سبق سیکھنا کامیابی کا پہلا زینہ ہے

153
.

احمد جواد

ہمیں دُنیا میں کوئ اچھی مثال دی چاۓ تو کوئ نہ کوئ توجیح پیش کرکے ھم یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اس مثال کا اطلاق ہم پر نہیں ھوتا۔ اس رویہ سے ہم اپنے سیکھنے کے دروازے بند کر لیتے ہیں۔
حالانکہ اگر دشمن سے بھی سیکھنے کا موقع ملے تو سیکھ لینا چاہیے، بلکہ دشمن سے تو ہر صورت میں سیکھنا چاہیے۔ یہ ہمارا قومی المیہ ہے۔

دوسری عالمی جنگ کے بعد جنگ کی
شکست اور مکمل تباہی کے بعد کیسے زندہ رہنا اور واپس ایک عظیم کامیابی کی طرف آنا ہے ، ہمیں جرمنی اور جاپان سے سیکھنا چاہئے۔

تصادم سے کیسے بچیں اور صحیح لمحے کا انتظار کریں ، ہم چین سے سیکھ سکتے ہیں۔

غیر دوستانہ یا دشمن پڑوسی اوروہ بھی اپنے سے کئی گنا بڑا، اس سے کیسے بچنا اور کیسے ترقی کرنی ہے ، ہم اسرائیل، تائیوان اور سنگاپور سے سیکھ سکتے ہیں۔

کسی صحرا کو نخلستان میں تبدیل کرنے کا طریقہ ، ہم دبئی سے سیکھ سکتے ہیں۔

سال میں دُنیا میں ۶۹ نمبر سے دُنیا کی بیس بڑی اقتصادی طاقتوں میں کیسے آتے ہیں، ترکی سے سیکھ سکتے ہیں۔

پچاس سالوں میں ملک کو ایشین ٹائیگر سے انتہائی کمزور ملک بنانے کا طریقہ ، پاکستان کے پچھلے 50 سالوں سے سیکھا جاسکتا ہے۔

علیحدہ ہو کر اور ایک نئی شناخت اور ایک نیا ملک بن کر پہلے سے بھی زیادہ
ترقی کرنا ، ہم بنگلہ دیش سے سیکھ سکتے ہیں۔
پچاس سال میں بنگلہ دیش کم ذرائع کے باوجود کیسے پاکستان سے آگے نکل گیا؟ یہ وہ سوال ہے جس پر ہمارے اداروں اور دانشوروں کو سوچنا چاہیے۔

مسلۂ یہ ہے کہ ہمیں سیکھنے کی مثالیں ہی پسند نہیں. ہر مثال میں کیڑے نکال لیتے ہیں

ان پجاس سالوں میں وہ کیا غلطیاں ھوئیں اور کیا اب ان غلطیوں کو دہرا تو نہیں رھے؟ ان پجاس سالوں میں ملٹری نے ۲۲ سال حکومت کی، پیپلز پارٹی نے ۱۵ سال حکومت کی، مسلم لیگ ن نے دس سال حکومت کی، پی ٹی آئ نے اب تک دو سال حکومت کی ھے، ایک سال نگراں حکومتیں رہیں ھیں۔ آج اس ملک کی بربادی کو پی ٹی آئ کے ذمہ لگایا جا رھا ہے جس کا حکمرانی کا تناسب پچھلے پچاس سال میں صرف ۴% ہے۔ فوجی حکومت کا تناسب ۴۴% فیصد ہے۔ پیپلز پارٹی کا تناسب حکمرانی ۳۰% ہے۔ مسلم لیگ ن کا تناسب ۲۰% فیصد ہے۔ تو کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ضیا الحق، مشرف، بھٹو، بینظیر، نواز شریف اور زرداری اس ملک کی بربادی کے بڑے ذمہ دار ہیں۔ ۴۸ سال کی بربادی کو دو سال میں ٹھیک کرنا ایک معجزہ تو ھو سکتا ھے لیکن حقیقت میں ایک ناممکن چیلنج ھے۔ پاکستان کی موجودہ بربادی کے تین بڑے کھلاڑیوں کو اب پی ٹی آئ کو ۵ سال دینے ھوں گے۔ اگر پی ٹی آی کارکردگی نہ دکھا سکے تو عوام خود اس کا حساب الیکشن میں کر لیں گے۔ غیر جمہوری قوتوں کا حکومتی معاملات میں اتنا ہی دخل ھونا چاہیے جتنا انڈیا اور بنگلہ دیش میں ہے۔ بلا تفریق احتساب ایک ہی راستہ ہے جو ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔

کشمیر کو حاصل کرنے کا موقع ۱۹۴۸میں بھی ضائع ہوا، ۱۹۶۲ میں انڈیا چین جنگ میں بھی ضائع ہوا، جب ایوب خان نے اس موقع پر انڈیا کی طرف دوستی کا ہاتھ بٹھا دیا۔ ۱۹۶۵ میں بھی ضائع ہوا جب جرنل اختر ملک کواکھنور کی طرف پیش قدمی سے روک دیا گیااورایوب خان نے اختر ملک کو واپس بلا کر یحی خان کو بھیج دیا گیا۔ اگر پاکستان میں کسی ایک شخص کو پاکستان کو سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرانا ہو تو وہ شخص یحی خان تھا۔لیکن ہم آج تک اُس کا احتساب نہ کر سکے۔ ہم تو ایوب خان کی اقتصادی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہیں لیکن ایوب خان کی ۱۹۶۲ اور ۱۹۶۵ میں تاریخی غلطیوں کو بھول جاتے ہیں۔ ایوب خان کا فاطمہ جناح کے ساتھ سلوک بھی بھول جاتے ہیں۔

جب امریکہ اور یورپ کو پاکستان کی سویت یونین کے خلاف ضرورت تھی، ضیا الحق نے اس موقع کو صرف اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے استعمال کیا۔ پھر جب امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی فرنٹ لائین اتحادی کے طور پر ضرورت پڑی تو پھر مشرف نے اسے اپنے اقتدار کی سیڑھی سمجھا۔

ہم تو مشرف کے ایک ٹیلی فون پر امریکہ کے صدر جارج بش کو لبیک کہنے کی بھی مذمت نہیں کر سکے۔ ہم تو مشرف کی عافیہ صدیقی کو امریکہ کو حوالگی بھی بھول گئے۔

ہم تو اسامہ بن لادن کے پاکستان کی حدود میں امریکی آپریشن کو بھی بھول گئے جس سے پاکستان کی پوری دُنیا میں سبکی ہوئ۔

ہم تو کشمیر لیتے لیتے سیاچین کو کھونے کو بھی بھول گئے۔ ہم کارگل کی ناکامی کو بھی بھول گئے۔

ہم تو جرنل کیانی کے آسٹریلیا میں جزیرے بھی بھول گئے۔

ہاں ہم نے ہر شکست اور ناکامی کو کامیابی کے بیانیہ میں بدلنے کا فن سیکھ لیا۔ یہی ھماری کامیابی بن گیا ہے۔ یہی ھماری سٹرٹیجی بن گئی۔

جب ۷۲ سالوں میں کچھ نہ سیکھ سکے تو اب عمران خان سے چاہتے ہو کہ وہ چند سال میں اس قوم کے بہتر سالوں کا بگاڑ درست کر دے۔ ہاں اس نے یہ چیلنج قبول کر لیا ہے۔ لیکن قوم اور میڈیا کو صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

اس ملک کے نظام میں تبدیلی لانی ھو گی۔ طاقت ور کو عوام کے تابع لانا ھو گا۔
تاریخ کو درست کرنا ہوگا۔اپنی نیئ نسل کو اپنے کرتوت اور اعمال بتانے ہوں گے، حقیقت کو تسلیم کرنا ہو گا۔ کامیابی صرف انہی کو ملتی ہے جو یا تو دوسروں سے سیکھتے ہیں یا پھر اپنی ناکامیوں سے سیکھتے ہیں۔ ہم دونوں ہی اصولوں پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔ یہ تو دنیا میں کبھی نہیں ھوا۔ آئیے اپنی نئی نسل کو حقائق بتائیں تاکہ وہ ھماری غلطیوں کو مت دوہرایئں۔

https://e.jang.com.pk/08-10-2020/pindi/pic.asp?picname=09_008.png