کیا ڈیورنڈ لائین کے پار غیرت رہتی ہے؟

0
224

کیا ڈیورنڈ لائین کے پار غیرت رہتی ہے؟

تحریر: احمد جواد

برطانیہ افغانستان فتح نا کرسکا، سویت یونین کو دس سال کے قبضے کے بعد بھاگنا پڑا، امریکہ افغانستان میں دو دھائیاں تک جنگ کرکے بھی بھاگنے پر مجبور ہوا، کیونکہ اسلحے کو شکست ہو سکتی ہے،غیرت کو شکست نہیں ہوتی، غیرت نسلوں تک لڑتی ہے اور اسے کوئ فتح نہیں کر سکتا

امریکہ کو پاکستان میں جنگ کرنے کی ضرورت کبھی نہیں رہی، کیونکہ ایک اندازے کے مطابق تقریبا 1000 ملین ڈالر کی رشوت سے پاکستان کی تمام فیصلہ سازی اور میڈیا کو خریدا جا سکتاہے، پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس نے امریکہ کی جنگیں 3 دہائیوں تک لڑی اور باقی کا وقت اس علاقے میں امریکہ کے مفادات کی نگرانی کرنے میں گذارہ

کسی دوسرے ملک کی جنگیں ڈالروں کے عوض لڑنا، اپنے قومی مفادات کو بالاۓ طاق رکھ کر، یقینا بے غیرتی کے ضمن میں ہی آتا ہوگا

بے غیرتی کے دھائیوں پر محیط سفر میں ایک غیرت مند کا پیدا ہونا ایک معجزہ ہے، اس معجزے کا نام عمران خان ہے، معجزہ ہو چکا ہے،اب اسکی حفاظت قوم کے ذمے ہے، کیا قوم غیرت کے اس سبق کی حفاظت کر سکے گی؟ ابھی تو غیرت مند اکیلا ہی لڑ رہا ہے یا اسکے چند ہزار وفادار جو جیلوں میں پڑے ہیں، باقی 23کروڑ عمران خان کیلئے دعاؤں پر اکتفا کر رہے ہیں

جیسے امریکہ افغانوں کی غیرت اور بہادری سے ڈر کے افغانستان سے دھائیوں کے بعد ہار کر بھاگا ہے، کیا پاکستانی قوم کبھی ثابت کرے گی کہ انکی غیرت افغانوں سے کم نہیں؟ ورنہ ڈیورنڈ لائین دو ملکوں کی سرحد نہیں بلکہ غیرت اور بے غیرتی کے درمیان صرف سرحد رہ جاۓ گی، اس سرحد پر چاہے سمگلنگ کرو، چاہےُسرحد بند کرو، چاہے باڑ لگاؤ، سرحد کے پار رہنے والوں کو کوئ فتح نہیں کر سکا، انہوں نے اپنی غیرت کی لاج صدیوں سے قائم رکھی ہے

ذرا سوچیے، افغانستان سے اسکے 5 ہمسایوں چین، ایران، ازبکستان، ترکمانستان اور تاجکستان کو کوئ شکایت نہیں، صرف ہمیں شکایت ہے؟ کیوں؟ پتہ نہیں ہم کب اپنے گریبان میں دیکھیں گے؟ شاید گریبان سیل ہو گئے ہیں؟