KARGIL -Looking Back

1386
.

A very rare analytic article revealing some truths from inside corridors of Pakistan Army and Pakistan Air Force during KARGIL war by Air Commodore(Rtd) Kaiser Tufail.

Article: ” Kargil Conflict and Pakistan Air Force



Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ” Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/. can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


کارگل ۔ یاد ماضی

احمد جواد

ایئر کموڈور(ر) قیصر طفیل کامعرکہ کارگل کے دوران پاکستان آرمی اور پاکستان ائر فورس کی اندرونی راہداریوں میں دفن حقائق کے تجزئے پر نایاب مضمون۔ انٹر نیٹ پر موجود مضمون کے ساتھ تبصروں کی طویل فہرست بھی شامل ہے جو آشکار کرتی ہے کہ اس تحریر سے کس کو زیادہ فائدہ پہنچا یا کس کو خوش کیا گیا۔

سابقہ نیوی آفیسر ہونے کے علاوہ  مجھے بار ہا  ہائی ٹیک منصوبوں پرتخمینہ سازی، ان کی پرکھ، ان کی اہلیت کے اظہار، پیش کاری اور مباحثوں کے سلسلے میں پاکستان آرمی، پاکستان ائر فورس اور پاکستان نیوی کے درمیان رابطہ کاری کا اتفاق ہوا۔ اس طرح مجھے غیر جانبداری سے تینوں افواج کے تجزئے کا نادر موقع ملا۔تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ تینوں شعبوں میں پاکستان ائر فورس سب سے زیادہ پیشہ ورانہ اہلیت رکھتی ہے۔ہمارے جرمن ساتھی جنہوں نے دنیا جہان کی فوج، ائر فورس اور نیوی کے نمائندوں کے ساتھ کام کا اشتراک کیا وہ بھی پاکستان ائر فورس کے نمائندوں کو پیشہ وارانہ اہلیت کے اعتبار سے سر فہرست سمجھتے ہیں۔ اعلیٰ پیشہ ورانہ اہلیت کے وجہ سے احساس تفاخر کا پیدا ہونا قدرتی امر ہے مگر بسا اوقات  یہ حقیقی فہم پر حاوی ہو جاتا ہے۔

جنرل مشرف اور جنرل محمود کو کارگل کی ناکام مہم جوئی کی ناقص منصوبہ بندی پرواضح طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ کسی بھی عسکری معرکے سے پہلے تینوں شعبوں کو ان کے کردار اور ذمہ داری سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ فوجی معرکے کی منصوبہ بندی میں دیگر دو شعبوں کو نظر انداز کرنا فاش غلطی میں شمار ہوتا ہے۔ کارگل حملہ اچانک ہونا چاہئےتھا اور نہایت اہم بھارتی پوسٹوں پر پاک فوج کے قبضے  تک  تحیّر کا عنصر غالب رہا۔ اس بارے پاک فوج کے ارادے بھی ویسے ہی تھے جیسے دو عشرے قبل سیاچین پر اچانک قبضہ کرتے وقت یا 1971 ء کی جنگ کے دوران مشرقی پاکستان میں مکتی باہنی اتارتے وقت بھارتی فوج کے تھے ۔ پاکستانی فوج نے ادلے کا بدلہ چکایا اس لئے اسے پاکستانی فوج کی جانب سے پیٹھ میں خنجر گھونپنا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مگر جوش جنون میں معرکہ سر کرنے کے لئے جنرل مشرف اور جنرل محمود مسلمہ عسکری  نصاب کے بنیادی اسباق کو نظر انداز کر گئے۔

۔ بھارتی رد عمل اور عالمی سمتوں کا غلط اندازہ لگانا۔

۔ بھارتی فضائیہ کے بارے غلط فہمی۔ مختصر جنگ میں جدید تبدیلیوں کی بدولت آپریشنز کے دوران بھارتی فضائیہ کی کارکردگی بہت اچھی رہی اور کارگل معرکے کے دوران بھارتی فضائیہ نمایاں رہی۔ جب بھارتی فضائیہ اپنے علاقے میں  پاکستانی فوج کے ہا تھوں چھینی گئی پوسٹوں پرحملہ آور ہورہی تھی اس وقت پاک فضائیہ بے بسی سے میدان جنگ کا نظارہ کر رہی تھی۔

۔ پاک فوج کی جانب سے بھارتی فضائیہ کی استعداد کا اندازہ لگانا فاش غلطی ثابت ہوا۔ٖ صرف فضائیہ ہی اپنی مخالف فضائی افواج کا تخمینہ لگا سکتی ہے۔ یہ ایک عنصر جنگ میں بہت بھاری ثابت ہوا۔

۔ فساد کی جڑیہ فرض کر لینا تھا کہ محدود جنگ محدود ہی رہے گی۔ ہمارے فوجی منصوبہ سازوں کو بھارتی فوج اور فضائیہ کی جانب سے  ملنے والےکرارے جواب کی بالکل توقع نہیں تھی۔

۔پاکستان اور بھارت کے درمیان محدود جنگ میں جب لڑائی زوروں پر تھی فوجی مہم جوئی میں ممکنہ تصادم کے بارے ملڑی کی جانب سے دیگر دو فورسز کو آگاہ نہ کرنے  کےنتیجہ میں نپاکستان نیوی کاجاسوسی کرنے والا جہاز ما ر  گرایا گیا جو بھارتی  فضائی حدود کے بالکل قریب چلا گیا تھا یا شائد دشمن کی حدود میں تھوڑا اندر چلا گیا تھا۔ اس جان لیوا حادثے میں جہاز کے پائیلٹ اور کپتان لیفٹنٹ کمانڈر محبوب الٰہی نے عملے کے 16ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کیا۔ یہ سوال تشنہ جواب ہی رہا کے جنگ کے نقطہ عروج پر بے ضرر جاسوس طیارے کو  مناسب حفاظتی حصار کے بغیربھارتی فضائی حدود کے قریب جانے دیا گیا جسے بھارتی لڑاکا طیاروں نے لمحہ بھر میں مار گرایا۔ لیفٹنٹ کمانڈر محبوب الٰہی جیسے رفیق کار کا دلکش مسکراتا چہرہ میں فراموش نہیں کر پایا۔

اس مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ فضائی قوت کی جانب سے پر عزم ہونے کی بجائے پاک فضائیہ بری فوج کی جانب سے اعتماد میں نہ لینے پر نا خوش تھی۔تاہم پاک فضائیہ کو  ایسی جنگ میں جھونک دیا  جس میں کامیابی کے امکانات نہایت محدود تھے۔

ائیر کموڈور(ر) قیصر طفیل کا مہارت سے لکھا مضون پاکستانی افواج کے نصاب میں شامل کیا جانا چاہئے تاکہ منصوبہ ساز سبق سیکھیں اور مستقبل کے مسائل کا سامنا بہتر منصوبہ سازی سے کر سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس طرح کے مضامین انٹرنیٹ جیسے فورم پر کھلے عام پوسٹ نہیں کئے جانے چاہئیں۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ گذشتہ جنگ کے دوران پاکستانی فوج اور پاک فضائیہ کی کمزوریوں پربے لاگ  تبصرہ بھارتی فوجی  قائدین کے لئے نہایت اہم معلومات فراہم کرنے کا باعث بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مضمون کو بھارت کی نظروں میں بڑی پذیرائی ملی۔

آخر میں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ جوانوں  اور افسروں کی بہادری اور جرات  ہمارے لئے قومی فخر کا باعث ہے۔ان افسروں اور جوانوں کو جو بھی مشن سونپا گیا انہوں نے نہایت مہارت کے ساتھ اسے تکمیل تک پہنچایا۔ان میں سے زیادہ ترنے امدادی کمک اور خوراک کے بغیر لڑتے ہوئے شہادت قبول کی۔ انہوں نے وہ معرکے سر انجام دئے جو انہیں سونپے گئے تھے۔ وہ مادر وطن کےلئے کٹ مرے۔ وہ ہمارے ہیرو ہیں۔ ان کے پسماندگان کی بہترنگہداشت ہونی چاہئے۔ مجھے یقین ہے کہ پاک فوج اپنی اعلٰی فوجی روایت کو قائم رکھتے ہوئے اپنے افسروں اور جوانوں کی نگہبانی کرے گی۔

جنرل پرویز مشرف اور جنرل محمود کا جنگ لڑنے کاعمل اپنے ملک کے لئے تھا نہ کہ ان کے ذاتی فائدے کے لئے۔ تاہم بعد میں کبھی بھی ان کا احتساب نہ ہونے کی وجہ سے ان کی منصوبہ بندی اور اہلیت سوال طلب ہی رہی۔


KARGIL -Looking Back

By Ahmad Jawad

The article available on a online blog has a long list of comments on the article mostly from across the border which highlights which side is more benefitted or pleased with the article.

I am a former Naval Officer and interacted professionally with Pakistan Army, Pakistan Air Force and Pakistan Navy over High Tech projects involving evaluations, trials, demonstrations, presentations and debates. This gave me a rare opportunity to analyse all three services from a neutral window. Pakistan Air Force is the most professional of all three services, there is no doubt about it.Our German colleagues who interacted with Army, Air Force and Navy representatives from many countries around the world also rated Pakistan AirForce representatives with highest professional standards in the world. This was totally a global and neutral view. Sense of high professionalism comes with a high sense of pride which is quite natural but at times overshadows the real sense.

On Kargil planning, General Musharraf and General Mahmood can clearly be held responsible for a ill planned misadventure.

In a military adventure, all three services share their role and responsibility. Planning a military adventure without consulting other two military services was a blunder. Reason of not consulting obviously was meant to keep the operation absolutely secret. Kargil plan could only be launched if it could keep the element of surprise and obviously surprise was kept till occupation of vital Indian posts by Pakistan Army.

The intention of Pakistan Army was no different than what Indian Army did to Pakistan while capturing Siachen Posts two decades ago in a surprise move or launching Mukti Bhani in East Pakistan in 1971 war. So it was not a back stabbing case by Pakistan Army, it was tit for tat case by Pakistan Army. However, the over ambitious and adventurous outlook of General Musharraf and General Mahmood missed out following basic text book lessons.

1.A poor reckoning of Indian reaction and International dimensions.

2. A poor assessment of Indian Air Force. Indian Air Force excelled with innovative modifications and operations during the short battle. Indian Air Force made the difference in KARGIL operations. Pakistan Air Force had to watch the war theatre helplessly as Indian Air Force was operating within Indian territory and hitting those posts which were occupied by Pakistan Army.

3. Making assessment of Indian Air Force by Pakistan Army was a big blunder. Only an Air Force can assess the adversary Air Force. This one factor was most vital later in the battle.

4. Assuming that a limited war will remain a limited war was the fault line.Our Military strategist never expected the kind of response Indian Army and Indian Air Force gave.

5. By not keeping the two other services informed about the impact of such Military adventure also resulted into shooting down of Pakistani Naval reconnaissance plane which got close to Indian Aerospace or might have entered a few miles inside Indian Aerospace amid height of military tension and limited war between India and Pakistan. Pilot & captain of Atlantic Plane Lt Commander Mahboob Elahi  with his 16 member crew all embraced shahadat in this fatal incident. Question which will remain unanswered ” Why in the height of military tension on borders, a soft target like a reconnaissance plane was sent so close to Indian Aerospace and it took seconds for Indian fighter aircraft to shoot down the plane. I still remember the smiling & pleasant face of Lt Commander Mahboob Illahi being a colleague.

It appears from the article as if Pakistan Air Force was more annoyed over not being consulted by Pakistan Army rather than only concerned over limited Air Power resources. However, by any standard, Pakistan Air Force was pushed into a challenging situation with very limited options and scope.

A professional article by Air Commodore(Rtd) Kaiser Tufail should be taught in our Pakistani Armed Forces Collages to learn lessons and improvise our strategy in future challenges.

At the same time, such article should never had been posted on open forums or Internet for the simple reason that an outstanding analysis of weaknesses of Pakistan Army and Pakistan Air Force in a previous war has been presented in a plate to Indian military leaders and Strategist with crucial learning. It is for this reason that article got a lot of attention by Indian eyes.

In the end, bravery and courage of those officers and soldiers is our national pride. Those officers and Jawans were given a mission and they performed it with par excellence, mostly embraced Shahadat while fighting with no back up and no food. They followed what was asked from them. They died for our country. They are our heroes. Their families should be looked after and I am sure Pakistan Army must be doing it under its great traditions of comradeship and care for its officers and Jawans.

General Musharraf and General Mahmood act of war was for their country not for any personal interest but their planning and ability is questionable with no accountability they ever faced.