com

401
.

1982 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایف ایس سی کرکے چھٹیوں میں پہلی دفعہ کراچی گیا اور کراچی بہت پسند آیا۔ واپس آکرپاکستان نیوی میں اپلائ کر دیا۔ فروری 1983 میں ایک کیڈٹ کے طور پر پاکستان نیول اکیڈیمی جوائن کر لی۔ منوڑا، کیماڑی،ڈاکیارڈ، ٹاور، صدر، کارساز میں اپنی زندگی کے قیمتی سال گزارے۔ کراچی کے درد کو محسوس کرتا ھوں، زندگی کے ۱۶ سال کراچی میں گزارے۔ کراچی کے مزے، اس کے رات بھر جاگتے بازار، امن وامان، خوبصورتی، صفائ، اس کے ہاؤس فل سینما، سمندر وں پر ٹریننگ، ساحلوں پر نہانا، آسٹر راکس پر غوطہ خوری، باکس بے پر پکنک، کراچی کی شستہ اردو، بنس روڈ کی نہاری اور گولہ کباب، پی آئ ڈی سی کے برگر اور پان۔ آبدوز میں گزارے وقت میں سمندروں کی گہرائیوں کو ناپا اور مشکل ترین حالات میں جینے کا ڈہنگ سیکھا۔سب کچھ یادوں کے تیز رفتار گھوڑے پر سوار گزرتا گیا۔

کوئ پنجابی، پٹھان یا اردو سپیکنگ کا ذکر نہیں تھا۔ ہم سب صرف پاکستانی تھے۔ پاکستان نیول اکیڈیمی میں ایک ہی کلاس میں تمام صوبوں اور علاقوں سے کیڈٹ ہوتے تھے۔ کبھی احساس ہی نہیں ھوا کہ کوئ شیعہ ہے یا سنی حتی کہ احمدی ہے، کوئ کشمیر سے ہے، کوئ ہنزہ سے ہے اور کوئ پٹھان ہے یا سندھی یا بلوچی یا پنجابی ہے۔ ہماری دوستیوں کی بنیاد ان امتیازات سے بالاتر تھی۔

کراچی بزنس اور انڈسٹری کا مرکز تھا۔ انتہائ پر سکون اور پر امن شہر۔ کراچی ہر وقت جاگتا تھا۔ اسکے پارکس، تفریحی مقامات سب کچھ بہت زبردست تھا۔ کلفٹن اور ہاکس بے پاکستان کے دوسرے علاقوں سے آۓ ہوۓ لوگوں کیلۓ پر کشش مقامات تھے۔ پاکستان نیوی کا گھر کراچی ہے اور کراچی والے نیوی کو پسند کرتے ہیں اور کراچی کے نوجوانوں کی بڑی تعداد پاکستان نیوی میں شامل ہوتی ہے۔

پھر الطاف حسین آگیا۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ ہم سب پاکستانی سے پنجابی، پٹھان، سندھی اور مہاجر بن گئے۔ حالات خراب ہونے کا بھی اندازہ نہ ھوا جبتک کہ ھماراایک کورس میٹ یونیفارم میں دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا۔ پھر ایک نہ ختم ہونے والا خونریزی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لاشیں، دھماکے اور لوٹ مار۔ کراچی میں یونیفارم میں نکلنے پر پابندی لگ گئ۔ بھتہ، اغوا، بوری بند لاشیں، ٹارگٹ کلنگ، بم دہماکے، ہڑتالیں، خوف و ہراس معمول بن گیا۔کراچی دنیا کے غیر محفوظ ترین شہروں میں شمار ہونے لگا۔
بزنس مین اور انڈسٹری بنگلہ دیش اور ملائشیا کی طرف بھاگنے لگے۔ میں نے یہ سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا۔

مشرف کے دور میں ایم کیو ایم (الطاف حسین گروپ) کا کراچی میں راج تھا۔ مشرف نے کالا باغ ڈیم بنانا چاہا، الطاف حسین کھڑا ہو گیا اور مشرف کو مجبور کر دیا اور کالا باغ ڈیم دفن ہو گیا۔

ضیا الحق کی تخلیق الطاف حسین جسے پیپلز پارٹی کے مقابلے پر لایا گیا، اب وہ فریکنسٹائن بن چکا تھا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مقابلے میں زبان کی بنیاد پر لسانی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کی گئ، جو کام یاب تو نہ ھوئ لیکن کراچی کو اگلے ۳۰ سال تک ایک عذاب میں مبتلا کر گیئ۔ایسے تجربات ملٹری ڈکٹیٹر شپ ہی کر سکتی ہے۔اور الطاف حسین کے بھاگنے کے بعد ایم لیو ایم کی کمر ٹوٹ گیئ، تو مشرف نے ایم کیو ایم کو دوسری زندگی دی۔ ایک دفعہ پھر ملٹری ڈکٹیٹر نے ملک کو تجربہ گاہ بنایا۔ کراچی کو تباہ کرنے میں ضیا الحق، الطاف حسین اور مشرف، زرداری کو ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی نے کراچی کا ووٹ بینک کھونے کے بعد کراچی کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا اور ایک تماشائ کی طرح کا کردار ادا کیا۔ بینظیر بھٹو کا ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ایک کامیاب آپریشن تھا۔

ضیا الحق کے تجربات کے بعد کراچی یتیم ہو گیا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے کراچی کو ایک سودے سے زیادہ نہ سمجھا۔ مشرف نے ایم لیو ایم کے کمزور ہوتے ہوۓ وجود کو ایک بار پھر سہارا دیا۔ آخر ہر ملٹری ڈیکٹیٹر نے سیاسی افہام و تفہیم کے نام پر سودے کرنے ہوتے ہیں۔ کراچی کا پھر سودا ہوگیا۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے اپنی سیاسی حکمت عملی میں کراچی کو ایک سودے بازی کا حصہ بنا لیا۔ دونوں جماعتیں نے کراچی کو جلنے کیلۓ چھوڑ دیا۔کراچی جلتا رہا اور باقی پاکستان صرف تماشا دیکھتا رھا۔

جماعت اسلامی کے نعمت اللہ اور ایم کیو ایم کے مصطفی کمال نے میئر کے طور پر کراچی میں اچھا کام کیا۔ راحیل شریف کے ضرب عضب میں لیفٹینینٹ جرنل رضوان اختر نے ڈی جی رینجرز کے طور پر کامیاب آپریشن کیا۔

۲۰۱۸ میں کراچی کے عوام نے عمران خان کو ووٹ دیکر ایک اُمید کا دیا جلایا۔ ۲۰۱۱ میں عمران خان نے ٹاور کے پاس ایک زبردست جلسہ کیا، میں نے ساتھ سفر کیا اور اس جلسے میں مجھے احساس ہو گیا کہ عمران خان کو اب اقتدار میں آنے سے کوئ نہیں روک سکتا۔ اب کراچی پی ٹی آئ کی بھی ذمہ داری بن چکا ہے کیونکہ کراچی نے پی ٹی آئ کا انتخاب کیا ہے۔ لیکن صوبائی اور لوکل دونوں حکومتیں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے پاس ہیں۔ تحریک انصاف کو کراچی کا کوئ حل نکالنا ہو گا۔ کراچی میں مضبوط لوکل لیڈرشپ پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔

پیپلز پارٹی کراچی سے ووٹ بینک کھو چکی ہے۔ وہ کراچی کو اسکی سزا دے رہی ہے۔
اب کراچی کو پیپلز پارٹی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بمبینو سینما والا بلیک میں ٹکٹیں بیچتا بیچتا اب کراچی کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ لیاری گینگ وارز اسی بمبینو والے کی کار ستانی تھی۔

اب ایک ہی حل ہے کہ کراچی کو صوبہ سندھ سے الگ کرکے فیڈرل کا حصہ بنا لیا جاۓ۔ یہی حل کراچی اور پاکستان کو بچا سکتا ہے۔ ورنہ کراچی ایک دفعہ پھر یتیم رہ جاۓ گا۔ کراچی وفاق کا حصہ بن کر پاکستان کی سالمیت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔

کراچی اگر مافیاز سے آزاد کرا لیا جاۓ، تو کراچی مختصر وقت میں دنیا کے بڑے انڈسٹریل شہروں میں شمار ہو سکتا ہے۔کراچی کے ساتھ جوڑا ہوا پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پاکستان کی سمندری حدود ہیں۔ چونکہ کراچی پچھلے ۳۰ سالوں سےاندرونی امن و امان کا شکار رہا ہے، پاکستان کا بے پناہ سمندری پوٹینشل بھی استوار نہیں ھو سکا۔
پاکستان کی ساحلی پٹی اپنے بے پناہ پوٹینشل کے ساتھ ۳۵ سال سے منصوبوں کا انتظار کر رہی ہے۔

ہم گوادر کو دبئی بنانا چاہتے ہیں، لیکن کراچی تو آج دبئی کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اگر مافیاز اور کارٹلز سے جان چھڑا لی جاۓ۔ کراچی کو بمبینو سنیما کے تسلط سے نجات دلانی ہو گی۔ آصف زرداری کی سٹرٹیجی یہ ہے کہ کراچی اگلے الیکشن سے پہلے اتنی تکلیف سے گزرے کہ کراچی کی عوام پی ٹی آئ سے متنفر ہو جاۓ، دوسری طرف ایم کیو ایم کو لوکل گورنمنٹ میں کچھ نہ کر دیا جاۓ۔ کراچی اس وقت بھی بمبینو سینیما کی طرح بلیک کی ٹکٹوں پر چل رہا ہے۔ زرداری کی جنگ اپنے مفادات کیلۓ ہے اور اس صرف سیاسی طور پر عمران خان شکست دے سکتا ہے۔ عمران خان اسے پہلے راؤنڈ میں شکست دے چکا ہے۔ فائنل راؤنڈ شروع ہو چکا ہے۔ عمران خان فائنل راؤنڈ ناک آوٹ کی بنیاد پر جیتے گا۔ بلاول کبھی بھی پیپلز پارٹی کو وہ لیڈرشپ فراہم نہیں کر سکتا جو پیپلز پارٹی کو اگلے الیکشن میں سندھ میں کامیاب کر سکے۔پیپلز پارٹی اب لیڈر شپ کراسس کا شکار ہے۔ سعید غنی اور مراد علی شاہ جیسے وینٹلیٹر زیادہ عرصے تک پیپلز پارٹی کو آکسیجن نہیں دے سکتے۔

کراچی کو یتیمی سے نکالنے کا آخری موقع ہے۔