Arrogance or Digital Arrogance – Evolution of Digital Lifestyle.

91

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


ڈیجیٹل گھمنڈ اور ڈیجیٹل طرز زندگی کا ارتقاء

احمد جواد

اگلے روز میں ٹیلیویژن کے چینلوں پر سرسری نگاہ ڈال رہا تھا۔ میں بالعموم چینلوں کو تفصیلاً دیکھنے کی بجائے ان پر طائرانہ نگاہ ڈالا کرتا ہوں۔

کیوں؟

وجہ یہ کہ کوئی بھی پاکستانی چینل اس قابل نہیں کہ اسے بغور دیکھا جائے۔ ان پر زیادہ سے زیادہ اچٹتی نگاہ ڈالی جا سکتی ہے۔جو لوگ ان چینلوں کے ساتھ چپکے رہتے ہیں وہ ذہنی طور پر بلوغت حاصل نہیں کر سکتے بلکہ وہ تو پہلے سے بھی زیادہ ذہنی اور معاشرتی طور پر ابتری کا شکار ہوتے ہوتے کوڑ مغز ہو جائیں گے۔

جب میں پاکستانی چینلوں پرسر سری نگاہ ڈالتا ہوں تو میرا مقصدخطرناک رجحانات سے آگاہی حاصل کرنا، رو بہ زوال پیشہ ورانہ مہارت کا احساس کرنا اور ان چینلوں پر دکھائی جانے والی گندگی اور پراگندگی سے سبق حاصل کرنا ہوتا ہے۔اس کے بر عکس میں جب بھی سنگاپور (، (Channel News Asiaجاپانی (NHK) ، ترکی (TRT)، جرمنی (DW)، ایرانی(Press TV)، روسی (RT) اور چینی (CTGN)ٹی وی چینل دیکھتا ہوں تو مجھے تاریخ،معاشرتی اقدار، ٹیکنالوجی، بصیرت، رجحان سازی، قیادت، حقیقی مسائل، مستقبل، حقیقی خطرات اور مشکلات، ان کے حل اور مغرب کے غلط نظریات کے بارے نظر ثانی شدہ ثقہ رائے کا ادراک ہوتا ہے۔

آج پاکستانی چینلوں پر طائرانہ نگاہ ڈالتے ہوئے ایکپریس ٹی وی چینل پر دکھائے جانے والے ایک ٹاک شو کو دیکھ کر میں ٹھٹکا جس میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی کرنے والی مہمان پلوشہ بہرام عین اس وقت اپنے موبائل فون پر متواتر مصروف تھیں جب کہ دوسرے مہمان موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ان کے انداز نشست سے اس نخوت اور تکبر کا احساس ہو رہا تھاجس کا مظاہرہ روائتی سیاست کو جہیز میں ملنے والے اس طرح کے شاہکار کرتے ہیں۔

ان کی نشست و برخاست اور سردمہری کا شکار تو ان کےساتھ بیٹھے مہمانان گرامی تھےمگراس تکبر کا نشانہ سب ناظرین اور عام لوگ بھی تھے۔ ان کے انداز سے ظاہر ہو رہا تھا کہ ان کو کچھ سننے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ عقل کل ہیں اور سب کو ان کے فرمودات کو بغورسننا ہوگا۔

اب اس ہتک آمیز بے رخی کا بھلا کیا جواب دیا جائے؟ چاہئے تو یہ کہ جو لوگ اپنے موبائل فون پر مصروف رہتے ہوں ان کی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں شرکت پر پابندی لگائی جائےاور عوام ان نخوت بھرے شاہکاروںکو دیکھنا ترک کر دیں۔

میں اس سردمہری کو ڈیجیٹل بے رخی سمجھتا ہوں جو آجکل ہمارے معاشرتی، خاندانی اور ملازمت کے ماحول میں بالعموم دیکھنے کو ملتی ہے۔ہم جب چاہتے ہیں کہ اپنے ارد گرد موجود اپنے ساتھیوں، دوستوں اور اہل خانہ کو احساس دلائیں کہ ہم ان کی موجودگی کو خاطر میں نہیں لاتے تو ہم اسی تکبر اور شیطانی رویّے کا مظاہرہ کر تے ہیں۔ہم اپنے موبائل پر نگاہیں اور انگلیاں گاڑ لیتے ہیں اوراپنے سستی زدہ جسمانی روّیے سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ موقعہ پر موجود بے معنی لوگوں کے موجود ہونے یا نہ ہونے سےہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

کچھ لوگوں کے لئے یہ وقت گذاری کا مشغلہ ہے۔ کچھ لوگوں کو یہ نشہ آورلت لگی ہوتی ہے کہ ان کو اس روّیہ میں سکون، راحت، تفریح، خبریں اور سبق حاصل ہوتا ہے۔

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فون پر توجہ مرکوز کرنے سے پہلے اپنے قرب وجوار میں موجود لوگوں سے معذرت طلب کریں۔

ڈیجیٹل لائف سٹائل کے لئے بہتر ہے کہ اس کے لئے کچھ اصول و ضوابط وضع کر لئے جائیں، ان پر کاربند ہونے کے لئے اپنی منشا ءکا اظہار کیا جائےاوران کو سیکھا اور سکھایا جائے تاکہ ہماری عائلی اور معاشرتی اقدار اور معمولات کو تباہ کئے بغیر ان ضوابط کو روبہ عمل لایا جائے۔ہمیں خود کو بھی باور کرانا ہوگا کہ ہم مشینیں نہیں ہیں مگر ہمارا واسطہ انسانوں سے زیادہ مشینوں ہی سے رہتا ہے۔

ہمیں ڈیجیٹل عفریت نہیں بننا اس لئے ہمیں اخلاقی اور سیاسی جنگوں، کرپٹ اشرافیہ کی برائیوں اور ان کوبے نقاب کرنے کے معاملے میں ڈیجیٹل ہوش مندی کے بارے آگاہی کو پروان چڑھانا ہے۔ بہتر ہوگا کہ ہم انسانیت کے لئے، انسانیت کے ذریعے اور انسانیت کے واسطے بائینری اعداد”0”اور “1”کے باہمی اشتراک عمل کی اجازت دیں۔


Arrogance or Digital Arrogance – Evolution of Digital Lifestyle.

By Ahmad Jawad

I was glancing through channels, why I only glance through channels and not watch through channels?

because:

“No Pakistani TV channel is worth watching”, one can only glance through them at the most. Those stuck with Pakistani Channels will never grow intellectually rather decline mentally & socially and soon to become retarded.

In my habit of glancing through Pakistani TV channels, mostly I try to observe crazy trends, falling professional standards and try to learn something from filth & garbage. While glancing through, I always end up watching Singaporean ( Channel News Asia), Japanese ( NHK), Turkish ( TRT), German ( DW), Iranian ( Press TV), Russian (RT) and Chinese ( CGTN) TV Channels. Such channels teach me history, values, technology, vision, inspiration, leadership, real issues, future, real threats & challenges, solutions and second opinion against western propaganda of misperception.

Today, while glancing through Pak channels, a talk show on Express TV caught my attention, in which one of the guests, a PPP representative Palwasha Behram, was busy playing on her phone while other guests were discussing the subject. This posture of hers displayed the arrogance of traditional political symbol who inherit politics like assets.

Her posture was reflecting arrogance to her co participants, arrogance to TV channel, arrogance to viewers and in general arrogance to public. Her posture reflects that she does not need to listen anything and she is from that epitome of wisdom & status where she only expects others to listen to her.

How such arrogance should be responded? TV channel should ban such guests who use mobile phone during talk show, public should not watch such symbols of arrogance.

I call such arrogance as digital arrogance which is now visible in social, family & working environment. If we want to reflect that we don’t regard presence of our colleagues or friends or family members, we express our arrogance or devil may care attitude, we focus our eyes on mobile phone, our fingers on mobile and a lethargic body language which makes the other present in the room as if they don’t exist or they are meaningless.

For some it has become a habit of Time managment and for some it is addiction of finding peace, entertainment, information & learning.

Whatever is the reason, Time has come that we seek permission from those present in a room as a gesture of courtesy before we switch our focus on mobile phone.

Digital lifestyle needs rules, manners and willingness to regulate it, learn it, teach it and use it without destroying our social, cultural & family norms. We must remind ourselves that we are not machines, that we interact more with machines than human beings.

Let’s not be a digital monster, let’s create digital sanity of awareness, moral & political battles, exposing ills & exposing corrupt elites. Allow Binary digits of “0” and “1” work in cohesion for humanity, of humanity and for humanity.

Facebook Comments