Thinking Like Kaptaan – It’s not Difficult, It is Impossible.

66

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


It’s now 40 years, I have followed Imran Khan as an ardent fan, a supporter and a close confidant. Number of times, I find hard to understand his decisions but mostly an apparently bad decision later on becomes a good decision to everybody’s surprise. If we all can think & act like him, we may all become Imran Khan, which we are not and which we may not.

In 1992, I recall his painstakingly slow batting inning when all Pakistanis in front of TV channels were frustrated and uttering very harsh words against him, but as the match moved to final overs, we begin to see a victory and World Cup coming to Pakistan. We forgot our very harsh comments on Imran Khan a few hours ago.

In his political career, he was always been criticised by experts, analyst & even his own team which included me as well, for his actions & decisions. It might take a few days, few months and few years but scenario mostly changes to his favour proving everybody wrong.

His nominations of Chief Ministers, Ministers & other position will draw criticism as usual but we must grant him 100 days to prove that majority of his decisions should be right. He needs players for every position including Opening Batsmen, One Down, Middle Order, All rounders, Hard hitters, Wicket keeper, Fast Bowlers, Spin Bowlers, Coach, Manager, Selection Committee and even he needs a 12th man to bring water & tea. He changes his team according to match and ability in a ruthless manner. He changes his batting order most unexpectedly. All his decisions are to ensure win. Don’t forget he dropped Majid Khan “The Mighty Khan” who was his childhood idol, in his first tour as a captain.

Nomination of Mahmood Khan might surprise everybody but let’s hold our horses, race has not yet started. It’s only a test session of Imran Khan team. He has only announced teams for side matches, his “Test Match” team will appear after 100 days. Some will be asked to leave, some will be asked to join after 100 days based on performance. Let me assure you that team will have changes after 100 days, batting order will also be changed.

My message here is definitely not that Imran Khan is without any error in his judgment & actions. He is after all a human being and we know “To Err is Human”. My message here is that, at the end of the day, he mostly wins. Let’s have faith in him. Let’s give him 100 days. Those who are not in team, they must remain patient and sit on boundary line for a while but don’t leave the ground. If you leave the ground, you are history, a history nobody would remember. Only history which we all remember is the team which won World Cup 1992 and similarly team who would win 2018 Pakistan Cup in next 4 months will be remembered. Be part of history. Stay in the stadium. Outside is a crowd, where you might be lost.

Kaptaan Ki Tarah Sochna Mushkil Hi Nahi, Na-Mumkin Hai



کپتان کی طرح سوچنا ۔ مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے

احمد جواد


چالیس برس ہونے کو آئے ہیں، اس دوران میں ایک جوشیلے پرستار ، ایک حمائتی اور قریبی معتمدکی طرح عمران خان کی پیروی کرتا رہا ہوں۔بار ہا مجھے اُس کے فیصلوں کو سمجھنے میں دقت ہوتی تھی۔ مگر بالآخر اُس کے بظاہر غلط فیصلے بعد میں اچھے فیصلے ثابت ہوتے جو سب کو حیران کر دیتے۔ اگر ہم بھی اُسی کی طرح سوچنا اور اُسی کی طرح عمل کرنا شروع کر دیں تو شاید ہم سب بھی عمران خان بن جائیں۔ مگر نہیں، نہ ہم عمران خان ہیں نہ اس جیسا بن سکیں گے۔

مجھے 1992ء کی اُس کی ٹُک ٹُک والی انتہائی پریشان کُن اننگز یاد آتی ہے جب ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھے سارے پاکستانی پریشان تھے اور اُس کے لئے تند و تیزجملے استعمال کر رہے تھے۔ لیکن جیسے ہی میچ آخری اووروں کی جانب بڑھا ہم سب کو جیت کی امید اور پاکستان میں ورلڈ کپ آتا دکھائی دینے لگا۔ہم وہ تمام کڑوے کسیلے کلمات بھول گئے جو ہم عمران خان کے لئے چند گھنٹے قبل استعمال کر رہے تھے۔

اپنے سیاسی سفر میں عمران خان نے ماہرین، تجزیہ کاروں حتٰی کہ اپنی سیاسی ٹیم کی طرف سے ،جس میں خود میں بھی شامل تھا، اپنے عمل اور اپنے فیصلوں پرتنقید کا سامنا کیا ۔پھر کیا تھاچند دنوں، کچھ مہینوں اور چند سالوں بعد منظر اس کے حق میں بدلتے اورسب ناقدین کو غلط ثابت کر دیتے۔

ہمیشہ کی طرح اُس کی جانب سے وزرائے اعلیٰ، وزیروں اور دوسرے عہدوں پر کی جانے والی نامزدگیوں پر آجکل بھی تنقید ہوگی۔ مگر ہمیں اُس کو 100دنوں کی مہلت تو دینی چاہئے تاکہ اس کے زیادہ تر فیصلے صحیح ثابت ہوجائیں۔ ہر عہدے کے لئے اوپننگ بیٹسمینوں، تیسرے نمبر کے کھلاڑی، مڈل آرڈر، آل راؤنڈروں، لمبی ہٹیں لگانے والوں، وکٹ کیپر، فاسٹ باؤلروں، سپن باؤلروں، کوچ، مینیجر، سلیکشن کمیٹی یہاں تک کہ چائے پانی پلانے والے بارہویں پلیئر کی طرح عمران خان کو کھلاڑی درکار ہوں گے۔وہ میچ کی ضرورت اور اہلیت کے حساب سے کڑے انداز میں تبدیلیاں کرے گا۔ غیر متوقع طور پر وہ اپنا بیٹنگ آرڈر بھی تبدیل کرے گا۔ مگر اُس کے تمام تر رد ّو بدل کا مقصد کامیابی کو یقینی بنانا ہوگا۔ آپ کویاد نہیں جب اُس نے مائٹی خان کہلوانے والے ماجد خان کو ڈراپ کر دیا تھا حا لانکہ ماجد خان بچپن سے اُس کا آئیڈیل کرکٹر اور پہلے غیر ملکی دورے کے دوران اُس کا کپتان رہا تھا۔

محمود خان کی بطور وزیر اعلیٰ نامزدگی نے سب کو ششدر کر دیا ہے۔ لیکن رُکئے، ابھی دوڑ شروع نہیں ہوئی۔ یہ تو عمران خان کی آزمائشی دور کی ٹیم ہے۔ اُس نے ابھی سائیڈ میچ کی ٹیموں کا اعلان کیا ہے اور اُس کی ٹیسٹ میچ کی ٹیم 100دنوں کے بعد سامنے آئے گی۔ اس دوران کچھ لوگ چلے جائیں گے، کچھ کو کارکردگی کی بنیاد پر ٹیم میں شمولیت کی دعوت دی جائے گی۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ 100دنوں کے بعد تبدیلیاں بھی کی جائیں گی اور بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی بھی کی جائے گی۔

میرے پیغام کا یہ مطلب نہیں کہ عمران خان کے عمل یا فیصلوں میں کوئی غلطی واقع نہیں ہو سکتی۔ وہ بھی سب لوگوں کی طرح انسان ہے اور انسان خطا کا پُتلا ہوتا ہے۔ میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ آخر کار وہ فتح یاب ہوتا ہے اس لئے ہمیں عمران پر اعتماد کرنا چاہئے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اُسے 100دنوں کی مہلت دیں۔ وہ لوگ جو اس کی ٹیم میں شامل نہیں ہو سکے انہیں صبر کے ساتھ باؤنڈری لائین پر موجود رہنا چاہئے لیکن میدان ہر گز نہیں چھوڑنا چاہئے۔ ایک دفعہ آپ میدان چھوڑ گئے تو آپ اُس تاریخ کا حصہ بن جائیں گے جس تاریخ کو کوئی بھی یاد کرنا پسند نہیں کرے گا۔ہم جس تاریخ سے مانوس ہیں وہ اُس تاریخی ٹیم کی ہے جس نے1992ء کا ورلڈ کپ جیتا تھا۔ بالکل اُسی طرح اگلے چار مہینوں میں جو سیاسی ٹیم 2018ءکا پاکستان کپ جیتے گی وہ یاد رکھی جائے گی۔ میدان میں موجود رہیں اور تاریخ کا حصہ بن جائیں۔ میدان کے باہر تو ہجوم ہی ہجوم ہے جس میں آپ گم ہو سکتے ہیں۔

کپتان کی طرح سوچنا مشکل ہی نہیں ، ناممکن ہے۔

Facebook Comments