One Day in a Malaysian Hospital!


By Ahmad Jawad

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at and can be contacted at “”

We visited a Malaysian Hospital in KualaLumpur for a minor eye infection for my daughter during vacations. Here is our experience through pictures & words.

After getting an appointment, we reached Hospital parking without any hassle despite my first visit. Directions for parking was so clear & helpful that you can’t make a mistake. Took my parking ticket from auto ticket machine, followed directions to reach lift to reception. A beautiful, panoramic, spacious reception with smiling faces in a uniform even smarter than Air Hostesses were waiting to receive every visitor. One question and you are directed to registration process.

At registration, no long queues but only people sitting either in waiting lounge on comfortable sofas or sitting in front of registration desk. Everybody seemed relaxed, satisfied with no sign of panic. When We reached registration desk, it seemed a person is waiting only to guide us. He gave me a form with a pen and told me to sit down and fill the form. I filled up a user friendly registration form and gave it to the same person. He issued me ticket number and advised me to wait for my turn from electronic board.

Our turn came and we reached registration desk, another smiling & smartly dressed lady took all necessary information from us, we paid and she very clearly guided us to our destination.

At doctor’s clinic, efficient nurses immediately takes your file, do initial tests and here are you in front of a lady doctor whose office showing her degrees from Singapore and Edinburgh and pictures with Mahathir.

She is very famous eye specialist of KualaLumpur who even treats royal family but we saw a humble, friendly & fresh lady who made my daughter absolutely relaxed and talked freely with us. She was not in hurry and we discussed everything at length about eye infection to general tips of eye care. She explained each & every medicine with details. She even got up herself, when my daughter asked me a tissue paper, and picked a tissue paper for my daughter. For us, she was humility, competence, frankness, & satisfaction.

A nurse accompanied us for follow up. We paid everything including medicines at one desk and proceeded to medicine collection desk. Again we found a vigilant receptionist to take our file and give us ticket to wait till they prepare our medicines. We sat down in a 5 star lounge enjoying fountains, surrounding & serenity. Once our medicine was ready, our number ticked on electronic board, we approached the desk, she asked me patient number & Date of birth of patient which was already on registration form. I asked why she has to ask same information again, she explained it is to ensure that wrong medicines is not handed over to a patient due to human error. On my question that which one of the medicine is anti biotic, instead of guessing, she told me to wait in lounge, she went back to doctor to confirm which one was antibiotic. It looks like that they have been trained to confirm & reconfirm at every stage. Do we remember the stories in our hospitals where a patient is operated under a different surgery by mixing patients.

I took the medicines and we had our breakfast in one of the cafes at lounge. Clean, variety of menu, economical prices, a 5 star ambience is how we found the cafes.

In wash rooms, we found them extremely clean & no smell.

We felt like we entered a 5 star hotel and we were here for relaxation, this is what is a hospital in Malaysia.

This is Malaysia of Mahathir. If we had elected right leaders after Ayub Khan, we could have been like Malaysia or even way ahead, but we chose Bhutto, Nawaz Sharif, Benazir, Zardari, Altaf Hussain, Asfandyar. So why complain, now we have elected Imran Khan, give him a year at least before we open our mouths, which was open for decades for wrong reasons.

Give Amir Kayani & Dr Yasmin Rashid at least a year or even 100 days to utter our judgment.

Medical Tourism is another successful revenue generation area of Thailand & Malaysia for which I will write some other day, how we can we be number 1 in medical tourism. Dr Humayun Mohmand is one doctor ( Plastic Surgeon) who has more foreign patients than Pakistanis. I was once contacted by one of my Swiss friend from Aviation industry that he wants to visit Pakistan for hair transplantation and he wants it by Dr Humayun Mohmand, I gladly facilitated him. Dr Humayun hosted an international medical conference inviting specialist from all over the world.

Zara Num Hu Tu Bari Zarkhais Hai Yeh Zameen!

یہ ایک فائیوسٹار ہوٹل کا نہیں ملائشیا کے ایک ہسپتال کا احوال ہے
احمد جواد-

چھٹیوں کے دوران میری بیٹی کی آنکھ میں ہونے والی انفیکشن کے علاج کے لئے ہمیں ملائشیا کے ایک ہسپتال میں جانے کا اتفاق ہوا۔اس معاملے میں آنکھوں دیکھے واقعات کاتجربہ بیان کرنے لگا ہوں۔ طے شدہ ملاقات کے لئے ہم ہسپتال پہنچے۔پہلی دفعہ جانے کے باوجود پارکنگ میں کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔راہنمائی کےواضح نشانات کی بدولت بھٹکنے کی غلطی سرزد نہیں ہوئی۔میں نے خود کار ٹکٹ مشین سے پارکنگ ٹکٹ لیا اور ہدایات کے مطابق چلتے ہوئے ہم استقبالیہ پرپہنچے۔خوبصورت اور کشادہ استقبالیہ پر ائر ہوسٹسوں سے زیادہ جاذب نظر چہرے ہر آنے والے کو خوش آمدید کہنے کے منتظرتھے۔وہاں پہنچنے پر ہم کو رجسٹریشن کاروائی مکمل کرنے کے لئے ہدائت کی گئی۔ رجسٹریشن کے سامنےکوئی لمبی چوڑی قطار نہیں تھی۔ چند لوگ مطمئن انداز میں رجسٹریشن ڈیسک کے سامنے آرام دہ صوفوں میں اپنی باری آنے کے انتظار میں بیٹھے تھے۔ہر شخص پرسکون اور مطمئن تھا اس لئے بھیڑ بھاڑکا نام و نشان تک نہ تھا۔ رجسٹریشن ڈیسک پر ایک صاحب ہماری رہنمائی کے لئے منتظر تھے۔ انہوں نے مجھے ایک فارم اور ایک قلم دیتے ہوئے اسے بیٹھ کرپُر کرنے کے لئے کہا۔میں نے وہ نہائت سہل طرز کا فارم پُر کرکے انہی صاحب کو واپس کردیا۔انہوں نے مجھے ٹکٹ جاری کرتے ہوئے برقی بورڈ پر اپنی باری آنے تک انتظار کرنے کی ہدائت کی۔

ہماری باری آنے پر ایک اور خوش پوش خاتون نے رجسٹریشن ڈیسک پر ہم سے ضروری معلومات طلب کیں جو ہم نے فراہم کردیں۔ اس کے بعد اُس نے بڑے اچھے انداز میں ہماری اگلی منزل کی جانب رہنمائی کی۔

ڈاکڑ کلینک میں مستعد نرسوں نے ہماری فائل لی، ابتدائی ٹیسٹ کئے اور پھر ایک خاتون ڈاکڑہمارے سامنے موجود تھی جس کی مہاتیر کے ساتھ تصویر کے علاوہ سنگاپور اور ایڈنبرا سے لی گئی ڈگریاں دیوار پر آویزاں تھیں۔

وہ کوالالمپور کی امراض چشم کی ماہربہت مشہور ڈاکٹر تھی مگر بہت نرم خو، دوست نما تروتازہ خاتون تھی جس نے میری بیٹی کو پرسکون کرتے ہوئے ہمارے ساتھ دوستانہ انداز میں بات چیت کی۔ عجلت میں نہ ہونے کی وجہ سے اُس نے آنکھ کی انفیکشن کے بارے ہمیں بڑی تفصیل سے آگاہ کیا اور آنکھ کی حفاظت کے بارے ہدایات دیں۔ اُس نے تجویز کی گئی سب دواؤں کے بارے تفصیل سے بتایا۔ جب میری بیٹی نے ایک ٹشو پیپر مانگا تو وہ خود اٹھی اور ٹشو پیپر میری بیٹی کو دیا۔ہمارے لئے تو وہ مجسم انکساری، مہارت، بے تکلفی اور اطمینان کا باعث تھی۔

اگلی کاروائی کے لئے ایک نرس ہمارے ساتھ ہولی۔ہم نے ایک ڈیسک پردوائیوں سمیت سب ادائیگیاں کیں اور دوائیں حاصل کرنے کے لئے آگے بڑھے۔وہاں ایک اور مستعد استقبالیہ خاتون نے ہماری فائل لے کر ہمیں دوائیاں تیار ہونے تک ایک ٹکٹ تھما دیا۔ہم اس فائیو سٹار سہولیات سےمزیّن لاؤنج میں بیٹھ کر پرسکون ماحول اور فواروں سے لطف اندوز ہونے لگے۔دوائیوں کی تیاری کے بعد ہمارا نمبر برقی بورڈ پر آیا اور ہم رجسٹریشن ڈیسک پر گئے تو اُس خاتون نے مریض کے نمبر اور نام کی تصدیق کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ تصدیق اس امر کو یقینی بنانے کے لئے ہے کہ انسانی غلطی کی وجہ سے کسی مریض کو غلط دوائیاں نہ دے دی جائیں۔جب میں نے پوچھا کہ ان میں سے کون سی دوائی انفیکشن کے خاتمے کے لئے ہے تو اس نے محض اندازہ لگانے کی بجائے مجھے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہہ کر واپس ڈاکٹر کے پاس گئی تاکہ تسلی ہو جائے کہ کون سی دوائی انفیکشن ختم کرنے کے لئے تجویز کی گئی ہے۔ہم اپنے ہاں کی وہ کہانیاں جانتے ہیں جب مریضوں کے گڈ مڈ ہوجانے سے غلط مریضوں کی سرجری کردی جاتی ہے۔

میں نے دوائیاں لیں اور پھر ہم نے لاؤنج میں موجود کیفے میں ناشتہ کیا۔ہمارے ہاں کے فائیو سٹار ریستورانوں جیسا صاف ستھرا ماحول اور ارزاں نرخوں پر دستیاب کئی کھانے مینوپر درج تھے۔

ان کے صاف ستھرے اور بدبو سے پاک واش روم دیکھنے کا بھی ہمیں موقع ملا۔

ایسے لگا جیسے ہم کسی فائیو سٹار ہوٹل میں آگئے ہوں جہاں سکون ہی سکون تھا۔یہ تھا ملائشیا کا ایک ہسپتال۔

یہ مہاتیر کا ملائشیا ہے۔ اگر ہم نے ایوب خان کے بعد صحیح رہنماؤں کا انتخاب کیا ہوتا تو ہم بھی ملائشیا کی طرح ہوتے یا شائد اس سے بھی آگے ہوتے۔لیکن ہم نے بھٹو، نواز شریف، بینظیر، زرداری، الطاف حسین اوراسفندیار جیسوں کا انتخاب کیا۔ اس پر شکائت کیسی۔ اب ہم نے عمران خان کا انتخاب کر لیا ہے تو اُسے سال بھر کام کرنے تو دیں۔ ہم نے کیوں اپنے منہ کھول رکھے ہیں جو پچھلی کئی دہائیوں کی غلطیوں کی بدولت پہلے سے کھُلے ہوئے تھے۔

ہمیں اپنا اندازہ لگانے سے پہلے عامر کیانی اور ڈاکڑ یاسمین راشد کو ایک سال یا کم از کم 100دن کا وقت تو دینا چاہئے۔

تھائی لینڈ اور ملائشیا میں ذرائع آمدن بڑھانے میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے میڈیکل ٹورازم کو دریافت کیا گیا ہے جس کے بارے میں بعد میں لکھوں گا کہ کس طرح ہم میڈیکل ٹورازم میں پہلے نمبر پر آسکتے ہیں۔ڈاکڑ ہمایوں مہمند پلاسٹک سرجن ہیں جن کے غیر ملکی مریضوں کی تعداد پاکستانی مریضوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک دفعہ سویٹزرلینڈ کی ایوی ایشن انڈسٹری سے میرے ایک دوست نے مجھے فون کیا کہ وہ بال لگوانے کے پاکستان آنا چاہتا ہے اور یہ بال وہ ڈاکٹر ہمایوں مہمند سے لگوائے گا۔ میں نے بخوشی اس کو مدد فراہم کی۔ڈاکڑ ہمایوں دنیا بھر کے ماہر ڈاکڑوں کو مدعو کرکے ایک بین الاقوامی میڈیکل کانفرنس بھی منعقد کرا چکے ہیں۔

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی ذرخیز ہے ساقی۔

Facebook Comments