ONE OF OUR UNSUNG HEROES

109

Source: Social Media


ہمارا ایک گمنام ہیرو

السلام علیکم: خواتین حضرات آج “اے راہ حق کے شہیدو” نام کی ویڈیو دیکھتے ہوئے ونگ کمانڈر مارون لیزلی مڈلکوٹ شہید ستارہ جرات(دوبار) اور ستارہ بسالت کا نام دیکھ کر میں ٹھٹکا کیونکہ میں اب تک اس نام سے آشنا نہ تھا۔ میں نے اب تک یہ نام سنا ہی نہ تھا اور مجھے قوی امید ہے کہ ہم میں سے بہت سے احباب نے یہ نام نہیں سنا ہوگا۔جب مجھے دھرتی کے اس انمول لعل کے بارے آگاہی ہوئی تو میرے دل اور ذہن میں شرمندگی کا احساس جاگا۔ ان کے بارے میں اپنی معلومات آپ سے شئیر کرتا ہوں:

ونگ کمانڈر مارون لیزلی مڈلکوٹ(جولائی 1940ءسے 12دسمبر1971ء) پاکستان ائیر فورس(پی اے ایف) کے لڑاکا پائیلٹ تھے جن کو دو مرتبہ ستارہء جرات ( 1965ءاور1971ء) اورستارہء بسالت(1971ء) سےنوازا گیا۔ یہ محترمہ پرسی اور جناب ڈیزی مڈلکوٹ کے ہاں لدھیانہ میں 1940ءمیں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پی اے ایف میں 1954ء شمولیت اختیار کی اور زمینی مضامین میں اپنی شاندار کارکردگی کے باعث اعزازی ٹرافی حاصل کی۔انہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی جانے والی 1965ء اور 1971ءکی جنگوں کے دوران بہت سے فضائی معرکوں میں حصہ لیا اوربراہ راست کئی جہازوں کو فضا میں مار گرانے کے کارنامے سر انجام دئیے۔

1965ء میں جب جنگ چھڑی اس وقت وہ کراچی میں تعینات تھے اور بہت اہم جنگی طیاروں میں سےF-86سیبر طیارہ اڑانے پر مامور تھے۔ فضائی معرکوں کے دوران انہوں نے دشمن کے دو لڑاکا طیارے مار گرائے ۔ یہ وہ کارنامہ تھا جس کی وجہ سے وہ محافظ کراچی کے لقب سے جانے جاتے تھے۔اس کے بعد انہوں نے دشمن پر سترہ اچانک فضائی حملے کئے اور تین نگران کاروائیوں میں شرکت کی۔جنگ کے خاتمے پر انہیں ان کی بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کے مظاہرہ پر بڑا فوجی اعزاز ستارہ جرات دیا گیا جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے۔

بعد میں کسی نے ایک دفعہ جب انہیں بیرون ملک منتقل ہونے کا مشورہ دیا تو انہوں نے جواباً کہا کہ سنویہ میرا ملک ہے، میں نے یہاں جنم لیا، میرے بزرگ یہاں مدفون ہیں۔ میں نے اپنی عمر اس دھرتی کا دفاع کرتے گذاری ہے اور شائد میں کسی دن اس ملک پر اپنی جان قربان کر دوں گا۔ میں کہیں اور جانا نہیں چاہتا۔

جب 1971ء کی جنگ چھڑی اس وقت تک وہ ترقی پاکر ونگ کمانڈر بن چکے تھے اور وہ ان چھ سٹرائیک کمانڈ افسروں میں شامل تھے جن کو امرتسر ریڈار آپریشن کا معرکہ سر انجام دینے کےلئے چنا گیا۔ علاوہ ازیں انہیں زبردست دفاعی حصار میں موجود جام نگر ائیر بیس پر حملہ کرنے کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ جب وہ مشن کی کامیاب تکمیل کے بعد لوٹ رہے تھے تو انہیں دشمن کے دو Mig.21 طیاروں نے گھیر کر ان کو خلیج کچھ پر نشانہ بنایا۔ جس بھارتی پائیلٹ نے ان کو نشانہ بنایا تھا اس نے انہیں جہاز سے چھلانگ لگا کر بحرہ عرب کے اس حصے میں اترتے دیکھا جو انتہائی خطرناک شارکوں کی آماجگاہ سمجھا جاتا ہے۔ان کے جانبر ہونے کی کوئی امید نہیں تھی اس لئے انہیں جنگ میں گمشدہ قرار دے دیا گیا۔آپ کو شہادت کے بعد دوسری مرتبہ ستارہ جرات سے نوازا گیا۔

انکی زوجہ محترمہ کو اردن کے شاہ حسین کی جانب سے ایک خط موصول ہوا جس انہوں نے لکھا کہ پیاری بہن آپ کے خاوند کی شہادت سے نہ صرف آپ کا اور پاکستان کا نقصان ہوا بلکہ میں اسے اپنا نقصان تصور کرتا ہوں۔ میری خواہش ہے کہ جب ان کا جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر لحد میں اتارا جائے اس وقت ان کے سرہانے میرے ملک اردن کا پرچم بھی رکھا ہو۔ اس کی وجہ یہ کہ اسرائیل کے خلاف چھ روزہ جنگ میں وہ اردن کے لئے جنگی خدمات دے چکے تھے۔

ونگ کمانڈر مارون لیزلی مڈلکوٹ کا نام پاکستان کے اس وقت کےجنگی اور لڑاکا ہواباز کے طور پر بڑی عزت سے لیا جاتا ہے جنہوں نے اس ملک کا دفاع کرتے ہوئے اپنی جان نچھاور کر دی۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کو نصیب ہونے والے اس عظیم سپاہی کی اس شاندار قربانی کو قبول کرے اور اس کی روح کو بہترین نعمتوں سے سرفراز کرے (آمین)

تاہم ایک سوال ہمیں خود سے پوچھنا چاہئے جس کا جواب ہمارے ذمہ واجب ہے کہ ہم میں سے اکثر لوگ کیوں اس عظیم انسان کی بہادری کے کارناموں سے نا بلد رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے قومیت، حب الوطنی اور مذہب کو پاکستان میں خلط ملط کر دیا ہے۔اگر یہ درست ہے تو یہی موقع ہے کہ قومی مفاد کی مربوطی کے لئے اس کی راہ میں حائل خلیجوں کو پاٹا جائے۔ اس کی وجہ یہ حقیقت ہے کہ ونگ کمانڈر مڈلکوٹ شہید ، حال ہی میں شہید ہونے والے ہندو برادری کے رکن کی طرح پاکستان کے لئے بیش بہا خدمات کی انجام دہی اوردفاع کے دوران جان نچھاور کرنے والے سب افرادبلا لحاظ مذہب دھرتی کے بیش بہا بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔


ONE OF OUR UNSUNG HEROES

Asslam-o-Alaikum, Gentlemen! Today while watching an old video of “Ae Rah-e-Haq Ke Shaheedo”, I noticed a name that was hitherto unknown to me …….. Wing Commander M. L. Middlecoat Shaheed, SJ (Bar), SBt. I had never heard the name and I’m pretty sure that majority of us haven’t. A sense of shame crept in to my heart & mind and I explored the information about this priceless son of the soil. I’m sharing what I found on him :-

Wing Commander Mervyn Leslie Middlecoat (July 1940 – 12 December 1971) was a Pakistan Air Force (PAF) fighter pilot who was twice awarded Sitara-e-Jurat (In 1965 & 1971) and Sitara-e-Basalat (1971). Born to Percy and Daisy Middlecoat in Ludhiana, India, in July 1940, he joined PAF in 1954 and won the Best Performance Trophy in ground subjects. He took part in some very important aerial battles during the 1965 and 1971 Indo-Pakistani Wars and was credited with several air-to-air kills.

When the 1965 war broke out, he was posted in Karachi and flying one of the premier fighter planes, the F-86, Sabre aircrafts. During air battles, he shot down two enemy aircrafts, a feat for which he came to be known as the ‘Defender of Karachi’. Later on he performed an impressive series of seventeen ‘Air Sorties’ and three ‘Photo Reconnaissance’ missions. At the end of the war, he was awarded the richly deserved “Sitara-e-Jurat” for his bravery and professional leadership.

Once when he was suggested to move abroad, he replied “Listen, this is my country; I was born here; my ancestors are buried here. I have spent my life defending my country; perhaps I will sacrifice my life for this country one day as well. I am not going anywhere.”

In 1971, he was promoted to Wing Commander at the outbreak of war and was one of the six strike command officers who were selected to conduct the aerial operation “Amritsar Radar”, and was assigned to attack the heavily defended Indian airbase at Jamnagar. On 12 December while returning after the successful mission he was engaged by 2 enemy MiG-21s and he was hit over the Gulf of Kutch. The Indian pilot that shot him down saw him eject into the Arabian Sea, in shark infested waters and it was considered unlikely that he survived. He was declared missing in action, and was posthumously awarded the Sitara-i-Jurat for the second time.

His widow also received a personal letter from King Hussain of Jordan where he wrote, “Sister! The passing away of the Shaheed is not only the loss of you and Pakistan, but also mine. It is my wish that when he is buried, his body be wrapped up in Pakistan’s flag, but the flag of my country Jordan must be placed below his head.” Middlecoat had fought for the King earlier during the Six Day War with Israel.

Wing Commander Mervyn Leslie Middlecoat remains one of a number of distinguished Pakistani strike and fighter pilots of the period who gave his life to protect his country.

*May Allah accept the great sacrifice of this great soldier that we were blessed to have and bless his soul with the best reward (A’meen). *

However, there is a question as well that we all must ask ourselves and we all must answer too ……… Why most of us are & have been ignorant of this stalwart and his heroic deeds? Is it because of our lopsided tendency of confusing the religion with the nationalism or patriotism towards Pakistan ……… If so, then it’s about the time to strike the realistic nodes about the need for adjusting the alignment because, in reality Wing Comd Middlecoat Shaheed or our recent Shaheed from our Hindu Community or anybody who sacrifices his life for Pakistan or serves Pakistan to its best interest is as invaluable & priceless son / daughter of the soil as any other person is, faith notwithstanding.

Facebook Comments