Quddrat Ullah Shahab was not a fiction but part of our history

507

By Ahmad Jawad

If our civil servants start acting like Quddrat Ullah Shahab, many tears will roll out with relief & joy.
Such tears can become asset of our life. From LDA, CDA, KDA to office of every Patwari, stories of struggle by poor, weak & helpless people are found struggling their entire life to resolve their genuine property issue. Every moment of pain suffered by such helplessness people is a curse on a society. Allah does not leave any society to live in peace if weak & helpless are suffering in the same society.

Read one such story & feel the pain & joy of an old & helpless woman.

 

سولہ آنے کی رشوت

میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا “ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9 بجے سے 12 تک بلا روک و ٹوک تشریف لا سکتے ہیں۔”

ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی۔ رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھے زمین ہے۔ جسے پٹواری کو اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لیے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے۔ رشوت دینے کی توفیق نہیں، تین چار برسوں سے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی۔

اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60۔70 میل دور اس گاؤں کے پٹواری کو جا پکڑا۔

ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شر انگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے۔ اپنی قسم کی تصدیق کے لیے پٹواری اندر سے جزدان اٹھا لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا۔

“حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں۔”

گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا۔ “جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں۔”

ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے۔ میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اٹھا لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی اراضی کا انتقال کر دیا۔

میں نے بڑھیا سے کہا۔ “لو بی بی تمہارا کام ہو گیا، اب خوش رہو۔”

بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا اور پاس کھڑے نمبردار سے کہا۔ “سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے؟”

نمبردار نے تصدیق کی تو بڑھیا کے آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکل آئے، اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لیے اور اپنی دانست میں نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے۔

اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بے اختیار رونا آ گیا۔ کئی دوسرے لوگ بھی آب دیدہ ہو گئے۔ یہ سولہ آنے واحد “رشوت” ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی۔ اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظروں میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی۔ میں نے ان آنوں کو آج تک خرچ نہیں کیا کیوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا۔

قدرت اللہ شہاب