Social Media is too Serious a Business


By Ahmad Jawad

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ” Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at

ISPR or PTI success on social media may be a benchmark of success & learning. Some political parties or others who get impressed by such success, consider social media as a key to propaganda, but they forget one thing, you can never make a criminal  into a saint through the power of social media. If anyone has a doubt, get best social media team in the world, try it on Zardari, it won’t work. Unfortunately, irresponsible social media teams are largely constituted of young IT professionals. There is nothing wrong to be young to take up a job but till the time a person does not possess a certain level of maturity, knowledge, exposure & some understanding of human psychology, national themes, international challenges, history & legal aspects, giving him the responsibility of social media is like a match box in the hands of a monkey. This is what the monkeys of Some social media cells are doing. Social Media is too serious a business to be given to just IT professionals. They can only be good on technical aspects but not on tactical or strategic aspects.

سوشل میڈیا  سنجیدہ کام ہے

احمد جواد

آئی ایس پی آر یا  پی ٹی آئی کی سوشل میڈیا پر کامیابی مطالعے اور کامیابی کا سنگ میل بن چکی ہے۔ کچھ سیاسی پارٹیاں اور دیگر لوگ جو اس کامیابی سے متاثر ہوئے ہیں وہ سوشل میڈیا کو نشر و اشاعت کی چابی سمجھنے لگے ہیں۔ مگر وہ ایک بات بھول جاتے ہیں کہ آپ سوشل میڈیا کی طاقت سے ایک مجرم کو ولی قرار نہیں دے سکتے۔ اگر کسی کو شک ہے تو وہ سوشل میڈیا کی ایک مضبوط ٹیم کے ساتھ اس بات کو زرداری پر آزما کر دیکھ لے مگر وہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔

بدقسمتی سے  کچھ غیر ذمہ دار سوشل میڈیا تنظیمیں  جو  کہ نوجوان آئی ٹی ماہرین پرمشتمل ہوتی ہیں۔ نوجوان ہونے اور کوئی اہم ذمہ داری نبھانے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ کافی حد تک ذہنی پختگی اور علم کا حامل، انسانی نفسیات کی سمجھ بوجھ، قومی تقاضوں او ر بین الاقوامی چیلنجوں سے بہرہ مندی، تاریخی اور قانونی پہلووں کی پرکھ کا تجربہ رکھتا ہو۔ اس کے بغیر کسی کو سوشل میڈیا کی ذمہ داری سونپنابندر کو ماچس پکڑانے کے مترادف ہے۔ یہ وہ کام ہے جو سوشل میڈیا کے سیل میں کام کرنے والے بندر کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا کا انتہائی سنجیدہ کام محض آئی ٹی ماہرین کی بساط سے بڑھ کر ہے۔ وہ تکنیکی پہلووں پر مہارت رکھتے ہوں گے مگر علم اور تجربے سے نا بلد ہوں گے۔