Turkey’s New Presidential System.

282

 

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


تُرکی کا نیا صدارتی نظام

احمد جواد

یہ ہیں وہ نکات جن پر آئینی ترامیم کے لئے ترکی میں ووٹنگ کرائی گئی

وزیر اعظم کا عہدہ ختم کر دیا جائے گا

پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد بڑھا کر 600کر دی جائے گی

بڑے عہدوں کے افسران کی تقرری صدر براہ راست کرے گا

400مخالف ووٹوں کی اکثریت پر صدر کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنا پڑے گا

ملک میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ صدر کرے گا اور پارلیمنٹ اس کی منظوری دے گی

صدر کو اپنی سیاسی پارٹی سے قطع تعلق ہونے کی ضرورت نہیں ہو گی

عدلیہ آزاد ہونے کے ساتھ ساتھ غیر جانبدار  بھی رہے گی

ہر پانچ سال بعد صدارتی اور پارلیمانی انتخابات بیک وقت ہو ں گے

اکثریتی ووٹوں کے ساتھ پارلیمنٹ صدارتی معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کر سکتی ہے

نائب صدر اور وزراء کی تقرری صدر کرے گا

ججوں اور استغاثہ کا بورڈ وزیر انصاف، انڈر سیکرٹری، پارلیمنٹ کی طرف سے نامزد سات ممبران اور صدر کے نامزد کردہ چار ارکان پر مشتمل ہو گا

پارلیمنٹ کا رکن منتخب ہونے کے لئے عمر کی حد 18سال کر دی گئی ہے۔

پارلیمنٹ کا قانون سازی کا استحقاق بدستور جاری رہے گا

صدر کے مواخذے کے لئے 360 پارلیمانی ووٹوں کی ضرورت ہوگی

صدر اور پارلیمنٹ دونوں دوبارہ انتخابات کا مشورہ دینے کے مجاز ہوں گے

بجٹ کی منظوری کے لئے صدر کو پارلیمنٹ کی منظوری لینی ہو گی

فوجی عدالتوں کو فوجی افسران کےانضباطی معاملات تک محدود کر دیا گیا ہے

ہر ملک کو حق ہے کہ اپنی روایات اور ضروریات کے مطابق اپنے نظام میں اصلاحات نافذ کرے۔ اس مقصد کے لئے عوام کی اکثریتی رائے کی ضرورت ہے۔ترکی نے بھی یہی کیا ہے۔ترکی  میں لائی گئی تبدیلیوں کے خلاف مغرب کاتعصب اور معاوندانہ روّیہ سمجھ سے بالا تر ہے۔جرمنی، ڈنمارک اور دیگر ممالک جو طیب اردگان کی تحریک کی مخالفت کر رہے تھے اب اپنے زخم چاٹ رہے ہوں گے۔


Turkey’s New Presidential System.

By Ahmad Jawad

Here are the key points of the constitutional amendments that Turkey voted on:

• Position of the prime minister will be abolished

• The number of MPs will be increased to 600

• High-ranking public executives will be directly appointed by the president

• The president can be sent to the high court with 400 votes

• State of emergency will be declared by the president and approved by the parliament

• The president will not be required to dissociate from his/her political party

• Judiciary, in addition to independence, will also be defined as impartial

• Parliamentary and presidential elections will be held simultaneously every five years

• The parliament will be able to request an investigation into the president’s affairs by passing a majority vote

• The president will appoint ministers and vice president(s)

• The Board of Judges and Prosecutors will be comprised of the minister of justice, the undersecretary, seven members appointed by the parliament, and four members appointed by the president

• The age requirement to become an MP will be lowered to 18

• The legislative prerogative of the Parliament will be maintained

• The investigation decree for the president requires 360 votes

• Both the president and the parliament will be able to request a re-election

• The president must get parliamentary approval for the budget

• Military courts will be restricted to disciplinary issues among military officers

Every country must bring reforms into its system according to local needs and culture. It must be done with public majority vote. Turkey has just done that. Western frustration and bias against the Turkish change is beyond comprehension. Germany, Denmark & others who were resisting Erdogan campaign must be nail biting now.

Facebook Comments