Kulbashan -ICJ -& Nawaz Sharif. Part 4

144

کلبھوشن، بین الاقوامی عدالت انصاف اور نواز شریف حصّہ چہارم

حیدر مہدی

توقعات کے عین مطابق یا تو ناقابل یقین نا اہلی کی کوششوں یا ددیدہ دنستہ بھارت کے ساتھ ساز باز کے نتیجےمیں29مارچ 2017ء ایک تازہ قرار دار میں بین الاقوامی عدالت انصاف  کے دائرہ اختیار کو خود پر لازم کرکے پاکستان بین الاقوامی عدالت انصاف کو باور کرانے میں ناکام رہا ہے کہ یہ معاملہ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔اسی طرح بین الاقوامی عدالت انصاف نے فوری طور پر بھارت کو ریلیف دینے کی خاطر کلبھوشن یادیو کی پھانسی ملتوی کرادی ہے۔

نواز شریف اور شہباز شریف دونوں بھائیوں کے سابقہ ترجمان کا کردار ادا کرنے والے ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابقہ وائس پریذیڈنٹ اور خواجہ سعد رفیق کے فرسٹ کزن خواجہ عامر رضا نے آج ہی مندرجہ ذیل سوالات پوچھے ہیں

جبکہ پاکستان کوحق حاصل تھا تو جزوقتی جج مقرر کیوں نہیں کیا گیا؟

ہم نے ایسے شخص کو وکیل کیوں کیا جو برطانوی سپریم کورٹ میں کوئی کیس بھی نہیں لڑا تھا؟

دفتر خارجہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف کو خطوط لکھنے سے قبل قانونی ہدایات کیوں حاصل نہیں کیں؟

پاکستان نے قطری مقیم وکیل کی خدمات کیوں حاصل کیں؟

ہم نے اٹارنی جنرل کی بجائے ان کے ایک سالہ نو آموز معاون کوبین الاقوامی عدالت انصاف  میں کیوں بھیجا؟

ہم نے ایسا وکیل کیوں کیا جو کبھی آزادانہ طور پر بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے پیش نہیں ہوا؟

ہم نے 15مئی کو تحریری طور پر صفائی کی دلیلیں جمع کیوں نہیں کرائیں؟

اس موضوع پر پہلے سے لکھے میرے مضامین اور اوپر دئیے سوالات  کی بنا پر مجھے نہائت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بہت بڑے پیمانے پر ساز بازکی گئی ہے یا دانستہ نا اہلیوں سے کام لیا گیا ہے۔تمام پاکستانی دوسری دلیل سے متفق ہیں بھارت سے ساز باز نہیں ہوئی تو نا اہلی کا عنصر ضرور کار فرما رہا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت سے گٹھ جوڑ والی بات مان لی جائے تو  اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری بالائی سطح پر قومی سلامتی پر مفاہمت کر لی گئی ہے۔اگر ہم کلبھوشن کو فائدہ پہنجانےکے لئے پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی مُک مکا پر یقین کر لیں تو اُنگلی نواز شریف کے علاوہ کسی اور طرف نہیں اُٹھے گی۔وزیر اعظم کو چاہئے کہ جو سوالات اٹھائے گئے ہیں ان کا براہ راست جواب دیں۔یہ جوابات ان کی طرف سے براہ راست تفصیلاً اور مکمل طور پر عوام اور پارلیمنٹ کو مخاطب کرکے دئے جائیں تاکہ مقننہ کےدونوں ایوانوںکی تشفی ہو سکے۔

اور اگر یہ جوابات نہیں دئیے جاتے تو پاکستانی قوم یہ سمجھنے میں حق بجانب ہوگی کہ پانامہ معاملے کی طرح وزیر اعظم جھوٹ بول رہے ہیں جس پر سپریم کورٹ سے ان کی نا اہلی کا عمل مکمل کرنے کے لئے انکوئری شروع کرنے کے لئے رجوع کیا جائے گا کیونکہ انہوں نے حساس معلومات فراہم کرکے دشمن  سے ساز باز کی اور قومی سلامتی کو پس پشت ڈالا۔

وزیر اعظم کو چاہئے کہ سوالوں کے براہ راست مفصل  اور جامع جوابات دیں ورنہ انہیں غدار کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور اس میں ناکامی کی صورت میں  انہیں تن تنہاخمیازہ بھگتنا پڑے گا۔

پاکستان کے لئے ایک اداس دن


Kulbashan -ICJ -& Nawaz Sharif. Part 4

By Haider Mehdi

So, as expected, either through a series of incredibly incompetent actions or active and deliberate connivance with India, Pakistan failed in convincing the ICJ, that it had no jurisdiction, after having updated a freshly submitted “declaration” to the ICJ on 29 March 2017, accepting their “compulsory” jurisdiction.

And so the ICJ gave immediate relief to India and stayed Yadav’s execution.

Khawaja Aamer Raza, Khawaja Saad Rafiq’s first cousin and a former VP of PMLN, with very close political ties to PM Nawaz and CM Shahbaz, having served as spokesman to both, has raised the following questions, earlier today.

1. Why did Pakistan not appoint ad hoc judge which we had a right to?

2. Why did we choose a lawyer who has not a single int law case reported from the U.K. Supreme Court?

3. Why did the FO not take legal advice before writing letters?

4. Why did Pakistan choose a London QC who is Qatar based?

5. Why did we send a first year associate from AG office instead of AG to ICJ?

6. Why did we choose a lawyer who has never argued a case independently before      ICJ.

7. Why did we not submit a written defence before 15 May?

Given the above and all that I’ve written in my last 3 articles on the issue, I say with great sadness, that this case is either one of active commission and or omission or pure incompetence of Herculean proportions.

All Pakistanis would want to believe the latter, that it was incompetence and not active collusion with India.

Because accepting the former of active collusion with India, means our National Security is compromised at our highest levels.

And if we so believe that there was and is active collusion between Pakistan and India to provide relief to Kulbashan, then the finger points right to the top and to none other than PM NAWAZ SHARIF.

PM Nawaz Sharif has to directly answer the many questions which have been raised.

And answer them in detail, to parliament and to the public, himself directly, fully, and to the complete satisfaction of the two legislatures and the common person.

And if we, the Pakistani Nation, don’t get the answers and believe he is once again lying as he did in Panamagate, then the Supreme Court must be approached to initiate an inquiry and for impeachment proceedings against him for endangering National Security, colluding with the enemy and passing classified information to India.

PM Nawaz Sharif must answer these questions, fully, squarely and directly, to avoid being labeled a traitor.

Or failing which, face the consequences of being one!

A sad day for Pakistan!

Facebook Comments