Bilawal and Pets

25

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


My article “ Bilawal Butto – Sharam Tummay Magar Nahi Atti http://www.insaf.pk/public/insafpk/blog/bilawal-zardari-insaf-blog-ahmed-jawad was treated with labels of terrorism, abuses and threats.

I am grateful to Omar Qureshi for sharing it without any indecent comments but with some questions. i respect opinion of Omar Qureshi and i understand being a media trainer to Bilawal, he had to come forward.

However, thread of Omar Qureshi tweet had been followed by pets of Bhutto and Zardari Khandan. I can also digest comments of Bakhtawar bhutto as what else she might have known about life, struggle, sacrifice, poverty, deprivation, hunger, injustice, she was born with a silver spoon and luxuries around us with the black money of his father. She has lived more in Uk than in Pakistan. She may have leant nothing except english language which a Pakistani labour working in Uk also learns. She cannot understand what is the blood of Amal, so i ignore her comments.

Though my article was pitched for attack and abuses but majority of followers supported my stance, despite it was a hostile pitch for me. I am grateful to them for supporting sanity.

A fake intellectual with the name of Aniq Zafar has questioned my accomplishment and experience.

My dear Aniq Zafar, a fake intellectual, funded with foreign money, running a useless communication company, always looking for a job or a free trip abroad. let me briefly inform you who i am: I am a submariner and Naval Officers for 18 years, I am an Anchor Person for PTV for 8 years, I am former and Founding MD/country head of a German multi national company Rohde & Schwarz for 10 years with a sales income of 500 million dollar during my tenure. I am Serial entrepreneur in agriculture, Solar energy, digital Information, real estate, Social Media, Surveillance Technology, Stock Exchange, Hospitality and many more. I have been awarded at International Sales conference on 3 occasions for best performance among 70 countries. You might need 10 lives to match this experience. You may not survive one day onboard a submarine. I am not fond of boosting but i have to inform a loser about life earned through accomplishment and not by appeasements.

Let me again explain the background of my article once again. Seven year old Amal never knew about Bilawal, Zardari and their pets. Only parents of Amal know the bitter truth that their city of Karachi has been ruled for last 10 years by PPP which can only boost about a Zinda Bhutto who was hanged on murder charges 38 years ago. In last 10 years, their province has seen murders, kidnapping, rapes, 100s dying with heat stroke, 1000s dying with starvation and thirst, 1000s die of malnutrition and lack of medical facilities. Amal did not know “Bhutto Zinda Hai”, she took a bullet and she could not be given medical help in Karachi. Such is the state of affairs in Karachi, why i should not say that every bullet taking one life in Sindh is a bullet whose responsibility is on Bhuttos and Zardaris? Why should i not say that such rulers go to hell or such bullets should go to those who are responsible instead of innocent citizens?

Parents of Amal will never be able to live a normal life again. Parents taking their small kids out for fun, suddenly saw their daughter covered with blood, they rush for hospitals but they forgot that Bilawal and Zardari arranged such emergency medical support only for their family.

Anwar Majeed, the don of financial crimes and front man of Zardari and Balawal, is just one ugly window out of thousands of such windows of a crime house built by Zardari. Only one window has been opened, and their screams can be heard from thousands of miles.

I have firm belief that pain of Amal’s mother will not go waste. Allah will hear her prayers. Bilawal and your family better be ready for justice of Allah.


بلاول اور اُس کے پالتو گماشتے

احمد جواد


 http://www.insaf.pk/public/insafpk/blog/bilawal-zardari-insaf-blog-ahmed-jawad

پر لکھے گئے میرے “مضمون بلاول بھٹو ۔شرم تم کو نہیں آتی” کی بدولت مجھ پر دہشت گردی کا لیبل چسپاں کیا گیا، مجھے گالیوں اور دھمکیوں سے نوازا گیا۔

میں جناب عمر قریشی کا مشکور ہوں جنہوں نے غیر شائستہ کمنٹس کے بغیر اسے شیئر کرتے ہوئے کچھ سوالات کئے ہیں۔

تاہم عمر قریشی کی ٹویٹ کا نکتہ بھٹو اور زرداری خاندان کے پالتو گماشتوں کو بھا گیا ہے۔ مجھے بختاور کے خیالات بھی سمجھ میں آتے ہیں جو سونے کا چمچہ منہ میں لے کر پیدا ہوئی ۔اُس کو کیا معلوم زندگی میں جدو جہد، قربانی، غربت، محرومی، بھوک اور نا انصافی کیا ہوتی ہے۔ اُس نے تو اپنے ارد گرد تعیشات اور اپنے والد کی کالی دولت کی بھر مار دیکھی ہے۔ اُس کی زندگی پاکستان سے زیادہ انگلینڈ میں گذری ہے۔ اُس نے انگریزی زبان بولنے کے علاوہ کچھ نہیں سیکھا جو یو کے میں کام کرنے والا مزدور بھی سیکھ لیتا ہے۔بختاور کو امل کے بہنے والے خون کی کیا قدر اس لئے میں اُس کے تبصرے کو نظر انداز کرتا ہوں۔

اگرچہ میرے مضمون کو یلغار اور گالیوں کے لائق سمجھا گیا پھر بھی بہت سے ناقدین نے میرے نقطہ نظر سے اتفاق کیا جو میری مخالفت کا باعث بنا۔ میں ان سب کا ممنون ہوں جنہوں نے خردمندی کا ساتھ دیا۔

انیق ظفر نامی ایک جعلی دانشور نے میری زندگی میں حاصل کردہ کامیابیوں اور تجربے کے بارے سوال کر ڈالے۔

بیرونی سرمائے سے ایک بے فائدہ کمیونیکیشن کمپنی چلانے والے میرے عزیز جعلی دانشور انیق ظفر تم تو ہمیشہ کسی نوکری یا غیرملکی دورے کی تاک میں رہا کرتے تھے۔ میں اپنے بار ے مختصراً تمہیں بتاتا ہوں ۔ میں اٹھارہ برس تک ایک نیول آفیسر کے طور پر سب میرینر رہا ہوں۔ میں نے پی ٹی وی پر آٹھ برس پروگرام اینکر کے طور پر میزبانی کی ہے۔ میں ایک جرمن ملٹی نیشنل کمپنی رہوڈ اینڈ شوارز کا بانی مینیجنگ ڈائریکٹر اور کنڑی ہیڈ رہا ہوں جس کے عہد میں کمپنی کو 500ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔ میں بالترتیب زراعت، سولر انرجی، ڈیجیٹل انفارمیشن، رئیل اسٹیٹ، سوشل میڈیا، نگران ٹیکنالوجی، سٹاک ایکسچینج اورمہمان نوازی اور مدارات کے منصوبوں میں جدت آمیز سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔میں بین الاقوامی سیلز کانفرنسوں میں تین مرتبہ 70 ممالک کے شرکاء کے مقابلے میں بہترین کارکردگی پر ایوارڈ حاصل کر چکا ہوں ۔اس طرح کا تجربہ حاصل کرنے کے لئے تمہیں دس مرتبہ جنم لینا ہوگا۔ تم تو آبدوز میں ایک دن میں زندہ سلامت نہ رہ سکو گے۔مجھے ڈھینگیں مارنا پسند نہیں مگر زندگی میں ناکامیوں کے خوگر شخص کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں نے یہ کامیابیاں زندگی میں محنت سے سمیٹی ہیں کسی کی کاسہ لیسی نہیں کی۔

میں اپنے مضمون کا پس منظر ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں۔ سات سالہ ننھی امل کو بلاول ، زرداری اور ان کے گماشتوں کی کیا خبر ہوگی۔ صرف اس کے والدین کو یہ تلخ حقیقت معلوم تھی کہ کراچی شہر پر پچھلے دس سال سے پیپلز پارٹی کا راج ہے جس کی واحد کمائی وہ زندہ بھٹو ہے جسے 38سال قبل قتل کے الزام میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا تھا۔پچھلے دس برس سے ان کے صوبے میں قتل، اغوا، آبروریزی کا شکار ہونے والوں کے علاوہ گرمی کی لہر سے سینکڑوں مرنے والوں، بھوک اور پیاس سے مرنے والے ہزاروں افراد کے علاوہ غذا کی کمی اور دوائیوں کی قلت سے مرنے والوں کی تعداد بھی ہزاروں سے تجاوز کر چکی ہے۔ امل کو معلوم نہیں تھا کہ بھٹو زندہ ہے۔ اُس نے تو گولی کھائی اور اسے کراچی کے کسی ہسپتال میں طبی امداد بھی نہ مل سکی۔جب کراچی کے حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہوں تو میں کیوں نہ کہوں کہ سند ھ میں زندگی کا خاتمہ کرنے والی ہر گولی کی ذمہ داری بھٹوؤوں اور زرداریوں پر عائد ہو تی ہے۔ میں یہ کیوں نہ کہوں کہ اس طرح کے حاکموں کو جہنم رسید ہونا چاہئے یا معصوم شہریوں کو لگنے والی گولیاں حالات کے ذمہ داروں کو لگنی چاہئیں؟

امل کے والدین اب معمول کے مطابق زندگی نہیں گذار سکیں گے۔ وہ بچوں کی تفریح کی غرض سے باہر نکلے تھے کہ اچانک انہوں نے اپنی بچی کو خون میں لت پت پایا۔ وہ ہسپتال کی جانب لپکے مگر انہیں کیا معلوم کہ اس طرح کی طبی سہولیات تو بلاول اور زرداری کے خاندان لئے مختص ہیں۔

مالی جرائم کا ڈان، زرداری اور بلاول کا فرنٹ مین انور مجید اُس جرائم کدہ کے ہزاروں مکروہ دریچوں میں سے محض ایک دریچہ ہے۔ ابھی تو صرف ایک دریچہ وا ہوا ہے اور ہزاروں میل تک ان کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔

مجھے پکا یقین ہے کہ امل کی والدہ کا درد رائیگاں نہیں جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ضرور اس کی فریاد سنیں گے۔ بلاول تمہیں اور تمہارے خاندان کو اللہ کے انصاف کا سامنا کرنے کے لئے ضرور تیار رہنا چاہئے۔

Facebook Comments