Blowing Horns to a Nation in Deep Sleep is a Crime.

1185

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ” Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/


I agree with Imran Khan stance of boycotting Parliament because my problem (Pakistani problem) is not one odd visit of Erdogan. Neither our trade, economy or industry depend on Turkey nor boycotting parliament will effect strong historical relationship of Turkey & Pakistan. Erdogan is not immature like us that he would even consider such act of Imran Khan as an offence. He was here to diffuse political situation & help his friend Mian Nawaz Sharif. After all, what are friends for? Mian Nawaz Sharif has been & is constantly saved by Saudi, Qatari & Turkish rulers at different times, because all of them believe this nation has no honour & it is their right to poke their nose into the affairs of a dishonour nation & save their friends & let the nation sleep.

China is only country in the world who do not fall in love with a ruler of Pakistan, their interest or love is with Pakistan. For them it does not matter who rules in Pakistan.

The worry of our nation is not daily corruption of billions ( Ref: Former Chairman NAB Adm Fasih Bokhari), its worry is why Imran Khan did not attend Parliament to pay homage to Erdogan. Typical mindset of this nation who is always more worried for other nations than own troubles.

Imran Khan very rightly tried to deflect the move of Mian Nawaz Sharif by boycotting parliament & maintaining the very critical pressure on Panama issue. Imran Khan is one man in entire history of Pakistan who is blowing horns over the heads of a everlasting sleeping state of Pakistanis. Nobody likes blowing horns especially when he is asleep & his sleep is not his need but disease. So anguish on blowing horns by Imran Khan is well understood.

When Islamabad lockdown was announced the entire breed of intellectuals condemned his decision but, then, entire nation saw that his decision managed to wake up at least the 7 month deep sleep of Judiciary. Judiciary was awake on such blowing horns by Imran Khan  & nation suddenly got into excitement from somber sleep into clapping.

Mian Nawaz Sharif might be a bad cricketer but master of politics, he played the master stroke of Qatari Prince to slow down  the dangerous pace of Judiciary & arranged the circus of Erdogan visit. Master stroke went over the fence: Judiciary again started feeling the inherent disease of deep sleep so unintentionally kept date of next hearing on the retirement date of Raheel Sharif, remember this is same Judiciary who said we would hold daily hearing till decision. Second effect of master stroke was that nation got back into a useless debates like Erdogan visit & Imran Khan boycott of Parliament.

Most of Imran Khan decisions have been right in all his political struggle but problem always lied with execution. He could choose right people for right job in cricket but he always choose wrong people for right job in Politics. He could not create one Aitzaz Ahsan or Babar Awan for his legal battle in his politics. Losers always find a vacancy next to Imran Khan. Such losers have always ditched him. His problem is his honesty & his belief in ” Change” and he assumes his team is always honest & equally passionate with him.

Testimony of our deep sleep as a nation is proven by a small example during the same time when our worry was stuck with boycott of Imran Khan, Pak Turk School System which has 28 branches in Pakistan with 11000 students, 400 Turkish staff & their family with 35% free education & boarding facilities to deserving students had been sent into a disaster because Turkish Govt found its links with Gullen. We a dishonoured nation just obliged the Turkish orders ahead of Erdogan visit. Gullen chain of school is found in many countries but Turkey could not ask any other country except Pakistan to close down an educational institute of 11000 students because we can be ordered by any country who manages a personal friendship with our rulers.

Question:

Was the future of 11000 student our concern in last few days? our concern was boycott of Parliament by IK.

Why to blame Mian Nawaz Sharif or Zardari or Musharraf for our destruction, we deserve such leadership.We deserve to have fake wills & fake letters to continue the deep sleep of this nation.


ہارن بجانا منع ہے  قوم سو رہی ہے

احمد جواد

 

میں عمران خان کے پارلیمنٹ کے با ئیکاٹ کے موقف  کی تائید کرتا ہوں کیونکہ اردگان کا  دورہ میرا یا پاکستان کا مسئلہ نہیں۔ نہ ہماری تجارت ،  معیشت اور صنعت کاری کا انحصار ترکی پر ہے اور نہ ہی پارلیمنٹ کے بائیکاٹ سے پاکستان اور ترکی کے تاریخی اورمستحکم تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا۔اردگان ہماری طرح نا سمجھ نہیں کہ وہ عمران خان کے اس اقدام کو نا فرمانی سمجھنے لگیں۔ وہ تو یہاں سیاسی صورتحال کو سلجھانے اور اپنے دوست میاں نواز شریف کی مدد کے لئے آئے تھے۔ آخر دوست ہوتے کس لئے ہیں؟ مختلف اوقات میں سعودی، قطری اور ترک حکمران ہمیشہ سے نواز شریف کے بچاتے آئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اس قوم کی کوئی غیرت ہی نہیں اور ایسی قوم کے معاملات میں دخل اندازی ان کا حق ہےتا کہ وہ اپنے دوستوں کو بچا سکیں اور اس قوم کو سو یا رہنے دیں۔

چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے  جو پاکستان کے کسی حکمران کی محبت میں گرفتار نہیں ہوا۔اس کا مفاد اور محبت صرف پاکستان سے وابستہ ہے۔ پاکستان پر حکمرانی کون کر رہا ہے چین کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ہماری قوم کو ہر روز ہونے والی اربوں رہپے کی کرپشن کا کوئی غم نہیں (بحوالہ فصیح بخاری سابق نیب سربراہ)۔ اسے اگر کوئی دکھ ہے تو وہ یہ کہ  اردگان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے عمران خان نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں شرکت کیوں نہیں کی۔ یہی ہمارا عمومی رویہ ہے کہ ہمیں اپنی مشکلات کی بجائے دوسری قوموں کے بارے زیادہ فکر لاحق رہتی ہے۔ عمران خان نے پانامہ قضئیے پر پورا دباو برقرار رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرکے میاں نواز شریف کے وار کو پلٹ کر درست قدم اٹھایا ہے۔ عمران پاکستان کی تاریخ کا وہ واحد شخص ہے جو پاکستانیوں کو خواب غفلت سے جگانے کے لئے ان کے سرہانے مسلسل بھونپو بجا رہا ہے۔ کوئی شخص پسند نہیں کرتا کہ اس کی نیند کے دوران ڈھول پیٹے جائیں خاص طور پر جب نیند ضرورت کی بجائے اس کا مرض بن چکی ہو۔ اس طرح عمران کے نقارے کے شور سے ہونے والی کوفت کی سمجھ اچھی طرح آتی ہے۔

جب عمران خان نے اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان کیا تو دانشوروں کی فوج نے اسے رد کردیا۔پھر ساری قوم نےدیکھا کہ اس فیصلے نے کس طرح سات ماہ سے گہری نیند میں کھوئی عدلیہ کو بیدار کر دیا۔ عدلیہ بھی عمران خان کے بگل بجانے پر جاگی اور قوم مایوس کن نیند سے یکلخت بیدار ہوکر خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔

میاں نواز شریف کرکٹ کے بُرے کھلاڑی ہو سکتے ہیں میگر وہ سیاسی مہارت میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ انہوں نے عدلیہ کی سبک رفتاری  کو سست روی میں بدلنے کے لئے قطری شہزادے کے خط کا داو کھیلا اور اردگان کے دورے کا ڈرامہ رچایا۔داو کام کرگیا اور عدلیہ کو نیند کے پیدائشی عارضے کی حاجت ہونے لگی اور اس نے سماعت کی آئندہ تاریخ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد کی رکھی۔  یاد رہے یہ وہی عدلیہ ہے جس کا عزم تھا کہ وہ فیصلہ ہونے تک روزانہ کی بنیاد پر سماعت جاری رکھے گی۔  نواز شریف کے اس چھکے کے بعد قوم پھر سے عمران خان کے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ اور اردگان کے دورے کی فضول بحث میں الجھ گئی ہے۔

عمران خان کی تمام تر سیاسی جدوجہد میں ان کے فیصلے ہمیشہ درست ثابت ہوئے مگر ان پر عمل درآمد کا مسئلہ ہمیشہ در پیش رہا۔وہ کرکٹ کے میدان میں ہمیشہ درست کام کے لئے درست افراد کا انتخاب کرتے رہے۔ مگر انہوں نے سیاسی کاموں کےلئے ہمیشہ غلط افراد کا انتخاب کیا۔  وہ سیاسی محاذ پر کوئی اعتزاز احسن یا بابر اعوان تخلیق نہیں کر سکے۔ عمران کا مسئلہ ان کی ایمانداری اور تبدیلی پر ایمان ہے۔  وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ٹیم ان ہی کی طرح ایماندار اور جذبہ شوق سے سرشار ہے۔

ہماری خواب غفلت میں محویت کا ثبوت ایک مثال سے واضح ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں ترک سکول سسٹم کی 28برانچوں میں 11000 طلبا زیر تعلیم ہیں۔مستحق غریب طلبا کو تعلیم اور بورڈنگ کے اخراجات میں 35فیصد رعایت دی جاتی ہے ۔ جب ہماری فکر مندی عمران خان کے بائیکاٹ پر اٹکی ہوئی تھی ترک حکومت نے ترک سکول سسٹم کے ان  400 اساتذہ کے رابطے گولن سے ڈھونڈ نکالے تھے جو اپنے اہل و عیال سمیت پاکستان میں مقیم تھے  مگر انہیں مصیبت میں مبتلا کردیا گیا۔ ہم ٹھہرے غیرت سے عاری قوم جس نے اردگان کے دورے سے پہلے ترک احکامات کی تعمیل کر ڈالی۔ گولن کے سکولوں کا سلسلہ کئی ممالک میں پایا جاتا ہے مگر ترکی نے 11000 طلبا والے پاکستان کے تعلیمی اداروں کے سوا کسی ملک میں سکول بند کرنے کا نہیں کہا کیونکہ کوئی بھی ملک جس کے ہمارے حکمرانوں سے دوستانہ مراسم ہیں ہمیں حکم دے سکتا ہے۔

سوال:پچھلے چند روز میں کیا ہم 11000 طلبا کے مستقبل کے بارے فکر مند تھے یا ہماری فکر مندی  عمران خان کے پارلیمنٹ کے بائیکاٹ تک محدود تھی؟

ہم میاں نواز شریف، زرداری  یا مشرف کو اپنی بربادی کا ذمہ دار کیوں گردانتے ہیں جبکہ ہم اسی طرح کی قیادت کے مستحق ہیں۔ نیند کےخمار میں مبتلا یہ قوم جعلی وصیت ناموں اور جعلی شاہی خطوط کی ہی مستحق ہے۔

Facebook Comments