Who was Asma Jehangir? Traitor or Human rights champion?

116

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


عاصمہ جہانگیر کون تھیں؟  ایک غدار یا انسانی حقوق کی چیمپین

احمد جواد

 اللہ تعالیٰ عاصمہ جہانگیر کو کروٹ کروٹ چین نصیب کرے۔ مجھے نہیں معلوم وہ غدار تھیں یا انسانی حقوق کی چیمپین تھیں

لیکن

ان کی کلبھوش یادیو کے ساتھ ہمدردی۔

ان کی بھارت، بنگلہ دیش یا کسی بھی پاک فوج کو دشنام دینے والے کے ساتھ قربت۔ فوجی عدالت سے سزا یافتہ ، عام انسانوں کو ہلاک کرنے والے دہشت گرد کے لئےان کی ہمدردی۔
سٹیٹس کو کے حامی اورحد درجہ کرپٹ سیاستدانوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھنا۔
تھر، قصور اور آرمی پبلک سکول میں مرنے والے بچوں کے بارے ان کی خاموشی۔

اورمالداراشرافی​ہ کی صف میں ان کی شمولیت۔

یہ سب شواہد انسانی حقوق کی ایک عظیم چیمپین کے اس دنیا سے اُٹھ جانے کی عکاسی نہیں کرتے۔

جو لوگ ان کی تعریفوں کے پل باندھنا چاہتے ہیں وہ ان کے فوج مخالفت ہونے کے باوجود بطور انسانی حقوق کی متحرک کارکن ان کے کارنامے گنوائیں گے۔

کیا کوئی فوجی ڈکٹیٹر کے خلاف بیان بازی کرنے سے انسانی حقوق کا چیمپین بن جاتا ہے؟
ایوب خان جیسے فوجی آمر کاعہد پاکستان کا سنہری ترین دور تھا۔میری تو دعا ہے کہ پاکستان کو ایوب خان کے پائے کا کوئی اوررہنما نصیب ہو جائے۔

ضیاء الحق اور مشرف دور کے سیاہ ابواب بھٹو، بے نظیر، زرداری اور نواز شریف کی کالی کرتوتوں سے تو زیادہ کالے نہیں ہیں۔

مجھے عاصمہ کی رعونت اور یکطرفہ تنقید سے نفرت تھی۔ مگر چونکہ وہ اس جہان سے کوچ کر چکی ہیں تو اب اللہ تعالیٰ ان کے درجات کا اسی طرح تعین کرے گا جس طرح اس نے ہم سب کا ایک دن حساب لینا ہے۔

مجھے انسانی حقوق کے حوالے سے ان کی توصیف کرنا سمجھ میں نہیں آتا۔کون سے انسانی حقوق کا وہ تحفظ کر رہی تھیں یا ان کی پاسداری کر رہی تھیں؟ کیا وہ ایدھی کی مانند تھیں؟ کیا وہ کوئی یتیم خانہ چلا رہی تھیں؟ کیا وہ اپنے پلے سے غریبوں کی مدد کیا کرتی تھیں؟ کیا وہ کوئی ہسپتال چلا رہی تھیں؟

ملک میں پینے کے لئے صاف پانی کی فراہمی، صحت کی بدحالی اور تعلیم کی خراب صورتحال پر ان کی انسانی حقوق کی رگ کبھی نہیں پھڑکی ۔نہ ہی ملک میں کمزور اور غریب لوگوں کے لئے انصاف کی عدم فراہمی پر کوئی واویلا مچایا۔ کیا انہوں نے انصاف کے گلے سڑے نظام کے خلاف کوئی محا ذ قائم کیا؟کیا انہوں نے جسٹس قیوم کےٹیلیفون پر شہباز شریف سے ہدایات لینے کے مسئلے کو اٹھا کر اس کے خلاف آواز بلند کی؟

کیا انہوں نے کرپٹ افسر شاہی کے خلاف کبھی آواز اٹھائی، کیا انہوں نے کبھی خاندانی سیاست کے خلاف کبھی کچھ کہا؟ کیاانہوں نے کبھی ملک ریاض اور میاں منشا ءجیسوں کی کرپشن اور اجارہ داری پر کبھی تنقید کی؟

مغربی ممالک توپاکستان میں فوج مخالف آوازوں کو نہ صرف شہہ دیتے ہیں بلکہ ان کی حمایت کے ساتھ ساتھ ان کی مالی امداد بھی کرتے ہیں۔عاصمہ اور ملالہ کا شمار بھی ان فوج مخالف آواز بلند کرنے والوں میں ہوتا ہے۔اگر ہماری فوج مضبوط نہ ہوتی تو آج ہم بھی عراق، شام، سعودی عرب اور افغانستان کی صف میں کھڑے ہوتے۔مغرب تو اسی طرح کی فوج مخالف آوازوں کا منتظر ہے جس طرح وہ ترکی میں اردگان مخالف آوازوں کی تاک میں ہے۔اردگان نہ صرف فوجی ڈکٹیٹر نہیں بلکہ وہ تو جمہوری طریقے سے منتخب کیا گیا صدر ہے پھر بھی مغرب کو اُس کی طرف سے شدید تشویش لا حق ہے۔

پاکستان میں گذشتہ ایک عشرے سے فوجی آمریت مسلط نہیں ہے۔ علاوہ ازیں فوج نے ملک کو الطاف حسین سے نجات دلانے، کراچی کا امن واپس لانے اور بھارت اور افغانستان کے پروردہ طالبان کا خاتمہ کرنے میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔جب راحیل شریف نے ہمیں اس بربادی سے نجات دی تو کیا اس کی تعریف میں عاصمہ نے ایک بھی لفظ کہا؟

جب قوم آرمی پبلک سکول کے سانحے کے سوگ میں دلگیر تھی اس وقت عاصمہ کا موقف کیا تھا؟

میں تو سمجھتا ہوں کہ ہماری قوم کو سیاہ اور سفید میں فرق کرنے کی تمیز نہیں اسی وجہ سے آج جمہوریت کے سائے میں بھی ہم پر بد ترین قیادت مسلط ہے۔

ء 1948سے آج تک بھارت اور پاکستان کےمابین معاملات بہت حد تک بدل چکے ہیں۔ہم اب تک چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور پانچویں نسل کی جنگ جاری ہے۔1948ء میں گاندھی جی کے قتل کے سوگ میں عام تعطیل سے یکجہتی کے اظہار کا معاملہ آج کلبھوشن یادیو کے عہدمیں بدل چکا ہے۔

ہمیں چاہیئے کہ ترکی اور اردگان سے کچھ سبق حاصل کریں کہ ایک مسلم ریاست ہونے کا مطلب کیا ہے اور ہمیں کس طرح باعزت طریقے سے سر بلند کرکے کھڑے رہنا ہے۔

ترکی میں بھی مغرب کے اشاروں پر ناچتے لبرل چہرے نظر آتے ہیں۔ اگر ترکی میں آج خلافت عثمانیہ کی اٹھان دکھائی دیتی ہے تو پاکستان میں بھی اہلیت ہے کہ جنوبی ایشیا کے خطے میں کلیدی کردار ادا کرے مگر مغرب کو یہ امر قابل قبول نہیں۔

چین بڑی تیزی سے عظیم قوم اور عظیم ریاست بن رہا ہے جس میں ملالہ اور عاصمہ جیسے نظریات کے حامل لوگوں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔کیا چینی عوام اس اقدام پر حق بجانب ہیں؟ میری رائے تو یہ ہے کہ وہ سو فیصد حق بجانب ہیں۔حال ہی میں چین نے ڈیجٹیل انفارمیشن کی تازہ ترین اختراع VPN کو بلاک کر دیا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیاں اس سلسلے میں نئے قوائد وضع کر رہی ہیں۔چینیوں کو بخوبی علم ہے کہ کس طرح ڈیجیٹل دیواریں اور دیوار چین استوار کرکےخود کو محفوظ رکھنا ہے۔

اگر ہم چین، ترکی حتیٰ کہ سنگا پور اور دوبئی بننے کے خواہاں ہیں تو یہاں عاصمہ جیسی آوازوں کی کوئی جگہ نہیں۔ میں بڑی عاجزی سے متنبہ کروں گا کہ اس طرح کی آوازوں پر بالکل کان نہ دھریں ورنہ یہ ہمیں چین، ترکی، سنگاپور اور دوبئی بننے کی بجائے عراق اور افغانستان بنا سکتی ہیں۔اگر آزادی کا مفہوم ٹرمپ کا انتخاب یا بریکسٹ کے ذریعے یورپی یونین سے گلو خلاصی ہے تو ہم اس آزادی کے حصول سے باز آئے۔


Who was Asma Jehangir? Traitor or Human rights champion?

By Ahmad Jawad

 Asma Jahangir, may Allah rest her in peace. was She a traitor or human rights champion? I don’t know

but:

Her sympathies with Kulbashan Yadav.

Her closeness with India, Bangladesh & anybody who can bad mouth Army.

Her sympathies for terrorist who killed masses and convicted by military courts.

Her soft corner for most corrupt politicians & status quo.

Her silence on the deaths of children in Thar or Kasur or APS.

and her status of an elite class.

They all do not reflect that a great champion of human rights have left this world.

Those who like to praise her, may like to narrate her accomplishment as a human right activist besides speaking against Military.

Does by giving statements against military dictatorship, one becomes a human rights champion?

Golden era of Pakistan was under Ayub Khan, a military dictator, I wish Pakistan could ever get another leader like Ayub Khan.

Dark shades of Zia Ul Haq and Musharraf are not darker than Bhutto, Benazir, Zardari & Nawaz Sharif.

I hated her for her arrogance & for selective criticism but now she has left this world, Allah will judge her just like we all be judged by Allah one day.

I don’t understand why she is praised for human rights? Which human rights she was protecting or pursuing. Was she like Edhi? was she running some orphanage? was she helping poor from her kitty? was she running some hospital?

Her human rights efforts were never seen for safe drinking water, poor health & education conditions in the country or absence of justice for the weak & poor in this country. Did she ever fight against rotten judicial system? Did she raise the issue of Justice Qayyum taking instructions from Shahbaz Sharif on telephone?

Did she speak against corrupt bureaucracy, did she speak against family legacy politics, did she criticise Malik Riaz or Mansha and likes of them for their monopoly & corruption?

West will promote, Finance & support those voices which are against Military. Asma Jehangir & Malala are among those. If we did not have a strong military, we today would have been standing next to the League of Iraq, Libya, Syria, Saudia and Afghanistan. So West needs voices against Military just like they need same voices against Erdogan in Turkey. By the Erdogan is not military dictator, a democratically elected President, yet West has serious problems against him.

There is no military dictatorship since last 10 years in Pakistan except Military saved this country by intervening in Karachi to get rid of Altaf and bringing peace in Karachi or fighting against Indian/Afghan sponsored Taliban. Did Asma Jehangir ever utter a single word of appreciation when Raheel Sharif led us out of total chaos?

How she responded to APS incident when whole nation was mourning.

In my opinion, we are a nation which cannot distinguish between black & white and that is why we are today led by worst leadership under democracy.

Things between India & Pakistan have changed since 1948, we have had 4 wars and 5th generation war is latest. A public holiday in Pakistan for death of Gandhi in 1948 has turned into an era of Kulbashan Yadav.

We might learn something from Turkey & Erdogan what it means to be a Muslim country and how to stand tall and honourable.

Turkey also have such liberal faces in Turkey who are acting on behalf of West. If Turkey is like rise of ottoman, Pakistan has the potential of key regional player in South Asia which is not acceptable to West.

China becoming a great nation & country has no space for Malala & Asma Jehangir type of ideology. Are they doing right or wrong? I would say 100% right. Lately they blocked VPN, the last breech of digital information in China, and all multi national companies are following new regulations. Chinese know how to protect themselves whether building concrete walls or digital walls.

There is no space for voices like Asma Jahangir if we want to be like China,Turkey or even Singapore & Dubai. My humble caution, don’t follow such voices, they can make us Iraq or Afghanistan but not China,Turkey, Singapore or Dubai. If freedom can ultimately lead you to elect Trump or opt for Brexit, we don’t need such freedom.

Facebook Comments