20 Feet Circle of Advisers make or break a leader.

63

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


20 فٹ کے دائرے میں موجود مشیرجو لیڈر کو بناتے یا بگاڑتے ہیں

احمد جواد

انتخابات کے لئے الیکٹیبلز اور خواتین کی مخصوص نشستوں کے چناؤ پر بہت سے لوگوں کو مایوسی ہوئی ۔حالیہ پیش آنے والے شدید ردّ عمل پرخود عمران خان کو وضاحتیں دینی پڑیں۔

عمران خان کو الیکشن جیتنا ہے اور وہ جیت بھی جائیں گے مگر اُن کاہر غلط فیصلے پر وضاحتیں پیش کرنااچھا نہیں لگتا خاص طور پر جب وہ ملک کے آئندہ حکمران بننے جارہے ہیں۔

مجھےعمر ان خان کی بصیرت، ان کے عزم، ان کی ثابت قدمی، ان کے کرپشن سے پاک لازوال مقام اور ان کی ہر ہزیمت اور چیلنج کے بعدفتح مند واپسی کی صلاحیت پر کبھی شک نہیں گذرا۔تاہم ہر لیڈر کو اچھے، مخلص، ایماندار، صاحب بصیرت، تخلیقی صلاحیتوں کے حامل، اپنے شعبے میں طاق، بھروسہ مند اور بے غرض مشیروں پر مبنی ٹیم کی ضرورت رہتی ہے جواپنے لیڈر کو جیت کے ہدف تک پہنچنے میں مدد فراہم کرے۔

عمران خان کے لئےوزیر اعظم بن جانے کا مطلب یہ نہیں کہ انہوں نے منزل کو پا لیا بلکہ یہ تو منزل کے حصول کی جانب پہلا قدم ہو گا۔

مشیروں کا چناؤ کس طرح عمل میں لایا جائے؟

مشیر دو قسم کے ہوتے ہیں:

1. پہلی قسم کے وہ لوگ ہیں جو اپنی اہلیت نہیں بلکہ محض اپنی خواہش کی بنا پر آرزو مند ہوں کہ وہ کسی بڑے لیڈرکے مشیر بن جائیں۔ اس قسم کے لوگ ایک لیڈر کے اردگرد 20 فٹ کے دائرے میں پائے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال اس میٹھی گولی کی سی ہے جسے کھانے کے بعد نظر اورسماعت دھندلا جاتی ہیں۔

2. دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو 20فٹ کےدائرے میں جگہ نہیں پاتے ۔مگر ایک لیڈر میں اتنی صلاحیت ہونی چاہئے جو ان کی اہلیت کی بنا پر ان لوگوں کو شناخت کرکے انہیں اپنا مشیر مقرر کرسکے۔اس طرح کے لوگ کسی لیڈر کے گرد بیس فٹ کے دائرے میں نہیں پائے جاتے۔ اس قسم کے لوگوں کی مثال اس کڑوی گولی کی سی ہے جسے کھانے کے بعدآنکھوں اور کانوں کی کھڑکیا ں کھل کر مرکوز ہو جاتی ہیں ۔

20فٹ کے فاصلے سے بھی آگے دیکھنا ایک لیڈر کا فرض اور ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر کوئی قائد اس دائرے کے اندر مقیم مشیروں پر بھروسہ کرکے بیس فٹ سے پرے دیکھنا چاہے گا تو وہ لیڈر دور افتادہ چیزوں کو کبھی صاف شفاف طور پر نہیں دیکھ سکے گا۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اچھے سے اچھے لیڈر بھی منزل کا سراغ کھونے لگتے ہیں۔

ہر لیڈر مہاتیر محمد جتنا خوش قسمت نہیں ہوتاجو 93برس کی عمر میں اقتدار میں واپس آکر اپنے گذشتہ دور کی کوتاہیوں کا ازالہ کرے۔

گذشتہ سو سال میں سنگا پور کے لی کوان وہ واحد لیڈر گذرے ہیں جو کبھی منزل مراد سے محروم نہیں رہے۔طیب اردگان، پیوٹن اور مہاتیر محمد میں صلاحیت تھی کہ وہ منزل کو پالیتے مگر ابھی انہیں ہدف تک پہنچنا باقی ہے۔

کچھ سربراہان جو زبردست قسم کے لیڈر تھے مگر اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب نہ ہوئے ان میں چرچل، مارگریٹ تھیچر، شاہ فیصل، قذافی، بھٹو، کینیڈی، اتا ترک اور بہت سے لوگ شامل میں۔

قائد اعظم بھی ہدف تک پہنچ کر آئینی استحکام اور مضبوط اداروں سے مربوط پاکستان قوم کومنتقل کرنے کا ارادہ پورا نہ کرسکے۔ ان کی صلاحیت پر کوئی کلام نہیں۔ ان کی خراب صحت اور بے وقت موت ان کے عزم کے آڑے آگئی۔

عمران خان اپنے خوابوں کی تعبیر کے لئے نا اہل مشیر وں پر بھروسہ کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتے کیونکہ گِدھوں کا کام ہے کہ مناسب موقع اور مقام کی تلاش میں پرواز کرتے رہیں تاکہ وہ اپنے ناپاک عزائم پورے کر سکیں۔

عمران خان پاکستان کے مستقبل کے وزیر اعظم ہیں اور ہمیں اپنی ذاتی خواہشوں اور شکوؤں سے بالا تر ہوکران کی حمائت کرنی چاہئے۔ہماری حمائت ہماری ذاتی اغراض سے مشروط نہیں ہونی چاہئے بلکہ یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کے نتیجے میں قومی سطح پر ہمارے ملک پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے۔


20 Feet Circle of Advisers make or break a leader.

By Ahmad Jawad

Recent reactions on choice of electable and selection of reserved seats for women disappointed many and Imran Khan had to offer explanation.

Imran Khan will win and should win but clarifying after every ill advised decision may not be enough especially when he is very close to become ruler of this country.

I have never doubted his vision, his will, his perseverance, his status of incorruptible, his coming back from every defeat or challenge but every leader needs a team of good, sincere, honest, visionary, creative, professional, committed & selfless advisers to reach to the finishing line of his target.

Becoming PM is not finishing line of Imran Khan, rather it is beginning of his journey towards his goal.

How a leader should choose his advisers?

There are two type of advisers:

1. Those who are keen to become advisers of a great leader out of their ambition but not ability. Such advisers will always be found in 20 ft circle of a Leader. This kind of advisers are like a sweet pill which may blur vision & hearing.

2. Those who may not be seen in 20 feet circle, but the Leader should be able to identify and have them as advisers based on their ability. Such advisers will not be found in 20 ft circle of Leader. This kind of advisers are like a bitter pill to swallow to keep eyes & ears open and focused.

Looking beyond 20 feet circle is duty & responsibility of a leader. If a leader tries to look beyond 20 feet circle through the eyes & ears of advisers within 20 feet circle, such leader will never be able to see clearly beyond 20 feet circle.

From here the best leaders start to fall short of their targets.

Every leader is not that lucky like Mahathir to come back at the age of 93 years and apply corrections to his last regime.

In last one century, only one leader never fell short of his targets is Lee Kuan of Singapore. Tayyip Erdogan, Putin, Mahathir, have the potential to reach to that level but yet to see them at finishing line.

Leaders who were brilliant but fell short of their targets includes Churchill, Margaret Thatcher, Ayub Khan, Shah Faisal, Qaddafi, Bhutto, Kennedy, Atta Turk & others.

Quaid Azam could not reach the finishing line of reaching his target of leaving behind a Pakistan with a constitution, stability & institutional strength not because of lack of ability but because of his health & early death.

Imran Khan can not afford to have bad advisers to execute his great vision because vultures will keep flying around and waiting for right moment, when to land and perform their ultimate goal.

Imran Khan is future Prime Minister of Pakistan and we should support him rising above our personal ambitions & glory. Our support must not be conditional to what we are going to get at individual level but what our country is going to gain at national level.

Facebook Comments