Five Million Houses project can be game Changer without any significant investment by government – 20 Points.

45

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


5 Million houses for poor people of Pakistan is a brilliant idea & can be game changer of Pakistan.

5 Million houses can be built within 5 years with following guidelines:

1. Divide 5 Million houses into 100 societies. Each housing society will comprise of 50,000 houses.

2. Govt to give free land all along Highways/Motorways/Railway Tracks/Forests/Deserts/Encroachments.

3. Govt to provide connectivity of road to main highway.

4. Govt to provide main supply of Gas, water, electricity.

5. All 100 housing societies be offered through open tenders.

6. Each housing society be allowed to use 20 % land for commercial & 1 Kanal/2 Kanal plots on open competitive market rates. This will be profit of each housing society.

7. Each housing society will start earning with first announcement of application form of Rs 1000. Ten Billion will be received with first announcement & in first month of submission of application by 10 Million applicants. 5 Million should be selected through open draw. Each housing society will receive 10 Crore just on application forms.

8. Selected applicants will start paying monthly instalment of Rs 10,000 after first month. Each housing society will receive 50 crore every month just on monthly instalment.

9. 20% commercial plots & 1 Kanal plots @ an average rate of 5 Million per Kanal will fetch 5 – 6 Billion per month.

10. Each housing society will collect 5 – 6 Billion every month for next 12 years. Each housing society will collect 720 Billion in 12 years.

11. This is the investment which will build 50,000 houses by one housing society along with infrastructure & basic amenities.

12. This model will invite 100% investment by private builders. Government will only provide connectivity of road, rail, gas, electricity & gas.

13. In 5 years, Pakistan will have 100 new cities with 50,000 houses in each city.

14. 100 Cities will create 100 big commercial opportunities catering to 3-4 Lakh people in each city.

15. Each city should be attached with a small industrial estate offering industrial plots at cheap rates to invite industrial activity next to each city.

16. Each city should be named after 100 countries of the world. Each country can be invited to invest in the city named after their country in health, education & display of their cultural reflection. Pakistan will become first country in the world to have 100 cities named after 100 countries of world.

17. 20% Commercial, Industrial zones & 1 Kanal residential plot will offer jobs for people in 50,000 houses.

18. Three Defense Forces May be tasked to create educational facilities in each city.

19. All philanthropy organisation may be given free plots to establish their philanthropy projects in 100 cities.

20. This single project can bring 4 Crore people out of poverty and bring them into national growth within 5 years.

If somebody doubt any of the above points, he should study Bahria Town as case study.

Malik Riaz by developing only three cities of similar dimensions became richest man of Pakistan with such business model. Imagine if such business model has government land & government backing & guarantee, what will you get out of this.

 

 

پچاس لاکھ مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ واجبی سرمایہ کاری کے بغیر کایا پلٹ ثابت ہو سکتا ہے ۔

20نکات

احمد جواد

پاکستان میں غریبوں کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر بڑا زبر دست آئیڈیا ہے اور یہ پاکستان کی کایا پلٹ سکتا ہے۔

اگر مندرجہ ذیل خطوط پر کام کیا جائے تو پچاس لاکھ مکانات کی تعمیر پانچ سالوں میں ممکن بنائی جا سکتی ہے:

1. 50لاکھ مکانوں کی تعمیر کو 100سوسائٹیوں پر تقسیم کردیا جائے ۔اس طرح ہر سوسائٹی 50ہزار مکانات پر مشتمل ہو گی۔

2. حکومت تمام ہائی ویز، موٹر ویز، ریلوے لائنوں، جنگلات، صحراؤں اور تجاوزات کے ساتھ واقع سرکاری زمینیں اس مقصد کے لئے مہیا کرے۔

3. حکومت بڑی شاہراہوں تک رابطہ سڑکیں فراہم کرے۔

4. حکومت بجلی، پانی اور گیس کے کنکشن مہیا کرے۔

5. تمام 100سوسائٹیوں کی تعمیر کا کام اوپن ٹینڈر کے ذریعے سونپا جائے۔

6. ہر سوسائٹی کو اجازت دی جائے کہ وہ زمین کا 20فیصد حصہ ایک کنال، دو کنال اور کمرشل پلاٹوں کی شکل میں مسابقتی نرخوں پر نیلام عام میں فروخت کیا جائے۔ یہ اُس ہاؤسنگ سوسائٹی کا منافع تصوّر ہوگا۔

7. ہر سوسائٹی کی آمدنی کا سلسلہ اس کے اعلان کے ساتھ ہی درخواست فارموں کی فراہمی سے شروع ہوجائے جو ایک ہزار روپے فی فارم کے حساب سے فروخت کئے جائیں گے۔اس طرح اعلان کے ایک ماہ کے اندردس ملین سے زائددرخواست فارموں کی فروخت کے ذریعے دس ارب روپے مل جائیں گے۔اس کے بعد پچاس لاکھ خوش نصیب درخواستوں گذاروں کا انتخاب سر عام قرعہ اندازی کے ذریعے ہونا چاہئے۔ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کو 100ملین روپے کی وصولی محض درخواست فارموں کی مد میں ہو گی۔

8. کامیاب درخواست گذار 10,000روپے ماہوار کے حساب سے قسطوں کی ادائیگی پہلے مہینے سے ہی شروع کردیں گے۔ ہر ہاؤسنگ سوسائٹی کو ہر ماہ قسط کی وصولی کی مد میں 50کروڑ روپے ہر مہینے ملتے رہیں گے۔

9. ایک کنال، دو کنال اور کمرشل مقاصد کے لئے 20فیصد مختص پلاٹوں کی اوسط قیمت پچاس لاکھ روپے فی کنال کےحساب سے پانچ چھ ارب روپے ہر مہینے مل سکتے ہیں۔

10. ہر ہاؤسنگ سو سائیٹی یہ پانچ چھ ارب روپے ماہوار اگلے بارہ سال تک وصول کرتی رہے گی۔اس طرح ہر ہاؤسنگ سوسائٹی بارہ برسوں میں 720ارب روپے وصول کرے گی۔

11. اس سرمایہ سے ہر ہاؤسنگ سوسائٹی 50,000 مکانوں کے ساتھ ساتھ مطلوبہ ڈھانچے کے علاوہ بنیادی ضروریات بھی فراہم کرےگی۔

12. اس ماڈل کو اپنانے سےپرائیویٹ بلڈر حضرات کا 100فیصد ذاتی سرمایہ بھی کھنچا چلا آئے گا۔حکومت کو صرف سڑک، ریل ، گیس اور بجلی کی سہولیات بہم پہنچانی ہوں گی۔

13. پاکستان میں اس طرح 100نئے شہر تعمیر ہو جائیں گے جن میں ہر شہر 50,000مکانوں پر مشتمل ہو گا۔

14. ان سو شہروں میں سے ہر شہر میں تین چار لاکھ لوگوں کو تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے 100تجارتی مراکز دستیاب ہوں گے۔

15. ہر شہر کے ساتھ ایک صنعتی علاقہ بھی جُڑا ہونا چاہیئے جہاں صنعتی سرگرمیوں کے لئے سستے صنعتی پلاٹ ارزاں قیمت پر فراہم کئے جائیں۔

16. ہر شہر کا نام دنیا کے 100 معروف شہروں میں سے کسی کے نام سے موسوم کیاجائے۔ہر ملک کو دعوت دی جائے ان کے شہر کے ہم نام شہر میں صحت، تعلیم اور ثفافت کے ضمن میں اپنی مہارت کے اظہار کے لئے آگے آئیں۔پاکستان دنیا میں وہ واحد ملک ہوگا جہاں دنیا کے معروف شہروں کے 100 جڑواں شہر موجود ہوں گے۔

17. مختص شدہ 20 فیصد کمرشل، صنعتی اور ایک کنال رقبہ کے رہائشی پلاٹوں سے ہر ہاؤسنگ سوسائٹی میں50,000گھروں کے رہائشی افراد کو روزگار کے مواقع ملیں گے۔

18. تینوں مسلح افواج کو ہر شہر میں تعلیمی سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری بھی سونپی جا سکتی ہے۔

19. تمام فلاحی تنظیموں کو مفت پلاٹ فراہم کئےجائیں تاکہ وہ 100شہروں میں مفاد عامہ کے منصوبے شروع کر سکیں۔

20. اس ایک منصوبے کی تکمیل سے پانچ سال میں چار کروڑ لوگوں کو غربت سے نجات دلا کر قومی ترقی میں شراکت دار بنایا جا سکتا ہے۔

اگر کسی کو ان نکات کے بارے کوئی شک ہو تو اسے چاہئے کہ ایک مثالی کیس کے طور پر بحریہ ٹاؤن کے منصوبے کا مطالعہ کرے۔

ملک ریاض تین ایک جیسے شہر آباد کرتے ہوئے یہ کاروباری ماڈل پیش کر کے پاکستان کے امیر تیرین شخص بن چکے ہیں۔آپ تصور کیجئے جب اس طرح کے بزنس ماڈل کو اپناتے ہوئے حکومت اپنی زمین، اپنی پشت پناہی اور اپنی گارنٹی بھی دے گی تو اس کے اور کیا کیا فوائد حاصل ہوں گے۔

Facebook Comments