یہ کورونا ہے، یہ میں ہوں اور پاری ہو رہی ہے۔

686
.

یہ کورونا ہے، یہ میں ہوں اور پاری ہو رہی ہے۔

احمد جواد

تقریباً دس ماہ تک میں نے انتہائ احتیاط کی بلکہ میری احتیاط کا مذاق بھی اُڑایا گیا۔ تین ماہ پہلے میں نے اپنے حفاظتی حصار کو ذرا کم کر دیا اور مجھے ایسا محسوس ہونے لگا کہ کورونا واقعی پاکستانیوں پر اثر نہیں کرتا، اور میں بھی پاکستانی شیر بننے کے نفسیاتی عمل سے گزر گیا۔ کورونا کے ساتھ آنکھ مچولی دس ماہ تک جاری رہی اور کورونا میرے پیچھے بھاگ بھاگ کر تھک گیا۔ میں نے کورونا کی تھکاوٹ کو اپنی جیت سمجھ لیا۔ اور کورونا نے اسے موقع جانا۔

اور پھر اچانک ایک دن رات کو کورونا میری منجی کے نیچے چھپ گیا اور میں منجی کے نیچے ڈانگ گھمانا بھول گیا۔بخار محسوس ہوا تو میں نے جلدی ھاتھ کھڑے کر دئیے اور کورونا کے ساتھ چار ھفتوں کیلۓ مفاہمت پر دستخط کر دئیے۔ میں نے تسلیم کیا کہ ایک کورونا سب پے بھاری ۔ خبر آئ ہے کہ زرداری نے وزن بڑھانے کے نئے طریقوں پر غور شروع کر دیا ہے۔

کورونا مثبت رپورٹ کے آنے پر میں نے فورا اپنے آپ کو باقی گھر والوں سے الگ کرلیا اور اسلام آباد کے ایک مشہور پرائیویٹ اسپتال کا رخ کیا تو اندازہ ہوا کہ وہاں کسی قسم کی کنسلٹیشن کے بغیر سارا زور مختلف قسم کے لیباٹری ٹیسٹ ہیں جس سے ایک عام آدمی کا تو بھر کس نکل جاتا ہو گا۔ اگلا قدم مریض کو ۵ دن کا کورس دیا جاتا ہے جس میں روزانہ دس انجیکشن لگانے ہوتے ہیں اور اسکا مطلب پچاس انجیکشن پانچ دنوں میں۔ ڈاکٹر صاحب اب آپ کو پچاس انجیکشن ٹھوکنے کے بعد ہی ملیں گے۔

یہاں میری خوش قسمتی کہ میں نے بین الاقوامی شہرت کے حامل زرعی ماہر آصف شریف سے کورونا میں مبتلا ہونے کا ذکر کیا۔ آصف شریف قدرتی زراعت کے طریقہ کار پر دنیا بھر میں کام کر رہے ہیں۔ اُنہیں آپ زراعت کا سٹیو جابز بھی کہہ سکتے ہیں۔

آپ سوچ رہے ہوں گے کہ زراعت کا کورونا سے کیا تعلق؟ لیکن یہ تعلق بھی آصف شریف صاحب نے پیدا کر دیا۔

اُنہوں نے مجھے بتایا کہ اُن کی بیٹی ڈاکٹر اورداسلیمان لاہور کی ایک مشہور لیباریٹری سے سینکڑوں کورونا مریضوں کا علاج کر چکی ہیں اور جو کام میں زراعت میں کر رہا ہوں ویسا ہی کام وہ میڈیکل میں کر رہی ہیں۔ لیکن مجھے میڈیکل اور زراعت میں کوئ مطابقت نظر نہ آئ جبتک میں نے ڈاکٹر اوردا سے علاج شروع نہیں کیا۔

کورونا کے علاج پر ڈاکٹر اوردا سلیمان کے بڑھے سیدھے سادھے اصول ہیں۔ خوب کھائیں پیئں اور خوب سوئیں۔ دوائیوں کا کم سے کم استعمال۔ گرم پانی، جوس، سوپ، قہوہ پیئں، بھاپ لیں، روزانہ گرم پانی سے نہائیں۔ وہ دوائیوں کا استعمال صرف سیریس مریضوں کیلئے کرتی ہیں۔ آکسیجن میٹر پرُنظر رکھیں۔ آپ کا آکسیجن لیول آپکی خیریت کی گارنٹی ہے۔ڈاکٹر اوردہ اپنے مریضوں کا علاج ایک جذبے سے کرتی ہیں، اس لیے اللہ نے اُن کے ہاتھ میں بہت شفا دی ہے۔

کورونا ایک حقیقت ہے اور اس کے اثرات مختلف لوگوں پر مختلف ہیں۔ کورونا ہونے پر آپ کی بحالی صحت کا چانس ۹۹ فیصد ہے۔ لیکن ایک فیصد کا اطلاق کسی پر بھی ہو سکتا ہے اس لئے احتیاط بہت ضروری ہے۔ اسے مذاق میں مت اُڑائیں۔

کورونا ایک ایسی بیماری ہے جو کہ چند دن کی ہلکی سی آندھی بھی ہو سکتی ہے اور چند ہفتوں کا خوفناک طوفان بھی ہو سکتا ہے۔ بلکہ چند مہینوں کے اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ کینسر پر ھماری ریسرچ تقریباً ایک صدی پر محیط ہے۔ ایڈز پر 38 سال کی ریسرچ ہے اور کورونا پر ھماری ریسرچ صرف ایک سال کی ہے۔ اس لیے سوالات بھی زیادہ ہیں اور جوابات اُس سے بھی زیادہ سوشل میڈیا کی برکت سے۔ جہاں علم کے دریا بہہ رہے ہیں اور ریسرچ کے ٹیوب ویل پٹاخے مار رہے ہیں۔ جہاں دانش ور بے بس ہیں، جاہل بھڑکیں مار رہیں ہیں اور ماں بہن کی خیر نہیں۔ایسے میں کورونا کو مارکیٹنگ کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ کورونا کو سمجھنے میں ابھی بہت وقت لگے گا۔ اس لئے بحث کی بجائے اپنی اور اپنے خاندان کی حفاظت کیلئے سوچیں اور احتیاطی تدابیر پر عمل کریں۔

میرے خیال میں لاکھوں لوگو ں کو کورونا ہوا اور انہوں نے اسے معمول کے بخار، کھانسی کے طور پرجانا اور وہ ٹھیک بھی ہو گئے۔
اس لئے کورونا کو اعدادوشمار سے مت سمجھنے کی کوششش کریں۔

ویکسین ضرور لگوائیں، اپنے زندگی کے معمولات کو صحت مند بنائیں۔ ہاتھ ملانے اور گلے لگانے کا کلچر ہمیشہ کیلئے ختم کردیں۔ اس سے دوسری وائرل اور بیکٹریا بیماریوں سے بھی بچت ہو گی۔ ایک دوسرے سے فاصلہ رکہیں۔

بہترین خبر یہ ہے کہ کورونا ۹۹ فیصد کیسوں میں ایک معمولی بخار، سردرد، جسم میں درد اور قدرے زیادہ کمزوری ہے۔ یہ وہ علامات ہیں جو ہم فلو اور نزلہ زکام میں زندگی میں کئی دفعہ دیکھ چکے ہیں۔

بری خبر یہ ہے کہ ھمیں کورونا کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں پتہ۔ ویکسین بھی تجرباتی ہے اور علاج بھی واضح نہیں۔ علامات مسلسل بدل رہی ہیں۔اثرات بھی رنگ بدل بدل کے سامنے آ رہے ہیں۔

بہت سے ڈاکٹر کلوروکوئین کو یقیناً ایک موئثر علاج سمجھتے ہیں۔ افریقہ میں ملیریا کے خلاف کلوروکوئین کے زیادہ استعمال نے کورونا کو افریقہ میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔

کورونا سے مرنے والوں میں 99% ایسے لوگ ہیں جو کہ پہلے ہی کسی بیماری کے شاخسانہ کا عندیہ دے رہے تھے، کورونا تو ایک بہانہ ثابت ہوا۔

کورونا ایک یاددہانی بھی ہے۔ انسان کے بے بس ہونے کی، ماحولیات کی تباہ کاری کی، کامیابی کی دوڑ میں صحت کو نظر انداز کرنے کی، دنیا کی بے ثباتی کی، اپنے اعمال کا جائزہ لینے کی، اپنی زندگی کو نئے انداز میں ڈھالنے کی۔ کورونا ایک اپنی زندگی کے جائزہ کا موقع ہے ہو جو ہم تیز رفتار زندگی میں بھول چکے تھے۔

حیرت کی بات ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک امریکہ اور یورپ اس بیماری سے زیادہ متاثر ہوۓ۔چین نے دنیا پر ثابت کیا کہ چین کا نظام کورونا کے خلاف دنیا کے تمام نظاموں سے بہتر ثابت ہوا۔ غربت سے دوچار افریقہ کورونا سے قطعی متاثر نہیں ہوا۔ قرضوں کے بوجھ تلے دبہ پاکستان سمارٹ سمارٹ کھیل گیا اوراب کورونا پاکستان میں اپنے تیسرے اٹیک کے ساتھ آرہا ہے لیکن پچھلے دو اٹیک کورونا کو خاطر خواہ کامیابی نہیں دے سکے۔ انڈیا نے کورونا کو غربت کی طرح اپنا حصہ بنا لیا۔

کورونا نے یہ بھی بتا دیا کہ مسلمانوں کا ریسرچ سے کوئ تعلق نہیں اور یہ ان کا کمال ہے کہ کافروں کو ریسرچ پے لگایا ہوا ہے اور خود من موجیاں کر رہے ہیں۔

کورونا سے نہ لڑنے کی ضرورت ہے اور نہ گھبرانے کی، صرف احتیاط کی ضرورت ہے،
اور اپنے آپ کو بدلنے کی ضرورت ہے۔

آنے والے وقت میں ملکوں کی ترقی کا معیار 5G انٹرنیٹ, الیکٹرک کاریں، ویکسین بنانے کی صلاحیت، شمسی توانائ ، قدرتی خوراک، صاف ماحول، اچھی صحت، اور ڈیجیٹل کرنسی ہو گا۔

دنیا نظام کی تبدیلی کے قریب ہے۔ کورونا صرف پہلی یادداشت ہے آنے والے وقت کی۔ یادداشت کو پڑھنے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔ جہالت تو ناواقف ہی رہتی ہے خطروں سے بھی اور ان کے اثرات سے۔

کورونا ہونے کے بعد کیا کرنا چاہیے۔ ھسپتال کا رخ ھرگز مت کریں، ہسپتال کیس خراب ہونے کا سبب بن رہے ہیں، اگر آپ کو ۲۵% فیصد کورونا ہے تو ھسپتال کے وزٹ سے یہ سو فیصد ہو جاۓ گا۔ کورونا صرف پینا ڈال کے استعمال اور احتیاطی تدابیر سے ختم کیا جا سکتا ہے۔

کورونا اب ہماری زندگی کا حصہ ہے۔ ہر سال ایک آدھ دفعہ ہم کورونا میں مبتلا ہوں گے اور فلُو کی طرح صحت یاب ہو جائیں گے۔ ویکسین فلُو شاٹ کی طرح مکمل طور پر کورونا کو روک نہیں سکے گی۔ صرف ایک چیز کورونا اور مستقبل میں آنے والے وائرس سے محفوظ رکھے گی اور وہ ہے آپ کا اندرونی مزاحمتی نظام جسکا انحصار آپ کے طرز زندگی، آپکی خوراک، ایکسرسائز، واک اور صحت مندانہ اطوار پر ہے۔

کورونا کا نیا وائرس موجودہ کورونا ٹیسٹ میں شاید سامنے نہ آ سکے اور مریض ٹیسٹ رپورٹ سے گمراہ ہو جاۓ۔ بہت لوگ کورونا کے اثرات محسوس کر رہے ہیں لیکن ٹیسٹ رپورٹ کورونا نیگیٹیو دکھا رہی ہے۔