Bhaati Gate is such an amazing learning experience of my life.

1781
.

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


بھاٹی گیٹ میری زندگی کا ایک حیرت انگیز سبق سیکھنے کا تجربہ“

احمد جواد

بطور ایک راوین شروع ہونے والا میرا سفر ایک نیوی آفیسر، ایک سب میرینر، ایک جرمن ملٹی نیشنل کا بانی سربراہ،پی ٹی وی کا اینکر پرسن,ایک سیاستدان، ایک میڈیا پرسن، سوشل میڈیا ایکسپرٹ اور تربیت کار، زرعی ایکسپرٹ، اسلام آباد سٹاک ایکسچینج ممبر،پاک جرمن چیمبر آف بزنس اینڈ انڈسٹری کے بانی بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر،این ڈی یو کے گریجوایٹ،سولر انرجی کے  سٹرٹیجک ماہر ،ڈیجیٹل ماہر،پاکستان میں بہت سی غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندے، تعلیم اور صحت کے شعبے کےخدمت گار،  دور دراز دیہات میں اپنے والدین کے نام پربنے وقف کی معرفت صاف پانی کے منصوبہ ساز، ویڈیو پروڈکشنز، درآمدات، تھنک ٹینک، تھنکنگ ٹینک سےہوتا ہوا میرے حالیہ منصوبے بھاٹی گیٹ تک جاری ہے۔میرا اگلا قدم ایک کتاب اور رسالے کا اجراء ہوگا۔

بھاٹی گیٹ ایک شاندار ریسٹورنٹ ہے جو اسلام آباد میں سنٹورس کے تیسرے فلور پر واقع ہے جس سے اسلام آباد اور مارگلہ پہاڑیاں سامنے دکھائی دیتی ہیں۔یہ کھلا ٹیرس رکھنے والاریسٹورنٹ اسلام آباد میں سب سے بلند مقام پر واقع ہے ۔پرکشش بھاٹی گیٹ کی وضع اپنی مثال آپ ہے جس کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا گیا۔

میرے ہر منصوبے سے میری زندگی کے تجربے میں اضافہ ہوا۔میرے حالیہ منصوبے سے مجھے میزبانی اور انسانی رویّوں کے معاملے میں جھانکنے کا انوکھااتفاق ہوا۔ آج میں آپ  کو اپنا تجربہ بتاتا ہوں۔بھاٹی گیٹ کا آغاز 16جون 2017ء کوخاموشی سے کیا گیا( اس کا باقاعدہ افتتاح ١٨ جولائی کوعمران خان کے ہاتھوں ہوا)۔میں نے دیکھا کہ میر ے وہ دوست جنہیں میں زیادہ وقت اور توجہ نہیں دے سکا وہ بھی خود بخود بھاٹی گیٹ چلے آ رہے ہیں اور ہماری حوصلہ افزائی کے لیے اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی مدارت کر رہے ہیں۔مجھے اعلیٰ درجے کی مہارت اور مرتبہ  کا پس منظر رکھنے والے ماہر اجنبیوں سے بھی ملنے کا اتفاق ہواجو کھانے کے بعد مجھے آکر ملے، دلی خلوص کا اظہار کیا اور اس کاروبار میں خطرات اور مشکلات سے نبرد آزماہونے کے لئے اپنے قیمتی مشوروں سے نوازا۔میں اُن لوگوں سے واقف نہیں تھا پھر بھی بڑی  ذمہ داری سے وہ ہمارے اچھے کام کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔میں نے سوشل میڈیا پر اُن لوگوں کے پیغامات بھی پڑھے جس سے کبھی ملنے کا اتفاق نہیں ہوا مگر انہوں نے بڑے اچھے الفاظ میں تعریف کی اور ہمارا حوصلہ بڑھایا۔مجھے وہ غیر ملکی افراد بھی ملے جنہوں نے ہمارے آئیڈیا کو پسند کیا اور اس بات کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے بار بار بھاٹی گیٹ تشریف لائے۔میں نے وہ دوست بھی دیکھے جو چپکے سے آئے اور جاتے ہوئے خاموشی سے محبت  کا نذرانہ دے کر گئے۔مجھے بہت سے دوستوں کے حقیقی خلوص کا نذرانہ ان کے پند و نصائح کی شکل میں ملا  تاکہ اُن کے مشاہدے میں آنے والی مشکلات سے بچ سکوں۔

اس کے ساتھ ساتھ میں نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا  جنہیں میں نے زندگی بھر توجہ اور وقت دیا اور زندگی میں ان کا ساتھ دیا مگر وہ دور سے خاموشی کے ساتھ تماشہ دیکھتے رہے۔پرانی کہاوت تھی کہ آپ کے دکھ اور تکلیف کے وقت آپ کے دوستوں کی موجودگی اور ساتھ دینے سے ان کی خلوص کی پہچان ہوتی ہے۔اس کہاوت کو میں آج بدل کر کہتا ہوں کہ اپنے دوستوں کی دوستی کو اپنی کامیابی اور فتح مندی کےوقت ان کے اظہارخوشی سے پرکھئےکیونکہ اظہار غم سے خوشی کا اظہار کرنا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔مبارکباد دینے سے تعزیت کرنا  بہت آسان ہے کیونکہ زبانی جمع خرچ عمل کے مقابلے نسبتاً آسان ہے۔

یہ سبق میں نے بھاٹی گیٹ کے تجربے سے حاصل کیا۔ میں ان سب دوستوں سے معذرت چاہوں گا جن کو ماضی میں مبارک باد نہ دے سکا یا ان کی خوشی کے موقع پر شرکت نہ کر سکا۔میں چاہتا ہوں کے اپنے تجربے سے سب کو رو شناس کروں۔میں کوشش کروں گا کہ ماضی میں دوستوں اور عزیزوں سے ضرورت کے وقت میرے دستیاب نہ ہونے والی کوتاہی کا ازالہ کر سکوں۔میں  “اپنے دشمن کو پہچانو”  والی کہاوت کو “اپنے دوستوں کو پہچانئے”  سے بدل رہا ہوں۔

ہماری زندگی کی تیز رفتاری بسا اوقات دوستوں اور عزیزوں کو پہچاننے میں حائل ہو جاتی ہے۔اس لئے اپنے دوستوں کو پہچانئے، ان کے ساتھ وقت گذاریں اور انہیں توجہ دیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں اور آپ کی خوشی پر شاد ہیں، جو آپ کے ساتھ مخلص ہیں ،جو آپ  کارناموں اور کامیابی پر خوشی محسوس کرتے ہیں۔یہی زیادہ بہتر انتخاب ہوگا۔

آخر میں اپنے دوست اور ملائشیا سفارت خانہ کے فرسٹ سیکرٹری سایاول آرس کا مشکور ہوں جو بار باراپنے اہل خانہ کے ساتھ بھاٹی گیٹ تشریف لائے۔ان تمام دوستوں کا ایک بار پھر شکریہ جو میری خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں۔

سیکھنے کا عمل ہمیں بہتر انسان بناتا ہے اور اپنے تجربات دوسروں سے بیان کرنا  ہمیں اچھا شہری بنائے گا۔


Bhaati Gate is such an amazing learning experience of my life.

By Ahmad Jawad

My journey from a Ravian TO Naval Officer TO a Submariner TO Founding Country Head of German multi national company TO Anchor Person of PTV TO a Politician TO a Media Person TO Social Media Expert,Trainer & Speaker TO Agriculturist TO Islamabad Stock Exchange Member TO Digital Strategist TO Founding Member BoD German Pak Chamber of commerce & Industry TO a Graduate of NDU TO a Solar Energy strategic Expert TO Representative of numerous foreign firms in Pakistan TO Philanthropy work in education, health, clean drinking water,skill development at a remote village in the name of my parents TO Video Productions TO Imports TO Think Tanks TO Thinking Tanks TO International exposure of 30 countries TO my latest venture ” BHAATI GATE”. My next venture will soon be a book & Magazine-Coming Soon.

Bhaati Gate is a fine dining restaurant at 3rd floor of Centaurus, Islamabad with an open Terrace overviewing Islamabad and Margalla Hills. It is the highest point restaurant within Islamabad City with open Terrace. Bhaati Gate is an original theme restaurant with most unique concept never conceived before.

Every venture of my life added to my learning experience in life. My latest venture gave me a unique insight in the business of hospitality and human behaviour. Today I share some of my experiences here.

After the soft launch of Bhaati Gate on 16 Jun 2017 (formal inauguration is planned by Imran Khan during this month), I saw friends whom I never gave enough attention and time in the past, coming to visit Bhaati Gate at their own expense, hosting their events with friends n family only to encourage us.

I met unknown people of high professional background & stature who after taking their meals/snacks at Bhaati Gate came looking for me and praised our efforts from their heart and also gave expert suggestions to avert threats & challenges of such business, I never knew them, they were just socially responsible people who wanted to encourage a good work.

I read social media messages of people I never knew and never met, who gave such kind words of encouragement and praise.

I met foreigners who simply liked the idea and made it a point to encourage me and repeatedly visited Bhaati Gate.

I saw friends coming to Bhaati Gate silently to drop a token of love very silently.

I felt the real & sincere concern from many of my friends while giving me tips and advise to avert challenges based on their observations.

At the same time, I observed and felt the silence, isolation or watching like a spectator attitude of those whom I gave more attention, time and support in my entire life.

Old myth was to judge your sincere friends from presence or participation of friends at a time of your grief and pain.

Today I am changing this thought.

“Judge your good friends from their participation & gesture in your time of accomplishment and success. It is easy to portray grief than to portray joy. Condolence is easier than greetings. Words are easier than actions”.

I learnt this with my experience of Bhaati Gate and would apologise to all those whom I missed to greet or missed participation at their success or happiness in the past. I thought I must share my learning with everybody. I will try to make up for my failures to be with my friends n family when required in my past.

I am changing another old saying ” Know your enemy” TO ” know your friends”.

Our fast track life sometimes blind us to recognise your real friends n family in life, so know your friends, spend your time with them, give your attention to those who love you, who cherish you, who are sincere to you, who feels joy in your accomplishment & success. It will be far more productive choice.

In the end, Thanks to our friend Sayawal Aris, First Secretary Malaysian Embassy who repeatedly visited Bhaati Gate with his family.

Thanks again to all my friends who are sharing my joy like their own.

Learning makes us better human being and sharing our learning makes us better citizen.