BTH Film Review – MAALIK

453

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ” Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/


Ashir Azeem first came to limelight with his famous  ” Dhuwan” TV serial back in 1994. He is Christian by religion & belongs to Quetta. He is a graduate of IBA Karachi. His latest is film ” MAALIK ” is the boldest movie in the history of Pakistan. Film was banned by Advisers of Sharifistan due to its very bold approach on Pakistani politics. Sindh High Court & Lahore High Court both gave the verdict in favour of “MAALIK “. Maalik came back to cinemas recently.

Movie is still going to full houses. Maalik has won at higher courts of Pakistan and now winning hearts of people.I managed last three tickets of a full house at a Cinemax.

Theme of movie revolves around bitter realities of our politics with a struggle, dream and hope to change the system.

A very strong script, good acting by Ashir Azeem along with strong roles of a General, CM & front man of CM.

Dialogues crisp & hard hitting. Pace of film fast with suspense & thrill. You can’t take your eyes off screen throughout the film.

Film is all about patriotism, commitment & faith.

Film can easily roll down tears of any person in some of scenes.

Clapping at the end of Maalik is a usual spectacle at every show.

In the end, we wonder who were the advisers of Sharifistan who banned such a movie of great patriotism & spirits?

I recommend every Pakistani to see this movie.


فلم  مالک پر تبصرہ

احمد جواد

عاشر عظیم نے 1994 میں اپنی ایک ٹی وی سیریل “دھواں  “سے شہرت پائی۔ان کا تعلق کوئٹہ سے ہے اور وہ مسیحی ہیں۔انہوں نے IBA  کراچی سے گریجوایشن کر رکھی ہے۔ان کی تازہ فلم پاکستان کی بے باک ترین فلم مالک ہے۔پاکستان کی سیاست پر اپنے بے باک لب و لہجہ کی وجہ سے شریفستان کے مشیروں نے فلم پر پابندی عائد کر دی تھی۔سندھ ہائی کورٹ اور پنجاب ہائی کورٹ نے فلم مالک کے حق میں فیصلہ دیا جس کے بعددوبارہ حال ہی میں سنیما گھروں کی زینت بنی ہے۔

یہ فلم ابھی بھی بڑی کامیابی سے چل رہی ہے۔پاکستانی عدالتوں میں کامیابی کے بعد فلم بینوں کے دلوں کو بھی تسخیر کر رہی ہے۔مجھے بھی ایم مقامی سنیما میں ایک شو کے آخری تین ٹکٹ حاصل ہوئے۔

فلم کا مرکزی خیال ہمارے سیاسی نظام کی تلخ حقیقتوں کے گرد گھومتا ہے اور نظام کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھنے، امید بندھانے اور جدوجہد کرنے کا پیغام دیتا ہے۔

بہت اعلیٰ سکرپٹ ، ایک جرنیل، وزیراعلیٰ  اور اس کے فرنٹ مین کے مضبوط کرداروں کے ساتھ عاشر عظیم کی اداکاری متاثر کن ہے۔

مکالمے زبردست اور بر جستہ ہیں۔ حیران کن اور سنسنی خیز اس فلم کا  تیزٹیمپو پردہ سکرین سے آپ کی نظریں ہٹنے نہیں دیتا۔فلم حب الوطنی، عزم مصمم اور یقین محکم کا درس دیتی ہے۔

فلم کے کچھ مناظر دیکھ کر آنکھوں سے بے اختیار آنسو جاری ہو جاتے ہیں۔

ہر شو  کا اختتام روزانہ  فلم بینوں کی پر جوش تالیوں کی گونج سے ہوتا ہے۔

آخر میں حیرت اس بات پر ہے کہ شریفستان کے وہ کون سے مشیر ہیں جنہوں نے حب الوطنی کی آئینہ دار اس فلم پر پابندی لگوائی۔

ہر پاکستانی کو میں یہ فلم دیکھنے کی تاکید کرتا ہوں۔