Once upon a time in Punjab…

Courtesy: Social Media

1966

محمد بن قاسم نے سندھ فتح کرنے کے بعد پنجاب کا رخ کیا، تو دریائےِ سندھ سے تھوڑا پہلے ہی آرام کی غرض سے، وہ کسی سایہ دار جگہ کی تلاش میں ادھر اُدھر دیکھنے لگے۔۔

اچانک اُنکی نظر ایک بزرگ پر پڑی، جو ایک بہت بڑے سایہ دار درخت کے نیچے کسی کام میں مگن تھے۔۔

محمد بن قاسم حیران ہوا اور سوچا کہ اس سنسان ویرانے میں یہ بزرگ ضرور بہت بڑی ہستی ہیں، چنانچہ انہوں نے بھی اسی درخت کا رخ کیا، کیوں کہ وہ اس ہستی کو پہچانے بغیر آگے جانا فضول سمجھ رہے تھے۔

وہ بزرگ کے پاس آئے، سلام کیا، مگر کوئ جواب نہ ملا۔

ہاتھ پکڑ کے بوسا دیا تو بزرگ نے اپنا ہاتھ محمد بن قاسم کے سر پہ رکھا اور بولے:

بیٹا کتنے دن سے نیند نہیں کی تم نے۔۔؟؟

محمد بن قاسم نے کپکپاتے لبوں سے بولا:

حضور 1ہفتے سے۔۔

بابا جی نے اپنے پاس پڑے چند تازہ پتے اٹھائے،

اور مٹی کے برتن میں پیس دیئے،

اور پانی ڈال کر 2گلاس پلا دیئے۔۔

محمد بن قاسم کو سکون آیا اور اس نے یہ چیز اپنے سارے لشکر کو پلانے کی فرمائش کر دی.۔۔

بزرگ نے سب کو پلایا۔۔

پینے کے بعد لشکر 5 دن اور 5 راتوں تک سویا رہا۔۔

جب محمد بن قاسم جاگا تو دیکھا کہ بزرگ بھی سو رہے ہیں،

انہوں نے بزرگ کو جگایا اور بولے کہ:

اگر آپ مجھے اس مشروب کا نام اور اپنا نام بتا دیں گے، تو میں یہ سندھ دھرتی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آپ کے حوالے کر جاؤں گا۔۔۔۔

بزرگ لالچ میں پڑ گئے اور بولے:

بیٹا، جو آپ سب نے پیا ہے وہ “بھنگ” تھی،

اور میرا نام “قائم علی شاہ” ہے۔۔۔۔