‎پاکستان میں گذشتہ 35 برسوں میں ہونے والے بڑے فضائی حادثوں کی تاریخ متاثر کن نہیں ہے؟ احمد جواد

372
PIA Plane Crashed in Karachi.
.

‎ پاکستان میں گذشتہ 35 سالوں میں 1986۔2020) میں14مسافر ہوائی جہاز گر کر تباہ ہوئے۔ پاکستان میں ان 14 بڑے ہوائی حادثوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

‎ 1. چھ ایئر کریش پی آئی اے (1986 ، 1989 ، 1992 ، 2006 ، 2016 ، 2020) سے تعلق رکھتے ہیں۔ جنید جمشید 2016 کے ہوائی حادثے میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

‎ 2. تین ہوائی کریشوں کا تعلق فوجی ہوائی جہاز سے ہے جن میں جنرل ضیاء الحق طیارہ حادثہ (1988) ، چیف آف ایئر اسٹاف ایر کریش (2003) ، ایک ہیلی کاپٹر فلپائن اور انڈونیشیا کے سفیر اور ملائیشین اور انڈونیشیا کے سفیروں کی بیگمات (2015) سمیت شامل ہے۔

‎ 3.ائر بلو (2010) ہوائی جہاز کا حادثہ اور دوسرا بھوجا ایئر لائنز (2012) کا جہاز ہے

‎ 4تین نجی چارٹرڈ ہوائی جہاز 2003 ، 2010) جس میں ایک حادثے میں افغانستان کے سینئر عہدیدار بھی شامل ہیں (2003)۔

‎لہذا پچھلے 35 سالوں میں مجموعی طور پر 14بڑے ہوائی جہاز گر کر تباہ ہوے ہیں ، یہ کوئی بہت ہی متاثر کن تاریخ نہیں ہے۔ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ ہماری ہوا بازی کی صنعت میں کوئی خرابی ہے ، اس بات کی ضرورت ہے کہ ہمیں گذشتہ 35 برسوں میں ہونے والے تمام طیاروں کے حادثوں کا مطالعہ کرنا چاہئے۔

‎ اہم بات یہ ہے کہ (1947 سے 1985) میں صرف 4 طیارے گر کر تباہ ہوئے اور وہ تمام پی آئی اے ہوائی جہاز تھے۔

‎ پاکستان کی 72 سال کی تاریخ میں مجموعی طور پر پی آئی اے کے 10 ہوائی جہاز گر کر
تباہ ھوے۔

‎ پاکستان میں ہوائی جہاز کے حادثوں کی زیادہ تعداد کے پیچھے کیا وجوہات ہیں؟ ایک سوال جس پر غور کرنا چاہئے۔

‎ کیا یہ سوال پاکستان میں انجینئرنگ کے معیار کے بارے میں ہے ، کیا یہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ناقص معیارات کے بارے میں ہے یا یہ پاکستانی پائلٹوں کے معیار کے بارے میں ہے ، کیا یہ یونین ، پالپا اور پی آئی اے پر سیاسی اثر و رسوخ کے بارے میں ہے کہ پی آئی اے کو ہوائی حادثات کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ کچھ غلط ضرور ہے جس کی شناخت ہم طیارے کے ہر حادثے کے بعد نہیں کر سکے۔

‎ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان میں ہوابازی کے معیار کا جائزہ لیں؟ اب وقت آگیا ہے کہ ہم سبق ڈھونڈیں ، سبق سیکھیں اور اپنے حفاظتی معیارات کو بہتر بنائیں۔

اب یہ بھی ثابت ھوتا ھے کہ PIA یقیناً پچھلے ۳۵ سالوں میں زوال پذیر ہوئ ہے۔ اب یہ بھی ثابت ھوتا ہے کہ پائلٹ اور انجینرنگ کا معیار بہت گرا ہے۔ یہ بھی ثابت ھوتا ھے کہ پالپا اور یونین PIA کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔یہ بھی ثابت ھوتا ھے کہ سول ایوی اتھارٹی ایک ناکام ادارہ ھے- یہ بھی ثابت ھوتا ہے کہ PIA میں ایمر جینسی کا نفاذ کیا جاۓ ورنہ ایک اور جہاز کے گرنے کا انتظار کریں۔