Tribute to Lt Daniel Utarid of 31 Punjab, 47th PMA course on his 45th martyrdom anniversary.

513

By Azam Mairaj

ڈینئل عطارد شہید(شہیدِ مشرقی محاذجنگِ 1971ء) ۳۱ پنجاب ۴۷ پی ایم اے لونگ کورس
’’یہ گولیاں میری ماں کو سوینیئر کے طور پر دینا اور بتانا کہ میں نے دفاع وطن کے لیے سینے پر گولی کھائی ہے‘‘
اعظم معراج کی کتاب’’ شناخت نامہ‘‘ سے اقتباس
1950ء میں لاہور سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ آرتھر عمانویل عطارد کی تعیناتی مشرقی پاکستان ڈھاکہ (موجودہ بنگلہ دیش) میں ہوئی۔ بعد میں انھوں نے اپنی فیملی کو وہیں بلوا لیا۔ 16 فروری 1952ء کو ان کی بیگم نے ڈھاکہ کے ملٹری اسپتال میں ایک خوبصورت صحت مند بیٹے کو جنم دیا۔ جس کا نام انھوں نے ڈینئل عطارد رکھا۔
مشرقی پاکستان سے واپس لاہور تعیناتی پر ہونہار ڈینیل عطارد کو سینٹ انتھی اسکول لاہور میں داخل کرا دیا گیا۔ جہاں سے انھوں نے جونیئر کیمبرج کیا اور بچپن سے اپنے خوابوں کی تکمیل کیلیے فوجی زندگی کو اپنا کیریئر بنایا۔ ہوش سنبھالتے ہی انھوں نے اپنے والد میجر (ر) آرتھر عمانویل عطارد اور اپنے کزن لیفٹیننٹ کرنل (ر) فلپ عطارد (اس وقت کیپٹن) کی فوج سے محبت اور وطن کی خاطر ہر قربانی دینے کی باتیں سنی تھیں لہٰذا یہی جذبہ دل میں لے کر جب یہ نوجوان پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول پہنچا تو اس نے 47th پی ایم اے کورس میں شمولیت اختیار کی اور 13 نومبر 1971ء کو بہترین نشانہ باز کی شیلڈ لے کر پاس آؤ ٹ ہوا۔ اس کی پہلی ترجیح (جنگ کی ملکہ ) پنجاب رجمنٹ تھی۔ کیونکہ اسے انفنٹری سے عشق تھا۔ یہ کورس دوران جنگ ہی پاس آؤ ٹ ہوا تھا اور جنگ کی شدت مشرقی محاذ پر زیادہ تھی جہاں اس وقت اس کے چچا کیپٹن فلپ عطارد (بعدازاں کرنل فلپ عطارد) بھی مادرِ وطن کے دفاع میں مصروف تھے۔ اور اس کے والد ریٹائرمنٹ کے بعد مادرِ وطن کے دفاع کے لیے دی گئی کال پر کشمیر بھمبر کے محاذ پر دشمن سے نبردآزما تھے۔
وطن کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار اور دفاع وطن کی محبت کے جذبے اور امنگوں سے سرشار اس 19 سالہ نوجوان نے مشکل محاذ یعنی مشرقی محاذ کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا۔
اور یکم دسمبر 1971ء کو نوجوان سیکنڈلیفٹیننٹ ڈینیل عطارد شہید کی پہلی تعیناتی 31 پنجاب میں ہوئی جو اس وقت سلہٹ مشرقی پاکستان میں تعینات تھی۔ وہاں دورانِ جنگ اور بعد میں محاذ جنگ سے واپس آنے والے افسران اور جوانوں کے مطابق اور خاص کر اس وقت کے 31 پنجاب کے کمانڈنگ افسر مرحوم لیفٹیننٹ کرنل ریاض جاوید کے مطابق دفاع وطن کے لیے ہر وقت تیار یہ نوجوان فائٹنگ پیٹرول (جنگی گشت) کے لیے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کرتا۔ اور اکثر دشمن سے مڈبھیڑ کے بعد جوش سے دَمکتے چہرے کے ساتھ واپس آتا اور جنگ کی ہولناکیوں سے کبھی پریشان نہ ہوتا۔ جلد ہی اس نے اپنی یونٹ میں اپنے کمانڈنگ افسر، ساتھی افسران، جے سی اوز اور جوانوں کی نظر میں ایک فرض شناس حوصلہ مند اور دفاع وطن کے لیے ہر وقت تیار افسر کی حیثیت سے اپنی پہچان اور عزت بنا لی۔
13 دسمبر کی علی الصبح سیکنڈ لیفٹیننٹ ڈینیل عطارد شہید کی کمپنی شب بھر کے تھکا دینے والے جنگی مشن سے لوٹی تھی اور نوجوان سیکنڈ لیفٹیننٹ اپنے ایک بچپن کے جانے پہچانے بیٹ مین کے ہاتھ کا ناشتہ کر رہاتھا (یہ بیٹ مین ان کے ایک چچا کرنل اولیور آئزک کے ساتھ 16 پنجاب میں بھی خدمات انجام دے چکا تھا اس لیے یہ ان کو بچپن سے جانتا تھا) کے مطابق خبر آئی کہ دشمن نے 31 پنجاب کی ایک پلوٹون پر حملہ کر دیا ہے اور یہ پلوٹون کافی دباؤ میں ہے۔ اور وہاں کافی جانی نقصان بھی ہو رہا ہے۔
وطن کے جذبے سے سرشار اس نوجوان افسر نے فوراً اپنے جوانوں کو تیار ہونے کا حکم دیا اور اپنے جوانوں کے ساتھ فوراً محاذ جنگ پر پہنچا۔ اس معرکے میں یہ جیالا افسر دشمن سے لڑتے ہوئے شدید زخمی ہوا اور آپریشن ٹیبل پر جب اس کے سینے سے تین گولیاں نکالی گئیں تو اس نے سرجن کو کہا کہ ’’یہ گولیاں میری ماں کو سوینیئر کے طور پر دینا اور بتانا کہ میں نے دفاع وطن کے لیے سینے پر گولی کھائی ہے۔‘‘ (یہ بات شہید کے بھائی ڈیوڈ عطارد نے سرجن کی نوٹ بک میں سے دیکھی تھی جب وہ فوجی ڈاکٹر دشمن کی تین سالہ جنگی قیدی کی حیثیت سے قید گزار کر وطن پہنچا اور ڈیوڈ عطارد کو ملا تھا)
اس طرح مٹی سے پیار کرنے والے اس نوجوان نے 13 دسمبر 1971ء کو 19 سال 8 ماہ اور 27 دن کی عمر میں جامِ شہادت نوش کیا۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ وطن عزیز کے لیے جان کی قربانی دینے اور فرض شناسی کی داستان رقم کرنے کی خدمات کے اعتراف میں اس نوجوان افسر کو ستارہ جرأت بعداز شہادت دینے کی سفارش کی گئی۔ لیکن 14 دسمبر 1971ء کو 31 پنجاب کے ساتھ ساتھ پاکستان آرمی کے ہتھیار ڈالنے کے بعد سب کچھ دشمن کے ہاتھ لگ گیا اور اس طرح یہ سفارشات بھی کہیں ضائع ہو گئیں۔
سقوطِ ڈھاکہ کے ساتھ ہی وطن کے بہت سارے سرفروش نوجوانوں کا خون بھی ضائع ہوگیا۔ لیکن 16 فروری 1952ء کو ڈھاکہ میں جنم لینے والے اس مٹی کے سپوت کو قائداعظم کے پاکستان میں ہی مٹی نصیب ہوئی اور وہ مشرقی پاکستان موجودہ بنگلہ دیش میں ہی کہیں دفن ہے۔ پنجاب رجمنٹ نے اپنے اس جری بہادر، حوصلہ مند اور دفاع وطن کے لیے اپنی جان قربان کرنے والے بیٹے کا نام مردان میں پنجاب رجمنٹ کے رجمنٹل سینٹر میں شہداء کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگار کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ مردان میں پنجاب رجمنٹ کے رجمنٹل سینٹر میں شہدا کی یاد میں تعمیر کی گئی یادگارِ شہدا کی فہرست میں شہید لیفٹیننٹ ڈینیئل عطارد کا نام دفاع وطن کے لیے اپنی جان قربان کرنے کی لازوال قربانی کی داستان ہمیشہ یاد دلاتی رہے گی۔