China is My Big Boss.

45

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


In our country, speaking against USA is “Sawab Darain” and speaking against China, KSA & CPEC is “Gunah Azeem”.

After Saudi Journalist was cut into pieces alive in Saudi embassy @Turkey, it is even more dangerous to speak against KSA.

I don’t understand my nation, though I keep striving to know my nation. CPEC has been kept secret, perhaps only contract in Free World which cannot be shared with its own public. It’s a good legal way to hide all our corruption and we feel so bound to keep it secret. I wonder, Should I use my “Right to Information” option to unplug its secrecy and should I approach SC to know the secret clauses which has to be kept away from its nation.

We should invite Mahathir to give us tutorial how to handle Chinese investment. Even Mahathir speeches on Chinese investment can be used for tutorials at GHQ, NDU, Parliament, Senate & especially planning Ministry.

Friends of CPEC, China & KSA must also think for their own country for a change instead of praising them day n night. China needs us, and we need Russia, Central Asian States & Turkey.

Needs must not make us slaves, needs should drive us on path of glory & self reliance.

I have Visas for USA, UK, Schengen, Malaysia from 1 to 5 years and I have visited most part of world. One visa which I will never apply again, it is Chinese visa, Chinese embassy asks things which are nearly impossible for a normal Pakistani . Requirement varies from Letter from Chinese Chamber to Chinese company invitation letter to Chinese Foreign Ministry Barcode etc. This special visa treatment to Pakistanis is not given by any other country including USA, UK, Europe & even India.

”Thank You”China for insulting our visa applicants every day. We deserve to have this insult because our government officials are shy to raise such objections.

Did you ever hear any Pakistani official speak about this? Of course not, because they are treated as VIPs and Chinese are best in treating VIPs with Super protocol.

Chinese Ambassador has access to our top officials like he is Chairman East India Company.

All countries in the world keep visa terms on reciprocative basis. Every Pakistani is made to struggle at Chinese embassy but we are like red carpet for them.

We are a nation whose first strategic romance was with British, as a token of slavery, and we never forget that romance.

Our second romance was USA.

Our third romance is with China and we don’t want to listen to any comments that might upset our friends.

In all our episodes of romance, we are all sweet & honey, and our friends are calling the shots.


میرا بِگ باس چین ہے


احمد جواد

ہمارے ملک میں امریکہ کے خلاف بات کرنا ثواب دارین کا باعث سمجھا جاتا ہے اور چین، سعودی بادشاہت اور سی پیک کے خلاف بات کرنے کو گناہ عظیم گردانا جاتا ہے۔

ترکی میں قائم سعودی سفارت خانے میں سعودی صحافی کو قتل کرکے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ذکر کرنا تو سعودی حکومت کے خلاف بات کرنے سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔

میں اپنی قوم کے بارے جاننا چاہتاہوں مگر مجھے اپنی قوم کی سمجھ نہیں آرہی۔ سی پیک کو پوشیدہ رکھا گیا اور آزاد دنیا میں یہ وہ واحد معاہدہ ے جسے اس ملک کے اپنے باشندوں سے مخفی رکھا گیا۔اپنی کرپشن کو چھپانے کا یہ اچھا قانونی طریقہ نکالا گیا ہے اور ہم اس کو چھپا کر رکھنے پر مجبور ہیں۔ میں ورطہ حیرت میں مبتلا ہوں کہ اس پوشیدگی کا پردہ چاک کرنے کے لئے کیا میں معلومات حاصل کرنے کا اپنا آئینی حق استعمال کر سکتا ہوں؟ کیا مجھے سپریم کورٹ کے باب عدل پر دستک دینی چاہئےتا کہ میں اس کی قوم سےخفیہ رکھی گئی شقوں کے بارے جان سکوں؟

ہمیں مہاتیر محمد کو دعوت دینی چاہئے کہ وہ ہمیں چینی سرمایہ کاری سنبھالنے کے بارے تربیت دیں۔ مہاتیر محمد کے چینی سرمایہ کاری کے بارے پڑھائے گئے سبق جی ایچ کیو، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی، پارلیمنٹ، سینیٹ اور بطور خاص منصوبہ بندی کی وزارت میں پڑھائے جائیں۔

سی پیک، چین اور سعودی عرب سے محبت کا ڈھنڈورہ پیٹنے والوں کو دن رات ان ممالک کی مالا جپتے رہنے کی بجائے اپنے ملک میں تبدیلی لانے کے بارے زیادہ سوچنا چاہئے۔ چین کو ہماری ضرورت ہے مگر ہمیں روس، وسطی ایشیائی ریاستوں ااور ترکی کی بھی ضرورت ہے۔اپنی ضروریات کی وجہ سے ہمیں طوق غلامی نہیں پہن لینا چاہئے بلکہ ضروریات کی بدولت ہمیں خود انحصاری اور سربلندی کی راہ پر گامزن ہونا چاہئے۔

میں ایک سے پانچ سال تک کےامریکی، برطانوی، شینجین اور ملائشین ویزوں کا حامل ہوں۔ میں دنیا کے کئی ممالک کا سفر کر چکا ہوں۔میں زندگی میں چینی ویزے کے حصول کی کبھی درخواست نہیں کروں گا کیونکہ چینی سفارت خانہ ایسی دستاویزات کا تقاضا کرتا ہے جنکی فراہمی ایک عام پاکستانی کے لئے ناممکن ہے۔ مطلوبہ دستاویزات میں چینی کمپنی کی جانب سے دورے کے دعوت نامے کے ساتھ چین کے چیمبر آف کامرس کی رضامندی اورچین کی وزارت خارجہ کے بار کوڈ کی فراہمی بھی شامل ہے۔ پاکستانیوں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس خصوصی سلوک کی مثال امریکہ، برطانیہ، یورپ اور بھارت جیسے کسی ملک میں نہیں ملتی۔

چین والو! ویزے کے لئے درخواستیں دینے والے پاکستانیوں کو ہر روز رسوا کرنے کا بہت شکریہ۔ ہم اسی سلوک کے مستحق ہیں کیونکہ ہمارےسرکاری حکام اتنے بے بس ہیں کہ آپ کے سلوک پر آواز بلند نہیں کر سکتے۔

کیا تم نے کبھی کسی پاکستانی افسر کو ان مشکلات کے بارے داد فرہاد کرتے دیکھا سنا ہے؟ نہیں نا؟ کیونکہ یہ افسران وی آئی پی سلوک کے متمنی ہوتے ہیں اور چین والے سپر پروٹوکال اور وی آئی پی سہولیات بہم پہنچانے میں بہت ماہر ہیں۔

ہمارے افسران بالا تک چینی سفیر کی رسائی دیکھ کر لگتا ہے جیسے وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا چیئرمین ہو۔

پوری دنیا میں ویزہ سہولتوں کی فراہمی برابری کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ ہر پاکستانی چینی سفارت خانے میں دھکے کھاتا پھرتا ہے اورہم ان کے لئے ریڈ کارپٹ اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں۔

ہم وہ قوم ہیں جن کا اولین رومان برطانیہ کے ساتھ بڑھا جس کی نشانی صدیوں پرانی غلامی تھی۔

ہم نے دوسرا رومان امریکہ کے ساتھ پروان چڑھایا۔

ہمارے تیسرے رومان کی پینگیں چین کے ساتھ چڑھائی جارہی ہیں اور ہم کوئی ایسی بات سننا پسند نہیں کرتے جس سے دوستی پر حرف آئے۔

اس تمام تر رومان پروری میں ہم شہداورشکر بنے ہوئے ہیں اور یار لوگ گلچھرے اڑارہے ہیں ۔

Facebook Comments