MEDIA OWNERS – Time to Pay Back

45

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


Prime Minister is magnanimous and he would always help every industry on merit to grow and succeed.

Today media owners met PM to discuss their problems.

One question which comes to my mind what are the problems faced by these media house owners, each one of them is billionaire and has earned through running agendas (selling agendas precisely) of every ruler since last 48 years. These media owners pay very low to their staff including reporters, producers, resource persons, technical staff except for elite club of anchors. Media owners fire their staff at liberty without offering them any health or pension or any other benefit. They even stop staff salaries indefinitely. I wonder what are the problems of these vultures except they need government ADS to fulfils their addiction of earning money through blackmailing.

I think media owners first of all must offer health insurance to each staff member. Offer a pension plan, offer them shares to earn bonus out of media house’s profit & offer good education to the children of all staff.

Secondly, they must display their Income Tax statements and wealth statements so that nation exactly knows who is holding Pen or Mic of our fate.

Thirdly , they must inform government that to help their country, they will not charge government anything for their ADS, since they have amassed enough wealth in last 71 years.

In the end, if their media house is in loss, they should sell it and go back their to their old businesses or retire in peace. Social Media will offer all news & information free of charge. Nobody will miss them.


میڈیا مالکان ۔ حساب چکانے کا وقتآگیا


احمد جواد

وزیر اعظم بڑے فراخ دل ہیں اور وہ اہلیت کی بنیاد پر ہر صنعت کی ترقی اور کامیابی کے لئے مدد پر کم بستہ رہتے ہیں۔

آج میڈیا مالکان نے اپنے مسائل بیان کرنے کے لئے وزیر اعظم سے ملا قات کی۔

میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ آخر میڈیا مالکان کو کیا مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں۔ان میں سے ہر شخص ارب پتی ہے اور انہوں نے یہ دولت پچھلے 48برسوں میں حکمرانوں کا ایجنڈاآگے بڑھانے پر (بجا طور پر ایجنڈا فروخت کرکے)کمائی ہے۔ یہ میڈیا مالکان امیر کبیر اینکر وں کے سوااپنے ملازمین ، رپورٹروں، پروڈیوسروں، ریسورس پرسنز اور ٹیکنیکل سٹاف کو بہت کم معاوضہ ادا کرتے ہیں۔ میڈیا مالکان جب چاہیں اپنے سٹاف کو پنشن اور صحت کی سہولیات کی فراہم کئے بغیر برخواست کر دیتے ہیں۔یہاں تک کہ یہ مالکان غیر محدود مدت کے لئے سٹاف کی تنخواہیں بھی روک لیتے ہیں۔مجھے حیرت ہوتی ہے کہ ان گِدھ نما انسانوں کو بلیک میلنگ سے سرکاری اشتہار حاصل کرکے دولت کمانے کی ہوس پوری کرنے کے علاوہ اور کیا مشکلات پیش آسکتی ہیں۔

میں سمجھتا ہوں کہ سب سے پہلے میڈیا مالکان کو اپنے ہر سٹاف ممبر کو ہیلتھ انشورنس کی سہولت بہم پہنچانی چاہئے۔ میڈیا ملازمین کو پنشن کی سہولت دی جائے، انہیں میڈیا ہاؤس کے منافع میں سے حصہ کے طور پر بونس دیا جائے اور تمام سٹاف کے بچوں کو بہتر تعلیم کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

دوسری بات یہ کہ انہیں اپنے انکم ٹیکس اور ویلتھ کے گوشوارے پبلک کرنے چاہئیں تا کہ لوگوں کو بخوبی معلوم ہو کہ ان کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کے لئے قلم اور مائیک تھامنے والے ہاتھ کس کے ہیں۔

تیسری بات یہ کہ چونکہ انہوں نے گذشتہ 71برسوں میں حکومت سے کافی رقومات بٹور لی ہیں اس لئے انہیں سرکار کو بتانا چاہئے کہ آئندہ وہ ملک کی بہتری کی خاطر حکومت سے سرکاری اشتہاروں کا معاوضہ نہیں لیں گے۔

آخری بات یہ کہ اگر ان مالکان کا میڈیا ہاؤس خسارے میں چل رہا ہے توانہیں چاہئے کہ اسے بیچ کر پرانا دھندہ اپنا لیں یا ریٹائر ہو کر سکون کے مزے لیں۔ خبریں اور معلومات پہنچانے کا فرض سوشل میڈیا بلا معاوضہ اس خوبی سے نبھائے گا کہ کوئی میڈیا مالکان یاد بھی نہیں کرے گا۔

Facebook Comments