How a Pakistani Embassy Should Work in Naya Pakistan

148

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


نئے پاکستان میں پاکستانی سفارتخانے کو کس طرح کام کرنا چاہئے

احمد جواد

میرے خیالات دنیا کے مختلف مقامات کا سفر کرنے کے تجربے، مختلف پاکستانی سفارتخانوں میں جانے اور بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے خیالات پرمشتمل ہیں۔ میں اس بنا پر گذشتہ 71برسوںمیں پاکستانی سفارتخانوں کی کارکردگی کو باآسانی مایوس کن قرار دے سکتا ہوں۔

دنیا کے مختلف ممالک میں موجودپاکستانی سفارتخانے بیرون ملک رہنے والےپاکستانی پردیسیوں سےفاصلے برقرار رکھتے ہیں اور ان کی مشکلات کے حل میں رتی بھر دلچسپی نہیں لیتے۔سفیر حضرات اور ان کے سفارتی اہلکار بیرون ملک پاکستانیوں کے ساتھ وائسرائے کی طرح پیش آتے ہیں۔ ہمارے متکبر اوربد دماغ سفارتکارتکبر اور رعونت سے پیش آنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

ان سفارتخانوں کے لئے مختص کیا جانے والا بجٹ پرتعیش دعوتیں منعقد کرنے پر خرچ ہو جاتا ہے۔

پاکستان سے بیرون ملک جانے والے اعلیٰ سرکاری افسران سفارتخانوں کے ذاتی مہمان کے طور پر گلچھرے اڑاتے ہیں۔سفارتخانوں کے اہلکار پاکستان سے آنے والےبڑے افسروں کو خوش کرنے کے لئے سفارتخانے کےمالی وسائل اور اپنا قیمتی وقت برباد کرتے ہیں۔

ہمارے سفارتخانوں میں کام کرنے والے اہلکار زیادہ تراپنے فرائض کو پس پشت ڈالتے ہوئے اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے اور اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کی منصوبہ بندی کے لئے بھاگ دوڑ کرتے رہتے ہیں۔ وہ لالچ پرستی اور ڈھٹائی سے اپنے مستقبل کےآجروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہم تن مصروف رہتے ہیں۔

دوسرے ممالک سےپاکستان آنے کےخواہشمند غیر ملکیوں کو بد ترین ویزہ سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔حقیقت بیان کی جائے تو پاکستان جانے کے متمنی غیر ملکی سرمایہ کاروں، ماہرین اور کاروباری نمائندوں کی دل شکنی کے لئے ان کی راہ میں ہر طرح کی دفتری رکاوٹوں کے روڑے اٹکائے جاتے ہیں۔

ہمارے سفارتکار اپنے ملک کا تعارف اور اس کی پہچان دوسرے ممالک کےعوام کے سامنے انتہائی دقیانوسی اورمتروک اور انداز میں کراتے ہیں جس میں اخلاص، حقیقت،جوش اور جذبہ بالکل نہیں پایا جاتا۔

پاکستانی سفارتخانے اور سفارتکار بین الاقوامی طور پر پاکستان کی شناخت کو بہتر انداز میں اجاگر کرنے میں بُری طرح ناکام ہوئے ہیں۔ اگر بین الاقوامی طور پر ہمارےتشخص کے بارے غلط باتیں منسوب کی جاتی ہیں تو اس کی ذمہ داری بھی غیر ممالک میں قائم ہمارے دفاتر اور سفارت خانوں پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے خارجہ امورکے افسران، ہمارے سفارتکاروں اور سفیروں نے پاکستان کو ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

ہمیں چاہئے کہ امور خارجہ کے نظام کی از سرِ نو اکھاڑ پچھاڑ کی جائے۔ نئے پاکستان میں سفارتخانوں کو از سرِ نو ترتیب دینے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں

: 1. سفارتخانوں کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ پر اٹھنے والے اخراجات میں بڑی حد تک کمی کی جائے۔

2. دنیا کی نظروں میں پاکستان کا تشخص ہمارے اپنےمنفرد انداز پیش کیا جائے۔

3. بیرون ملک پاکستانیوں کی مہارت، وسائل اور عملی تجربہ سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان کے سفارت خانوں کا آدھا عملہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں پر مشتمل ہونا چاہئے۔جن پاکستانیوں نے بیرون ملک کامیابیوں کے جھنڈے گاڑے ہیں ان کو سفیروں کی20% اسامیوں پر تعینات کیا جائے۔

4. بیرون ملک ہر سفارتخانے میں سوشل میڈیا کے امور کو کنٹرول کرنے کے لئے نوجوانوں کو تعینات کیا جائے۔ پی ٹی آئی نے اس طرح کے بہت سے پُر خلوص، محب وطن، پُر عزم رضاکارماہر تخلیق روں کی ٹیم تیار کی ہے جنہوں نے آگاہی کا کردار زبر دست انداز میں ادا کیا ہے۔سوشل میڈیا کی یہی ٹیم پاکستان کا تصور حیران کن انداز میں پیش کرے گی۔

5. پاکستان کے ہر سفارت خانے میں ایسا جدت پسندپاکستانی بزنس مین تعینات ہونا چاہئے جس کو صنعت اور تجارت کی ترقی کے لئے رابطہ استوار کرنے کی ذمہ داری سونپی جائے۔ 6. پاکستانی فنکاروں کی بیرون ملک حوصلہ افزائی کے لئے انہیں رہائش اور ویزہ سہولیات فراہم کی جائیں۔ اس طرح سے پاکستان کے برانڈکی شناخت پیش کرنے کے اندازکو پذیرائی ملے گی۔

7. ہر سفیر کو اس ملک میں مقیم پاکستانیوں اور پاکستانی میڈیا کے سوالات کا جواب دینے کے لئے ایک ہفتہ وار میٹنگ کرنی چاہئے۔سفارتی امور کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے ان میٹنگوں کو پی ٹی وی پر براہ راست دکھایا جائے۔

8. پاکستانی کی صنعت اور برانڈز کی از خود مارکیٹنگ کی سہولت فراہم کرکے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ ہر سفیر کی کارکردگی جانچنے کے لئے اس سے پوچھا جائے کہ اُس نے پاکستانی برانڈز اور انڈسٹری کو قبول عام بنانے کے لئے ایک سال میں کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔اگر وہ خاطر خواہ نتائج نہ دے سکے تو اس کو بر طرف کر دیا جائے۔

9. ریٹائر شدہ جرنیلوں، سول افسر وں، ججوں اور میڈیا شخصیات کے سفیر بننے پر پابندی لگا دی جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سفیر بنتے ہی وہ اپنی حیثیت سے مفاد حاصل کرنے کے لئے مفاہمت کے عادی ہو جاتے ہیں اوراسی لئے وہ اپنی نوکری کے اختتام پر سفیر جیسےاعلیٰ عہدے کو ہتھیانے کے لئے سودے بازی کرنے لگتے ہیں۔ اس روش کی ہر صورت حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے۔

10. بیرون ملک پاکستانیوں کے اشتراک اور تعاون سے سفارتخانوں کے اخراجات میں 50%کمی کی جا سکتی ہے۔

 

With my own personal experience of international travelling to most part of world, visiting Pakistani embassies in different countries and based on views of overseas Pakistanis, I can safely place role & performance of Pak Embassies as “PATHETIC” in last 71 years.

Embassy would keep a distance from large diaspora of Pakistan and would be least interested in helping them. Ambassador & diplomats would behave like Viceroy towards overseas Pakistanis. Arrogance of diplomats is blatant & habitual.

Spending on lavish parties are taking huge chunk of budget.

Govt officials & their families visiting abroad are literally personal guests of embassy. Diplomats would spend their precious time & resources of embassy on the visits of government officials to please them.

Diplomats are found more busy working on their children’s career & own post retirement plans by compromising their duty. They would be found serving their target beneficiaries shamelessly & selfishly.

Worst kind of visa facilitation to foreign businessmen & industry to visit Pakistan is seen. In fact, all kinds of bureaucratic hurdles will be created to discourage visits of foreign investor, experts and business development representatives.

Diplomats access & marketing own country to general public in that country is orthodox, obsolete & clearly lacks sincerity, passion & enthusiasm.

Embassies & diplomats meant to help improve & highlight Pakistan’s image internationally have failed miserably. Our worst International image can be mostly discredited to the poor performance of our foreign office & embassies. Our foreign service, our diplomats, our ambassadors have failed Pakistan.

We need a complete overhaul of Foreign Service. Following recommendation to restructure & overhaul embassies are submitted to Naya Pakistan:

1.Drastic reduction in lavish lifestyle of embassies.

2.Let’s make our own & new model of international presence.

3.50% staff of embassies should be hired from overseas Pakistanis to use their local skill, resources & knowhow. 20 % Ambassadors should be selected from Pakistani success stories in foreign countries.

4.Every embassy should have one social media youngster to handle social media. PTI has created an educated, sincere, patriotic, committed & creative team of volunteers who played very important role of awareness. Same social media team should be utilised in each embassy. Such team can do wonders to build image of Pakistan.

5.Each embassy should have one entrepreneur from Pakistan tasked only to bridge trade & industry activities.

6.Pakistani Artists should be encouraged to perform abroad by facilitating them with visa & boarding/lodging. This will create concept of Pakistani brand of activities.

7.Every Ambassador should hold weekly session with local overseas Pakistanis & Pakistan Media to answer their question. PTV should conduct live session of this activity to make function of embassy transparent.

8.Pakistani brands & industry should be facilitated to market themselves. An ambassador must be made accountable by evaluating his performance after every year to show how many Pakistani brands introduced & trade activities he managed in one year. If he cannot show results, he should be removed.

9.Generals, retired bureaucrats, Judges, Media persons should be banned to become Ambassadors. Becoming Ambassador after retirement makes these position vulnerable to various compromises during service. Such high position starts compromising in last leg of their career to grab an Ambassadorship. This trend must be stopped.

10.Embassies with the cooperation & active participation of overseas Pakistanis can reduce their budget to 50%.

11. Pakistan Malls should be created on the pattern of “China Town” which has been created in every major city in the world. Pakistan Mall should be Hub of trade, business, hospitality, cultural activities of Pakistan in every major city of world. Private sector should be given incentive to cover investment of such venture.

Facebook Comments