New Media Trends

126

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


میڈیا کے نئے رجحانات

کیاکسی میڈیا چینل کی ریٹنگ سےموجودہ سیاسی رجحان کاکوئی اندازہ ہوسکتا ہے؟جیو جو کبھی اول درجے کا چینل ہوا کرتا تھا اب ریٹنگ کی دوڑ میں پیچھے کیوں رہ گیا ہے؟

بول چینل جس پر پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کی گئی وہ ریٹنگ کی فہرست میں غائب ہے۔اگر میں بول کا سربراہ ہوتا تو پوری بول ٹیم کو نکال باہر کرتا۔بول کی نا اہل اور ناکارہ ٹیم میں جدّت کی رمق بھی نہیں۔اگر بول سے ڈاکٹر عامر لیاقت کو نکال دیا جائے تو کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔ایکٹروں کو اداکاری ہی کرنی چاہئے کیونکہ پروگرام کی میزبانی کرنا علیحدہ شعبہ ہے۔پتہ نہیں کس احمق نے ایکٹروں کو بول کا میزبان بنانے کا مشورہ دیا تھا۔ یہ تصّور نہ صرف ناکام ہوا بلکہ نقصان دہ ثابت ہوا  بلکہ بول کا بھٹہ ہی بٹھا دیا۔پتہ نہیں جیو نیوز بول چینل سے اس قدر خوف زدہ کیوں تھا؟

اس وقت  نیوز چینلوں کے72فیصد ناظرین پانچ نیوز چینلوں اے آر وائی، جیو، دنیا، نیوز ون اور سی این این سے منسلک ہیں۔تو پھر باقی 28نیوز چینل کیا کر رہے ہیں؟ اُن  میں سے ہر ایک کے ساتھ اوسطاً ایک فیصد ناظرین منسلک ہیں۔

میڈیا کے رجحانات بڑی تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔جیو کی اجارہ داری ٹوٹ چکی ہے۔بول ناکام ہو گیا۔سوشل میڈیا  کے ہاتھوںنڈھال باقی 80  فیصد نیوزچینل ناکام منصوبوں کی شکل میں میڈیا کے نت بدلتے رجحانات کی دُہائی دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے علاوہ سب سے بڑا مسئلہ جو پاکستان کے ٹی وی چینلوں کو درپیش ہے وہ تخلیق، جدت  اور تازگی لئے ہوئے نت نئےخیالات کی شدیدکمی  کاہے۔اسی لئےمعیاری چینلوں کی کمی کا شدت سے احساس ہوتا ہے۔اگر ٹی وی سکرین کے کونے سے چینل کا نام اوجھل کر دیا جائے تو آپ چلنے والے مختلف چینلوں میں امتیاز نہیں کر سکیں گے۔یکساں فارمیٹ، ایک جیسے تجزیہ کار، ایک ڈھب کے میزبان، ایک جیسے موضوعات اور ویسے ہی سوالات۔یہیں سے  ان ٹی وی چینلوں میں جدت اور تخلیق کی کمی کا اظہار ہوتا ہے۔اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ مٹھی بھر کاروباری لوگ ٹی وی چینلوں کو چلانے کے لئے کسی چینل کا سربراہ بھرتی کر لیتے ہیں، کسی دوسرے چینل سے کچھ میزبان توڑ لاتے ہیں، کسی اور چینل سے پروڈیوسر بھگا لاتے ہیں اور دوسرے چینلوں کے پروگراموں کی نقل کرکے کاپی پیسٹ سے کام چلاتے ہیں۔چینل چلانے کا فارمولا یہ ہے کہ یا تو حکومت کی جی حضوری کرکے  یا اس کو بلیک میل کرکے سرکاری اشتہارات حاصل کئے جائیں۔ایسی حالت میں تخلیقی خیالات کے حامل نوجوانوں کی تو جگہ ہی نہیں بنتی۔اگر کبھی اُن کے خیالات سُنے بھی جاتے ہیں تو محض ان کا آئیڈیا چرانے کے لئے۔مگر یہ چوری شدہ خیالات کبھی کارآمد نہیں ہوتے کیونکہ آپ کسی کے خیال کو چوری کر سکتے ہیں مگر اُس آئیڈیا کی روح کو نہیں چُرا سکتے۔

بجلی کے بلوں کی آڑ میں اربوں روپے ٹی وی فیس وصول کرنے کے باوجود پی ٹی وی  اپنے ناظرین سے محروم ہو چکا ہے۔پی ٹی وی وہ ادارہ ہے  جس کا ہرحکومت نے بڑے پیمانے پر غلط استعمال کیا جس کے نتیجے میں لوگوں نے اب پی ٹی وی کو دیکھنا چھوڑ دیا ہے۔ستم ظریفی یہ کہ کوئی نہیں پوچھتا کہ جب ہم پی ٹی وی دیکھتے ہی نہیں تو بجلی کے  ماہانہ بلوں کے ساتھ ہم اُس کو ادئیگی کیوں کریں؟ جس چینل کی پاکستان اور اس کے عوام کے لئے کوئی خدمات نہیں ہیں تو پھرمیں اُس کے لئے رقم کیوں ادا کروں؟


New Media Trends

By Ahmad Jawad

Does the channel rating reflect something about current political trend? Once No 1 Channel GEO has gone down in rating. Why?

BOL most heavily invested channel in the history of Pakistan is nowhere in the rating. If I was heading BOL, I would have fired entire BOL team. BOL Team is obsolete, incompetent and without any innovation. If you take out Dr Amir Liaquat, there is hardly anything left in BOL. Actors should do acting, hosting Show is a different field. Some stupid gave the idea of bringing actors as hosts in BOL, the idea backfired, rather sunk the titanic. I don’t know why GEO was so scared of BOL?

72% of viewership of News Channel rest with only 5 channels ( ARY, GEO, DUNYA, NewsOne, CNN) so what are other 28 News channels doing? average 1% of viewership rest with each other channel.

Media trend changing very fast. Monopoly of GEO is broken. Failure of BOL and 80% of other news channels running as flop projects speak of changing Media trends, which is greatly influenced by social media.

Besides Social Media, Lack of creativity and innovation is the biggest challenge of Pakistani TV Channels. There is a big vacuum for a quality channel. If you remove channel title from corner of the TV screen, you cant distinguish between channels. Same formats, similar analyst, similar hosts, similar questions, similar subjects, such is the lack of creativity & innovation on part of these TV channels. Reason is bunch of businessmen running TV channels trying to run it by hiring a channel head from another channel, hire a few anchors from other channels, hire a few producers from other channels, copy paste a running format & programs of other channels, either find favours of Govt to get ADs or blackmail Govt for ADs, this is the formula of running a channel. There is no space for young and new talent who have new and creative ideas, their ideas are listened only to steal their idea, stealing of an idea never works, you can steal visible content of idea but you can never steal the soul of that idea.

Invested with billions of rupees through electricity bills every month, PTV has lost all its viewership. PTV is one of those institutions which has been grossly misused by every government and resultantly nobody watches PTV anymore. Imagine nobody questions, why we have to pay PTV in our monthly electricity bills once nobody watches PTV.Why I should pay for a channel especially if it serves no purpose to Pakistan or its people.

Facebook Comments