ایک پاکستانی کی ٹوٹی پھوٹی شاعری

1223
.

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


پاکستان کی فریاد

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہرخواہش پہ دم نکلے

سقوط ڈھاکہ، 80000 اموات، ڈان, پانامہ لیکس، ایبٹ آباد حملہ

معرکہ کارگل، ریمنڈ ڈیوس اور سرے محل

بہت نکلے مرے جنازے مگر پھر بھی کم نکلے

سویٹزرلینڈ شرمندہ ہے اپنی بے کسی پر

پانامہ سے آگے جہاں اور بھی ہیں

جو ورجن بھی ہیں اور آئی لینڈ بھی ہیں

لے نام بھی آہستہ کہ نازک ہے “خاکی” بھی “ترازو” بھی

یہ کیا کرشمہ ہے کہ کرشمہ ساز کا نام نہیں

ابھی کرشمہ کپور سے کام چلا

ابھی جنازوں کے امتحاں اور بھی ہیں

تین دو ایک

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے”تین”بھی اور “ایک”بھی

نہ “خاکی  رہا” اور نہ “ترازو” رہا

تین” بھی جائیں گے وہاں جہاں “دو” جائیں گے”

جگہ بھی ایک جیسی ھوگی, اعمال مختلف ہوں گے

Wind is blowing

تندیِ باد مخالف سے نہ گبھرا اے شریف

تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے JIT

نیب تو صرف کِک سٹارٹ ہے

اب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا

بیمہ پالیسی

خدا کرے میرے گاڈ فادر سلامت رہیں

میرے گاڈ فادر لائے  فلیٹ ,پانامہ, قطری خط اور بے ایمان پالیسی

یادیں

راحیل تیری یاد آتی ہے مگر یاد پر بھی پابندی ہے

تجھے یاد کرتے ہیں ہم چُھپ چُھپ کے

(ایک ٹوٹا پھوٹا شاعر احمد جواد)