Performance Analysis – Some Truth, Some Exaggeration

Courtesy: Social Media

13094

سستی روٹی سکیم ۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔70 ارب سے زائد کی کرپشن کا انکشاف

یوتھ لیپ ٹاپ سکیم ۔۔۔۔۔فلاپ۔۔۔۔۔ بازاروں میں لیپ ٹاپ 10 سے 15 ہزار میں دستیاب ۔۔۔۔ ہوشربا کرپشن کا انکشاف

پیلی ٹیکسی سکیم۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔سکیم نااہلی اور کرپشن کی نذر

لاہور میٹروبس پراجیکٹ۔۔۔۔ خسارے میں۔۔۔۔۔۔ 5 ارب روپے سالانہ خسارہ

راولپنڈی میٹرو پراجیکٹ۔۔۔۔۔ دنیا کا مہنگا ترین ماس ٹرانزٹ منصوبہ۔۔۔۔ اربوں کی کرپشن کا شاہکار

یوتھ لون سکیم۔۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔

اپنا روزگار سکیم۔۔۔۔۔ فلاپ

یوتھ ہیلمٹ سکیم۔۔۔۔۔۔۔ فلاپ ۔۔۔۔ تین ماہ بعدبند

یوتھ اجالا سکیم۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔۔ تین ماہ بعد بند

سکوٹی سکیم۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ چلنے سے پہلے ہی بند

نندی پور پراجیکٹ۔۔۔فلاپ۔۔۔۔ صرف تین دن چل سکا ۔23 ارب سے شرو ع ہوا اور 120 ارب تک جاپہنچا۔۔۔۔ کرپشن ہی کرپشن

قادرپور کول پراجیکٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ ہرانرجی کے ماہر کا کہنا ہے کہ یہ پراجیکٹ چل ہی نہیں سکتا

چیچوں کی ملیاں پاور پلانٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ تین ارب روپے لگنے کے بعد پراجیکٹ بند

گڈانی پاور پراجیکٹ۔۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔ فزیبلٹی رپورٹ اور افتتاح پر کروڑوں روپے لگانے کے بعد بند کردیا گیا

قائداعظم سولر پارک۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔100 میگاواٹ کا پراجیکٹ صرف 30 میگاواٹ بجلی دیتا ہے او ر وہ بھی 27 روپے فی یونٹ

ایل این جی منصوبہ۔۔۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔۔ نواز اینڈ کمپنی نے اربوں روپے کا چونا لگایا اور ابھی تک ایل این جی نہیں مل سکی

نیلم جہلم ہائیڈروپراجیکٹ۔۔۔ فلاپ۔۔۔۔۔ 40 ارب کا پراجیکٹ 450 ارب تک جاپہنچا اور پھر بند..

شکر ہے میٹرو چل رہی ہے

سرکاری سکولز تباہ ہوگئے ہیں، میں اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولز میں پڑھانے پر مجبور ہوں

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

اس مہینے بجلی کا بل 30 ہزار آیا ہے۔ اس حکومت کے آنے کے بعد بجلی کی قیمتیں ڈبل ہوگئی ہیں

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

مرغی 170 روپے سے 350 روپے کلوہوگئی ہے ، حمزہ شہباز کا مرغی کا کام عروج پر ہے۔

لیکن شکر ہے کہ میٹروچل رہی ہے

ہمارے علاقے میں 12 سے 16 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہوتی ہے ۔ شہباز شریف نے نہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ پورا کیا اور نہ ہی نام بدلا ہے

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

سنا ہے کہ کراچی میں 1100 لوگ گرمی اور لوڈشیڈنگ سے مرگئے، عابدشیر علی کہتے ہیں کہ یہ ہماری ذمہ داری نہیں

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

ماڈل ٹاؤن میں پولیس نے لوگوں کے سروں پر گولیاں ماریں اور 14 سے زائد لوگ مارڈالے ، رانا ثناء اللہ اور شہبازشریف کو کلین چٹ مل گئی ہے

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

راولپنڈی میں پولیس نے دو سگے بھائیوں کو قتل کردیا ہے ، شہبازشریف نے 11 سال حکومت کرکے تھانہ کلچر نہیں بدلا

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

میرا بیٹا بیمار ہے لیکن جیب میں دوائی کیلئے پیسے نہیں ہیں، سرکاری ہسپتال والوں نے بہت ذلیل کیا ہے

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

میٹروبس نے میرا کاروبار تباہ کردیا ہے، میری دکان بھی میٹرو کی زد میں آگئی ہے اور بھی کئی لوگوں کی دکانیں میٹرو کھاگئی ہے۔

مگر شکر ہے کہ میٹروچل رہی ہے

بچے عید پر نئے کپڑے اور جوتے مانگ رہے ہیں

مگر شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

کھانے کیلئے روٹی نہیں ہے، آٹا مزید مہنگا ہوگیا ہے

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

کسانوں کی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں، سپرے کھادیں مہنگی ہوگئی ہیں، وہ بھی آج کل سڑکوں پر ہیں

انہیں شکر کرنا چاہئے کہ میٹرو چل رہی ہے

خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ نندی پور پاور پلانٹ کی لاگت 23 ارب سے 120 ہوگئی ہے۔

جتنی مرضی ہوجائے ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ میٹرو چل رہی ہے

ہر پاکستانی پر ایک لاکھ روپے کا قرض چڑھ گیا ہے

جتنا مرضی قرضہ چڑھ جائے ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ میٹرو چل رہی ہے

ریسکیو 1122 بھی بند ہونے کے قریب ہے، حکومت چند مانگ رہی ہے

لیکن شکر ہے کہ میٹرو چل رہی ہے

اقتصادی سروے رپورٹ کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں بجلی چوری اور لائن لاسز بڑھ گئے ہیں اور بجلی کی پیدوار کم ہوگئی ہے

ہمیں شکر کرنا چاہئے کہ میٹرو چل رہی ہے

او ناشکرو! تم شکر کیوں نہی کرتے ، شہباز شریف نے میٹرو چلا دی ہے، کیا ہروقت یہ رونا روتے رہتے ہو کہ شہبازشریف یہی پیسے تعلیم، صحت پر لگاتا۔ تمہارے بچوں نے پڑھ کر کونسا تیر مارلینا ہے۔بچے کو کسی سائیکل کی دکان پر یا کسی ورکشاپ پر کام سکھاؤ اور بچے بیما ر ہوں تو کسی پنکچر لگانے والے ڈاکٹر کو دکھاؤ، اب شہبازشریف نے تمہارے بچوں کی تعلیم، صحت کاٹھیکہ تو نہیں لیا ہوا۔

کیا ہوا اگر میٹرو 5 ارب روپے سالانہ خسارے میں جارہی ہے، چل تو رہی ہے ناں! تمہارے بچے اس پر بیٹھ کر سکول جاتے ہیں، تم اس پر بیٹھ کر نوکری تلاش کرتے ہو، گرمی لگے تو 20 روپے میں اے سی کے مزے لو۔کوئی بھی پریشانی ، جھجھٹ ہو 20 روپے میں مزے لو۔ انشاء اللہ اگر شہبازشریف 20 سال رہا تو پاکستان کے ہرشہر میں میٹرو ہوگی، پھر سکولوں، ہسپتالوں کی ضرورت ہی نہیں ہوگی اور پاکستان یورپ نظر آئے گا ۔۔