کمال ۔ از قلم احمد جواد

98

‏ہمارے ملک میں حرام کھانا ترقی کا راستہ بھی بن گیا ھے اور رواج بھی۔حرام کھا کر ارب پتی بننے والے لوگوں کا بلا تفریق احتساب ھی واحد راستہ ہے جو ہمیں ایک عظیم قوم بنا سکتا ہے۔کوئ ادارہ اور کوئ شخص احتساب سے بالا تر نہیں ھونا چاہیے۔
ذرا سوچیں ایک سرکاری افسر یا ایک پبلک آفس ھولڈر کے بچے دُنیا کی مہنگے ترین تعلیم مہنگے ترین ملکوں میں کیسے حاصل کر سکتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بیوی بچے کیسے یکایک امیر ہو جاتے ہیں۔ایسے لوگ ریٹائرڈ ھو کر اربوں کی جائیداد کیسے بنا لیتے ہیں۔ایسے لوگوں کے فارم ہاؤس دیکھیں تو آپ دنگ رہ جائیں گے۔ایسے لوگ کے ٹھاٹ دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ایسے لوگ آپ کو ھر ادارے میں ملیں گے۔ کوئ ادارہ اس لعنت سے پاک نہیں۔یہ لوگ آپس میں متحد ھیں۔ایسے لوگوں سے سوال کرنا چاہیے کہ بھائ ہمیں بھی بتاؤ کہ ریٹایرڈ ھونے کے بعد آپ کے بیوی بچے کیسے اتنے پیسے سے کھیل رہے ھیں۔سوچیں ایک حرام خورایک پوری حرام خور نسل کو جنم دیتا ھے۔اس ایجنڈا پر صرف وہ ہی کام کر سکتا ھے جو خود کر پٹ نہ ھو۔ یہ ھے وہ جہاد جو صرف عمران خان کر سکتا ھے۔

اس پیغام کو پھیلائیں ایک فرض سمجھ کر۔