They Must Die…

11

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


There is an appeal by APNS (All Pakistan NewsPaper Society) to Prime Minister.
The appeal says that NewsPapers are dying due to 1.6 Billion owed to GoP and Government has halted further Ads to NewsPapers. The appeal further says that NewsPapers heavily rely on Government Ads.

Allow me to say that Newspaper must die:

Why?

1. If they have not learnt in 71 years how to stand at their own feet.

2. If they only learnt the easy way of praising every government and not exposing their corruption & incompetence, only to qualify for government Ads.

3. If a Newspaper is not an Industry, rather another begging bowl.

4. If NewsPapers are responsible to promote corrupt regimes of Nawaz Sharif, Bhutto, Zardari & Musharraf for last 30 years.

5. If Newspaper could not read changing times which demanded innovation in a digital world.

6. If owners & beneficiaries of these media groups have made millions & billions by promoting corrupt & incompetent.

Nation demands accountability from these NewsPapers. Are they more deserving than national cause of Dams, dying children of Thar, 45% under nutritional children, 40% people below poverty alleviation or Edhi Foundation. Is NewsPapers a national cause or agenda promoter of corrupt?

Where in the world, Newspaper run on government funds? If Newspapers want to survive, they must strive for innovation & creativity to rise an industry , not a begging bowl.

Astonishing figures of 20 Billion were disbursed to Media by Nawaz Government in one year? What for? In this digital world, what is the need of giving Ads in a Newspaper which is not read even 1% population of Pakistan. Why not every government department gives Ads of its tenders & other Information on its Website & Social Media? Which is followed by 70 Million population of Pakistan which cost a fraction of current government budget for Media.

In the best interest of our country and in sympathy to 80% under privileged population of Pakistan, I request government to completely abolish government Ads to Media.

Media must learn self sustainability on commercial grounds like most of the world.

Pakistan cannot and must not waste a penny on Ads to Media. We have PTV and Social Media enough to publish & circulate all government Ads & Information.

Entire budget of government Ads must be diverted to Dams Fund.

A Social Media industry must be created to absorb jobless media persons.

I can create a multi million dollar social media industry in one year just with the introduction of few government regulations and without a penny from government.


ان کو ضرورمرنا چاہئے


احمد جواد

وزیراعظم کی خدمت میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کی جانب سے ایک اپیل ارسال کی گئی ہے۔ اپیل میں بتایا گیا ہےحکومت کے ذمے اخبارات کے ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے کے واجبات کی عدم ادائیگی کی وجہ سے انہیں موت نظر آنے لگی ہے۔ اور یہ کہ آئندہ سے انہیں حکومتی اشتہار دینے کا سلسلہ بند کر دیا گیا ہے۔اپیل میں مزید کہا گیا کہ اخبارات زیادہ تر حکومتی اشتہارات کی وجہ سےہی چلتے ہیں۔

مجھے کہنے کی اجازت دیں کہ ان اخبارات کو مر ہی جانا چاہئے۔

کیوں؟

1. کیونکہ ان اخبارات نے 71سالوں میں اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا نہیں سیکھا۔
2. کیونکہ انہوں نےسرکاری اشتہارات کے حصول کے لئے صرف حکمرانوں کی چاپلوسی کرنا سیکھا اور ان کی کرپشن اور نااہلی کو کبھی آشکار نہیں کیا۔
3. کیونکہ اخباری صنعت ایک صنعت نہیں بن سکی محض کشکول بن کر رہ گئی ہے۔
4. کیونکہ یہ اخبارات گذشتہ 30برس میں نواز شریف، بھٹو، زرداری اور مشرف کے کرپٹ ادوار کی تشہیر کے ذمہ دار ہیں۔
5. کیونکہ یہ اخبارات آنے والے دور میں تبدیلی کی چاپ نہ سن سکے جس کا تقاضہ تھا کہ عالمی ڈیجیٹل جدتوں کو بروئے کار لایاجاتا۔
6. کیونکہ میڈیا گروپوں کے مالکان اور ان سے مفاد حاصل کرنے والوں نے کرپشن اور نااہلی کا ساتھ دے کر اربوں کھربوں روپے کمائے ۔

قوم کا مطالبہ ہے کہ ان اخبارات کا احتساب کیا جائے۔کیا ان کا مفادقوم کےلئے نئے ڈیم بنانے، تھر کے خوراک کی کمی کے سبب مرنے والے 45فیصد بچوں، غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گذارنے والے 40فیصد لوگوں یا ایدھی فاؤنڈیشن سے مقدم ہے۔کیا اخبارات کرپٹ افراد کے ایجنڈے اور مقاصد کو آگے بڑھانے کے لئے ہوتے ہیں؟

دنیا میں کون سے ممالک ہیں جہاں اخبارات صرف حکومتی امداد کے بل پر ہی چل سکتے ہیں۔ اخبارات کی بقا کا تقاضہ ہے کہ وہ تخلیق اور جدت کی بدولت اس صنعت کو پروان چڑھائیں نہ کہ بھیک کا کشکول اٹھائے اٹھائے پھریں۔

حیرت ہےکہ کس طرح 20ارب روپے کی بہت بڑی رقم نواز شریف نے صرف ایک سال میں میڈیا والوں میں تقسیم کر ڈالی؟ کس لئے؟ آج کے کمپیوٹر کے دور میں ان اخبارت کو اشتہار دینے کی ضرورت کیا ہے جنہیں ایک فیصد افراد بھی نہیں پڑھتے۔حکومت کے محکمے اپنے ٹینڈر اور دوسرے معلوماتی اشتہار اپنی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر کیوں نہیں دیتے جن کو پاکستان میں لاکھوں کروڑوں لوگ دیکھتے ہیں۔ اس طرح حکومت کے میڈیا کے لئے مختص بجٹ میں سے بہت کمی آئے گی۔

ہمارے ملک کے بہترین مفادمیں اور مراعات سے محروم پاکستان کی 80فیصد آبادی سے ہمدردی کی خاطر میں حکومت سے گذارش کروں گا کہ میڈیا کو سرکاری اشتہارات دینے کا سلسلہ بند کر دیا جائے۔

میڈیا کو چاہئے کہ اپنی بقا کے لئے تجارتی بنیادوں پر ان اقدامات کے لئے جدوجہد کرے جن کو ساری دنیا بروئے کارلاتی ہے۔

پاکستانی حکومت کو میڈیا اشتہارات کی مد میں ایک دھیلہ بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے جب کہ سرکار کی ملکیت میں پی ٹی وی اور سوشل میڈیا موجود ہیں جو سرکاری اشتہارات چلانے اور حکومتی معلومات فراہم کرنے کے لئے کافی ہیں۔

میڈیا کو اشتہارات کے لئے مخصوص کیا گیا سرکاری بجٹ ڈیم کی تعمیر کے لئے قائم کئے گئے فنڈ میں جمع کرا دینا چاہئے۔

ایک ایسی سوشل میڈیا انڈسٹری کو فروغ دیا جائے جس میں بے روزگار میڈیا کارکنوں کو سمویا جا سکے۔

اگر موافق اور کاروبار کی ترقی کے لئے معاون حکومتی قوانین متعارف کرائے جائیں تو میں ایک سال میں حکومتی خزانے سے ایک پیسہ خرچ کئے بغیر لاکھوں ڈالر کی سوشل میڈیا انڈسٹری ایک سال میں قائم کر سکتا ہوں۔

Facebook Comments
SHARE
Previous articleCPEC must continue BUT…