Finally The Destination with a Signboard “Institutions not Individuals”.

40

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


“افراد نہیں ادارے ” آخری منزل کا سائن بورڈ

احمد جواد

مجھے ہمیشہ یہ تشویش لاحق رہی کہ انتخابی نظام میں پائے جانے والے قدیم نقائص کی وجہ سےہم نواز شریف اور زرداری جیسے لوگوں سے جان چھڑا پائیں گے یا نہیں۔

لیکن آج نواز شریف کی جانب سے بمبئی دھماکوں میں مبیّنہ طور پرپاکستان کے ملوث ہونے کے جعلی اعتراف کے بعد مجھے صاف نظر آرہا ہے کہ نواز شریف اس طرح قصہ پارینہ بن جائیں گے جس کی پاکستان کی سیاسی تاریخ میں مثال نہیں ملے گی۔ وہ اس سرزمین پر پوری شریف فیملی کو بھی مکمل طور پر تباہ و برباد کرکے چھوڑیں گےاورشریف خاندان ذلت اور شرم کے مارے پاتال میں جاگرے گا۔کرپشن، نااہلی، جہالت اور گاڈ فادر مافیا کا عہد اختتام پذیر ہونے کو ہے۔نواز شریف کے ٹائی ٹینک جہاز میں سوار ہونے والے وہی لوگ بچ پائیں گے جو نجات پانے کے لئے حفاظتی کشتیوں میں سوار ہو جائیں گے۔انہیں ڈوبتے ٹائی ٹینک کے عرشے سے الگ ہونے کے لئےپٹواری نظریات چھوڑنا ہوگا۔

میں پیش گوئی کر سکتا ہوں کہ اگلے انتخابات میں نواز شریف کو بیس یا تیس سیٹیں مل سکیں گی۔ اس سے چند ہفتے قبل میرا اندازہ تھا کہ 2018ءکے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ نواز 80نشستیں جیت سکے گی۔

مجھے وہ شام اچھی طرح یاد ہے جب میں عمران خان کے ساتھ ان کی پارلیمنٹ لاج میں موجود تھا۔ یہ سال 2004-5کی بات ہے جب عمران خان کو الاٹ ہونے والی پارلیمنٹ لاج کو پی ٹی آئی کے دفتر کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ ان میں علیحدہ دفتر کا خرچہ اٹھانے کی سکت نہ تھی۔مشرف نے سب کچھ حتیٰ کہ عمران خان سے ملنے والے لوگوں کے لئے سب دروازے بند کر رکھے تھے۔اپنے مفادات کا تحفظ کرنے والے با حیثیت لوگ نہ عمران سے مل سکتے تھا نہ ان کے ساتھ کھڑے ہو سکتے تھے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اُس وقت مشرف کے آمرانہ دور کو للکارنے والی واحد آواز عمران خان ہی کی تھی۔نواز شریف اور بےنظیر ملک سے فرار ہو چکے تھا اور این آر کرکے واپس آئے۔یہ وہ وقت تھا جب عمران خان کا ساتھ دینے والوں کو مشرف سے ملنے والے مفادات کو قربان کرنے کا خوف لاحق رہتا تھا۔

یہ وہی شام تھی جب بہت کم لوگ عمران خان کے دفتر میں بیٹھے تھے اور ان دنوں عمران خان سے ملنے والوں کو قطار میں نہیں لگنا پڑتا تھا۔میں نے بڑے تجسس کے ساتھ عمران سے پوچھا کہ ان مشکل حالات میں وہ اپنا سیاسی پروگرام کس طرح آگے بڑھا پائیں گے۔

عمران خان نے مجھے نبی اکرمﷺ اور صلاح الدین ایوبی کی مثال دے کر بتایا کہ کس طرح ایک شخص تن تنہا ہو کربھی تاریخ کا دھارا بدل سکتا ہے۔اس وقت ہمارا پروگرام سامنے نظر نہیں آتا مگر یہ ایمان، نیک مقصد اور جہد مسلسل کا نظریہ ہے جس کے حصول کے لئے کبھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا اور ایک دن یہی بہترین لائحہ عمل بنے گا۔

میں نے جب بھی عمران خان کے پروگرام کا تجزیہ کیا مجھے اس میں پختہ ایمان، عزم صمیم اور امید کے علاوہ کوئی اور پروگرام نظر نہیں آیا۔ بھلا کسی حکمت عملی کے بغیر کوئی کس طرح کامیاب ہو سکتا ہے؟ لیکن جس کی حکمت عملی ایمان، امید، ایمانداری، کڑی محنت اور جوش و جذبہ پر مشتمل ہوگی وہ شخص ضرور کامیاب ہوگا۔ پڑھے لکھے لوگ اور تجزیہ نگار اس طرح کی حکمت عملی کو نہیں مانتے مگر عظیم لوگ ہمیشہ اسی ڈگر پر گامزن رہے۔ عمران خان نے بھی سب کے اندازے غلط ثابت کر دکھائے۔ کرپشن کے خلاف اس کا موقف قوم کو ان بد عنوان گِدھوں سے نجات دلوا کر رہے گا۔

میرا خیال ہے کہ ایسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی وجہ سے نہیں بلکہ مایوسی کے عالم میں اپنے مادر وطن کو الزام دینے کا کارڈ کھیل کر نواز شریف نے اپنے کفن میں آخری کیل خود ہی گاڑ لی ہے۔ یہ اس کا آخری چارہ کار تھا۔ اب کھیل ختم ہو چکا اور وہ کچھ بھی نہیں کر سکے گا۔آنے والے دنوں میں بہت سے لوگ اس کے ڈوبتے جہاز کو چھوڑ کر اس جہاز میں کُود جائیں گے جس کا کپتان عمران خان ہے۔

الطاف حسین بھی ختم ہو چکا مگر اس کے بعد ابھی کراچی میں افراتفری کا دور دورہ ہے۔

اگلے انتخابات میں نواز شریف کے ہمراہ مولانا ڈیزل، اسفند یار، اچکزئی اور ان کے ہمنوا بھی قصہ پارینہ بن جائیں گے۔

زرداری اس صفائی مہم سے بچ نکلا مگر اس کا خاتمہ زیادہ دور نہیں۔

مجھے خدشہ ہے کہ اس صفائی مہم کی قیمت افراتفری اور انتشار کی شکل میں ادا کرنی ہوگی۔ یہ قیمت بھی چکائی جا سکتی ہے۔ بالآخر ہم سڑک کے آخری سرے پر پہنچ چکے ہیں جہاں ہماری مڈ بھیڑ راء، این ڈی ایس، سی آئی اے، موساد اور پاکستان کے ان کرپٹ اور مالدار مافیاؤں کے ساتھ ہوگی جو پچھلے پچاس برسوں سے پھل پھول رہے تھے۔

یہ محض حسن اتفاق ہے کہ تمام پاکستان مخالف عناصر بشمول حسین حقانی، الطاف حسین، طارق فتح، اچکزئی ، بھارتی میڈیا، پاکستان کا نام نہاد لبرل میڈیا، افغان صدر اور مغربی میڈیا مل کر پی ٹی ایم کی حمایت کر رہے ہیں۔

کیا یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ ان سب کا ایک ہی مطمع نظر ہے اور وہ یہ کہ پاکستانی فوج کو نشانہ بنا کر کمزور کیا جائے؟اس مقصد کو پانے کے لئے وہ وزیرستان میں نا کام ہوئے، وہ کراچی میں فیل ہوگئے اور انہیں بلوچستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ڈان لیکس کے ذریعے بھی انہیں یہ مقصد پورا کرنے میں شکست ہوئی۔ اب ان عناصر کی نئی حکمت عملی پی ٹی ایم پر مرکوز ہے۔

مجھے عمران خان کی سربراہی میں پی ٹی آئی پر بھروسہ ہے۔

مجھے قمر باجوہ کی قیادت میں فوج کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے۔

مجھے ثاقب نثار کی زیر نگرانی سپریم کورٹ پر مکمل بھروسہ ہے۔

مگر اس کے باوجود چند افراد پر انحصار کرنے والے اداروں کی ناکامی کا خدشہ رہے گا۔

میری دعا ہے کہ راحیل شریف کی صف آرائی کے بعد قمر باجوہ کے دور میں تقویت پانے والی فوج مضبوط ادارہ بن چکی ہو۔ امید ہے کہ اب فوج میں ضیاء، مشرف اور کیانی جیسے لوگ موجود نہیں ہیں۔

میری خواہش ہے کہ ثاقب نثار کی شروع کی گئی کاوشوں کی بدولت سپریم کورٹ حقیقی طور پر ادارے کا روپ دھار چکی ہو۔ امید ہے کہ ہمیں افتخار چوہدری اور ملک قیوم جیسے جج دوبارہ دکھائی نہیں دیں گے۔

میری شدید خواہش ہے کہ عمران خان جب منظر سے ہٹیں تو وہ مہاتیر کی طرح بداوی اور نجیب جیسے لوگ اپنے پیچھے چھوڑنے کی بجائے لی کوآن کی طرح ایک مضبوط ٹیم چھوڑ کر جائیں۔

جناب عمران خان، قمر باجوہ اور ثاقب نثار آپ ابھی سے ایسے ادارے بنانے کی منصوبہ بندی کریں جن کے حسن انتظام کا فیض آگے ہی آگے چلتا رہے۔اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے کیونکہ نڈھال قوم کو ایک اور عمران خان شائد نہ مل سکے گا۔


Finally The Destination with a Signboard “Institutions not Individuals”.

By Ahmad Jawad

I was always apprehensive whether will we ever get rid of Nawaz Sharif & Zardari due to inherent flaws in our elections system.

But today after Nawaz Sharif’s fake admission of Pakistan’s alleged involvement in Mumbai attack, i can clearly see Nawaz Sharif will go down the history worse than any other politician in the history of Pakistan. He will also take entire Sharif family with him in this land slide to total destructions. Family of Sharifs will be buried under tons of disgrace & shame. An era of corruption, incompetence, ignorance and mafia of God Fathers is near to an end. Those who took life boats from the sinking Titanic of Nawaz Sharif, will be the only survivors. They will have to leave their Patwari ideology at the Quarter Deck of sinking Titanic.

I can now predict that Nawaz Sharif might end up with max 20-30 seats in next elections. My last estimate few weeks ago on 2018 elections was 80 seats for PMLN.

I can vividly recall one evening sitting with Imran Khan in the Parliament lodges back in 2004/5. Imran Khan could not afford an office for PTI so his allocated Parliament lodge was being used as PTI office. Musharraf had blocked everything and everybody leading to Imran Khan. People with high stakes would not meet and stand with Imran Khan under fear of compromise on their vested interest.Imran Khan was the only strong voice at that time attacking dictatorial role of Musharraf. Nawaz Sharif and Benazir both had fled the country, only to return after NRO. At that point of time, anybody who could be found close to Imran Khan would fear getting deprived from his vested interests attached to a dictator. It was one of those evenings with very few people sitting in his office and there were no long queues to meet Imran Khan. I inquisitively asked Imran Khan how would he plan his political strategy in such difficult times.

Imran Khan narrated me the history of Holy Prophet and Salahuddin Ayubi how one man can change the history. It’s not the visible strategy but it’s the faith, honesty of purpose, determination and never losing hope kind of attitude which leads you to right strategy one day. I always tried to search for a strategy while analysing Imran Khan, and I always found only faith, determination & hope and no strategy. How can a person be successful without a strategy? Yes he can be successful if his strategy is faith, hope, honesty, hard work & determination. Analytics & Academia never believe in this strategy. Only all great leaders believed in this strategy. Today Imran Khan has wronged everybody in this country. His stance against corruption has finally led Nation to get rid of these vultures.

I think Nawaz Sharif has nailed the last in his own coffin, not because he has gone against establishment but because of his desperation and playing last card of blaming his own motherland. It was his last card, he has nothing else to play, game is over. In coming days, there will be many more leaving sinking Titanic of Nawaz Sharif and joining the ship of hope whose captain is Imran Khan.

Altaf Hussain is over but Post Altaf Hussain chaos is still all around in Karachi.

Nawaz Sharif will be over along with diesel, Asfand, Achakzai and likes of them in next elections.

Zardari has survived this cleansing this time but not for very long.

All I am worried is that such essential cleansing might carry a cost of chaos. I hope cost is manageable. We have finally reached end of road where there will be pitched battle with RAW, NDS, CIA, Mossad and corrupt & resourceful mafia of Pakistan which was developed & grown strong in last 50 years.

Is it a coincidence that all Anti Pakistan elements like Hussain Haqqani, Altaf Hussain, Tariq Fatah, Achakzai, Indian Media, so called liberal media of Pakistan, Afghan President & Western Media are backing PTM simultaneously?

Is it a coincidence, all of them have a common cause i.e. to target & weaken Pakistan Military. They failed to achieve this at Waziristan, they failed to achieve this in Karachi, they failed to achieve this at Baluchistan. They failed to achieve this through Dawn Leaks. PTM is latest & new strategy of such elements.

I have full faith in PTI under Imran Khan.

I have full trust in Army under Qamar Bajwa,

I have full faith in Supreme Court under Saquib Nisar

but!

Is it still not a great vulnerability of our institutions that they still depend on few Individuals.

I hope & pray that Army becomes an institution with a theme started by Raheel Sharif and progressed by Qamar Bajwa. I hope Army does not have any more Zia, Musharraf & Kayani.

I wish Supreme Court becomes an institution to progress on what Saquib Nisar has started. I hope We never have judges like CJ Iftikhar Ch & Justice Qayyum.

I hope & wish Imran Khan, whenever he leaves the stage, he does not leave behind Badawi & Najeeb like in the case of Mahathir, rather he leaves behind a stable team like in the case of Lee Kuan.

Imran Khan, Qamar Bajwa & Saquib Nisar, whenever you leave the stage, please plan & organise now to leave behind an institution which can continue your legacy. Nation is tired and there may never be another Imran Khan, let’s steal the opportunity.

Facebook Comments