Ostrich attitude – Don’t bury your head into sand to avert danger, identify snake & swamp in the sand to avert danger.

458

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


شُتر مرغ جیسارویّہ

خطرے سے بچنے کے لئے ریت میں منہ نہ چھپائیں۔خطرے سے بچنے کے لئے سانپ کی نشاندہی کریں اور اُسے ریت میں غرق کردیں

احمد جواد

بہاولپور اور پاراچنار کے متاثرین سے امتیازی سلوک کو زیر بحث لانے کے دو پہلو ہیں۔پہلا یہ  کہ لوگ امتیازی سلوک کا پتہ چلنے پر اسے حکومتی ناکامی گردانتے ہوئے اس پر سخت نالاں ہیں۔دوسرا پہلو یہ کہ کچھ لوگ اس جانبداری پر بات چیت کو فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے کا موجب سمجھتے ہیں۔

میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ اگرمشرقی پاکستان کے حالات پر عوام کوبر وقت آگاہ کر دیا جاتا تو ہم مشرقی پاکستان کے سانحہ سے بچ سکتے تھے۔جیسے تشخیص علاج کا پہلا قدم ہوتا ہے اور علاج کرنے کے لئے مرض کا اقرار کرنا اور تشخیص کراناضروری ہوتا ہے۔مرض کا اقرار اس کے بارے آگاہی سے کیا جاتا ہے۔مجھے پاکستان بچانے کے پردے میں حکمرانوں کی نااہلی اور کرپشن چھپانے کاعمل کبھی سمجھ نہیں آیا۔آنکھیں بند کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ رات دن میں تبدیل ہو جائے گی۔شُتر مرغ جیسا روّیہ ڈوبتے جہاز کو نہیں بچا سکتا۔اس مقصد کے لئے ہمیں رِستے پانی کے سوراخ تلاش کرنے ہوں گے۔مشکلات سے منہ چھپانے کا شُتر مرغ جیسا روّیہ نا لائقی اور بُزدلی کی علامت ہے۔

اگر شیخ مجیب الرحمٰن کو حکومت دی جاتی تو مشرقی پاکستان ہم سے کبھی جُدا نہ ہوتا۔حقائق کو چھپانے کے لئے میڈیا کو بلیک میل کرنے سےہم نہ 1971ء میں ڈوبنے سے بچ سکے تھے اور نہ ہی دوبارہ بچ سکیں گے۔شیعہ مخالف یا اس طرح کی علاقائی سوچ پاکستان کو عدم استحکام میں مبتلا تو نہیں کر سکتی۔لیکن اگر وزیر اعظم پاکستان سانحہ کے سُنّی متاثرین کو تو دس لاکھ روپے عطا کرتے ہیں اور شیعہ متاثرین کو نظر انداز کردیتے ہیں  تو دشمن اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے عوام  کےجذبات کو ضرور ابھارے گا۔فرقہ وارانہ امتیاز پر بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔مسئلے کی جڑ تو ہمارے قائدین کی نا اہلی اور کرپشن ہے۔ہمیں چاہئے کہ حکمران اشرافیہ،سیاستدانوں، سول اور عسکری افسر شاہی اوربالخصوص عدلیہ کی نا اہلی اور لا علمی کی نشاندہی کریں۔

بنگالیوں کو غدار قرار دینے سے ہمیں کچھ حاصل نہ ہوا۔بلوچوں اور شیعہ حضرات کو غدار قرار دینے یا ان پر ایران، افغانستان اور بھارت کی طرفداری کا الزام دینے سے بھی ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا۔ہاں ان کی محرومیوںکا تدارک کرنے میں ہمارا فائدہ ہے۔جو لوگ بھارت یا امریکی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں ان کو کیفر کردار تک پہنچانے سے فائدہ ہوگا، انصاف فراہم کرنے سے مدد ملے گی، سب کے ساتھ بلا امتیاز سلوک کرنے سے بھی مدد ملے گی۔خطرے سے بچنے کے لئے ریت میں منہ نہ چھپائیں۔خطرے سے بچنے کے لئے سانپ کی نشاندہی کریں اور اُسے ریت میں دفن کردیں۔


Ostrich attitude – Don’t bury your head into sand to avert danger, identify snake & swamp in the sand to avert danger.

By Ahmad Jawad

Recent debate on discrimination between the victims of Bahawalpur and Parachinar had two angles, one who ferociously identified the discrimination as failure of state and second those who thought by talking about such discrimination, we are spreading sectarian hatred. My two rupees on this subject ( rupees converted from cents).

If public was made aware about East Pakistan timely, we might have averted Fall of East Pakistan. Diagnosis is the first step of treatment and diagnosis comes through accepting disease and seeking treatment.Accepting disease comes through awareness.

I never understood the phenomenon of hiding corruption and incompetence of ruling elites in the name of saving Pakistan.

By closing eyes, does the night turns into day?

Ostrich philosophy doesn’t save a sinking ship.We must shout where the hole is?

Ostrich attitude is meant to be sign of cowardice & inability to face the challenge.

East Pakistan would have never separated if sheikh Mujeeb was given the government. By hiding facts or blacking out media didn’t save us to sink in 1971 and it will never save us again.

Shia or any other regional mindset will never turn Pakistan into turmoil but if PM of Pakistan gives one Million to Sunni victim and ignores Shia victim, enemy will make use of this opportunity exploiting sentiment of public. Problem doesn’t lie in talking about sectarian or ethnic discrimination, problem lies in the incompetence & corruption of our leaders, we must identify and expose incompetence & ignorance of our ruling elite: politician, bureaucracy & Military and most importantly judiciary.

Condemning Bengalis for being traitor never helped, condemning Baluchi or Shia and labelling them traitor or accusing them with alienation with Iran or Afghanistan or India would also not benefit us.

Yes, addressing their grievances will help, apprehending those who are working on Indian or American agenda would help, rendering justice would help, treating all without discrimination would help.

Don’t bury your head into sand to avert danger, identify snake & swamp in the sand to avert danger.