Everything is fair in War & Chaos. Love was lost long ago. If 140 letters tweet brings truth, we love it.

1111
.

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


جنگ اوربگاڑ میں سب جائز ہے

محبت تو کب کی عنقاہو چکی ہمیں سچ سامنے لانے والی 140لفظی ٹویٹ سے پیار ہے

احمد جواد

ٹویٹ یا فیس بک کی شکل میں دیا گیا نقطہ نظر تین ارب آنکھوں اور کانوں کے لئے سب سے بڑی حقیقت ہے۔یہ تبدیلی پچاس یا سو سالہ تیکنالوجی انقلاب کے مقابلے میں دس سال سے بھی کم عرصہ میں واقع ہو گئی۔سوشل میڈیا کے ارتقاء کی غیر موجودگی میں غلط فہمیوں، اندھے اعتقادات، ٹیکنالوجی کے علم کے بغیر اس پر بحث مباحثہ اور مختلف سطحوں پر ان کی قبولیت نے جنم لیا۔پاکستان میں 1971ء سے افراتفری کا عالم ہے۔مشرقی پاکستان کی علیحدگی، بھٹو کی پھانسی، افغان جنگ، سیاچین ، ضیاءالحق کا کریش ، سول حکومتوں کی بار بار برطرفی، اصغر خان کا مقدمہ، 9/11واقعہ کے پاکستان پر اثرات، امریکی جنگ، طالبان، دہشت گردی،وکلاء کی تحریک، سلالہ کا واقعہ، سوات آپریشن، بے نظیر کا قتل، ریمنڈ ڈیوس، انتخابات میں دھاندلی، آرمی پبلک سکول اور ایبٹ آباد حملہ کا واقعہ، میموگیٹ، سویٹزرلینڈ میں چھپائی گئی رقوم، پانامہ لیکس، ڈان لیکس، راء، این ڈی ایس اور پانامہ لیکس پر حالیہ فیصلہ اس کی وجوہات ہیں۔افراتفری کی لہر 47سال سے مسلسل چلی آرہی ہے۔اس کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ ادارے تباہ ہو گئے ہیں اور  حکومتی معاملات ذاتی مفاد، مقاصد ، پسند اور بیرونی اشاروں پر چلائے جا رہے ہیں۔سب سے ضروری آئین  پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔پانامہ لیکس کی حالیہ مثال  ہی کو لے لیجئے کہ  پانامہ انکشافات کے ایک سال بعد بھی ہماری عدلیہ واضح فیصلہ نہیں کر سکی کہ اس کا کون سزا وار ہے۔عدلیہ نے پوری قوم کو ایک جے آئی ٹی کے اندھے گڑھے میں دھکیل دیا ہے۔

اگلی گڑ بڑ ڈان لیکس کا معاملہ تھا جس میں قومی سلامتی کی خلاف ورزی کی تحقیقات میں حکومت نے چھ مہینے لگا دئے اور وزیر اعظم دو ہفتے سے تحقیقاتی رپورٹ کو دبا کر بیٹھے رہے اور  پھر کمیٹی کی سفارشات کو لاگو کرنے کے لئے وزارت داخلہ کو بائی پاس کرتے ہوئے ان کے دفتر سے ایک حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔سوشل میڈیا کی مہر بانی سے اس حکم نامے کی نقلیں آناً فاناًہر طرف پھیل گئیں۔فوج جسے اس عہد خلافی پر گہرا قلق تھا اسے لگا جیسےکمیٹی کی  سفارشات کے بر عکس پرائم منسٹر سیکریٹریٹ کے خط کے اجرا سے اس کی پیٹھ میں خنجر گھونپا گیا ہو۔

وزیراعظم کے خط کا شائد یہ مقصد تھا کہ کچھ بکروں کی قربانی دے کر اور رپورٹ سے اپنی مرضی کے مندرجات کو نشر کرکے فوج کے رد عمل کا امتحان لیا جائے۔ایک ٹویٹ کے ذریعے رپورٹ کر مسترد کرنے کے رد عمل سے ہنگامہ برپا ہو گیا۔فوج کے رد عمل کے مثبت پہلو پر توجہ دینے کی بجائےفوجی اور سول اداروں کے دائرہ کار پر روائتی بحث مباحثے کا آغاز ہو گیا ہے۔فوج کے ٹویٹ کا مثبت اثر کیا ہے یہ جاننے کے لئے اسے مختصراً یوں کہا جا سکتا ہے کہ اس رد عمل سے سچ کا ظہور ہوا ہے وہ سچ جو پاکستان میں کبھی رو نما نہیں ہو تا۔سچ یہ ہے کہ ایوان وزیراعظم جس نے قومی سلامتی کی بد عہدی کا ارتکاب کیا اس نے چھوٹے بکروں کی قربانی دے کر بڑے گرگوں کو بچا لیا ہے۔

اب حقیقت کی جانب آتے ہیں کہ کیا آئی ایس پی آرکی ٹویٹ کرنے کا مقصدفارغ لوگوں کا وقت ضائع کرنے کے لئے بحث کا آغاز کرنا تھا۔ ایک عام شہری کے طور پر میں تو خوش ہوں کیونکہ وزیر اعظم کے دفتر نے حقائق چھپانے اور قوم کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جو پکڑی گئی۔میں اس بات کو اہمیت نہیں دیتا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آرکی کا کیا اختیار ہے  یا وہ کسی جھوٹ کو علی الاعلان مسترد کر سکتے ہیں یا جھوٹ کو بڑی احتیاط سے افسر شاہی کے ذریعے درجہ بدرجہ خط و کتابت سے زائل کرنا چاہئے تھاورنہ سویلین ڈھانچے کی جگ ہنسائی ہوگی۔میں تو یہ جانتا ہوں کہ اس  ایک سو  چالیس لفظی ٹویٹ سے ایک کرپٹ حکومت، ایک کرپٹ گاڈ فادر اور اُس کا کرپٹ مافیا ننگا ہو گیا ہے۔

میں اس ٹویٹ کے خالق اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آرکو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے ہمیں سچ دکھایا جسے دیکھنے کے ہم عادی نہیں ہیں۔میں پاکستان کے تمام شہریوں سے درخواست کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا کو استعمال کریں تاکہ ہر ٹویٹ یا فیس بک پوسٹ سے کرپٹ گاڈ فادر کو بے نقاب کیا جائے۔کرپٹ اور نا اہل لوگوں کو بے نقاب کرنے کے لئے سوشل میڈیا کا اس سے بہتر استعمال نہیں ہو سکتا۔

جو معاشرے میں تبدیلی نہیں لا سکتے انہیں بھول جائیں۔بھول جائیں انہیں جن کی پسماندہ تحریر و تقریر بے معنی ہو چکی۔جو سوشل میڈیا کے زیر اثر بدلتے وقت سے بے بہرہ ہیں انہیں نظر انداز کر دیں۔ انہیں بھی مسترد کردیں جوصرف سوچتے ہیں مگر عمل نہیں کرتے۔ان کو بھی مسترد کردیں جو بگاڑ کا علاج نصابی کتابوں میں تلاش کرتے ہیں کیونکہ نصابی کتابیں پرانی ، ناکارہ  اور ناکام ہوچکی ہیں۔ان کتابوں کے مصنفین اور بگاڑ کے ذمہ دار ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔سبق حاصل کرنا ہے تو طیب اردگان، مہاتر محمد اور لی کوآن سے حاصل کریں  جنہیں بحرانوں میں ان کا حل تلاش کرنے کا ملکہ حاصل ہے۔


Everything is fair in War & Chaos. Love was lost long ago. If 140 letters tweet brings truth, we love it.

By Ahmad Jawad

Digital opinion in the form of tweet or FB is a reality of 3 Billion Mic, ears and eyes. This all happened in less than 10 years contrary to any technology evolution period ranging from 50 to 100 years. Absence of evolution period of social media led us to misconceptions, diverse beliefs, debate without knowledge of technology and diverse adoption levels.

Pakistan is in a Chaotic situation since 1971. Separation of East Pakistan, Hanging of Bhutto, Afghan war, Siachen, Zia Ul Haq crash, repeated dismissal of civilian government, Asghar Khan case, 9/11 impact on Pakistan, American war, Taliban, terrorism, Lawyers movement, Salala, Swat operation, Benazir murder, Raymond Davis, rigging in elections, Dharna, APS, Abbottabad, Memogate,Switzerland money, Panama Leaks, Dawn leaks, RAW, NDS and lately spilt decision on Panama. Chain of chaos is consistent over 47 years. It indicates towards only one reason, institutions have disintegrated and individuals are running affairs under personal motives, agenda, ego and foreign influence. Most import text book needs revision.

Take the latest example on Panama Leaks, after one year since the revelation of Panama, our judiciary could not give a clear decision which could penalise the responsible ones. It pushed the entire nation into one more deep hole of JIT.

Next Chaos was Dawn Leaks, it took 6 months for Government to investigate a subject of national security breach. After 6 months, PM holds the report for two weeks and then bypassing interior ministry issues implementation of inquiry recommendations through an official letter. Thanks to social media, letter copy goes around within no time. Army, the prime concern of this breech, finds a stab in the back when they compare the PM SECRETARIAT letter in contrast to actual recommendations.

PM letter was perhaps meant to select suitable part of report and release the letter by making a few scapegoats and testing the reaction of Army.

Army reaction through a tweet rejecting the report became a furore. Instead of concentrating over the positive impact of Army reaction, it immediately became a traditional debate of military & civil domain and authority.

But what is the positive impact of Army tweet, it can be said in few words,

“IT ALLOWED TRUTH TO COME OUT, A TRUTH WHICH RARELY COMES OUT IN PAKISTAN”.

Truth is that PM office who orchestrated the Security breech, tried to save “Big”by making “Small”as scapegoat.

Now coming to the fact whether tweet by ISPR could be made or not is a discussion to kill the free time of free people. As a common man, I am happy that PM office who tried to conceal facts or mislead nation has been caught. I give two hoots what is the grade of DG ISPR or whether he cannot openly reject a lie or whether a lie should be discretely rejected through bureaucratic layers of correspondence or it belittle a civilian set up.

To me a corrupt government and a corrupt God Father and his corrupt mafia has been exposed by a 140 letter tweet.

I salute to the founder of tweet and DG ISPR for showing us truth which we are not used to. I request all citizens of Pakistan to use social media to expose the corrupt God Fathers and bring truth on every tweet or FB post. There cannot be a better use of social media to expose corrupt & incompetent.

Ignore those who could not bring any change to this society

Ignore those whose pen or mouth piece has gone obsolete and backward

ignore those who have little knowledge of changing times under social media

ignore those who only think but not act

and

Ignore those who try to find solutions against chaos from textbook. Text Book is old and obsolete. Text book has failed. The authors of text book & players of chaos come from same tribe.

Learn from Tayyip Erdogan, Mahathir and Lee Kuan how to find solutions in a chaos.