Where Eagles Dare…

48

By Ahmad Jawad


Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”


It’s almost 15 years that India consistently blames us for terrorism in India.

India blames us for few terrorist attacks in India in last 15 years. Pakistan has a consistent record of terrorist attacks in Pakistan by India in last 15 years. A fact so many times presented to Pakistani leadership by ISI.
Evidence dossiers presented at UN on one odd occasion. Biggest evidence of Indian terrorism came after capture of Kulbashan Yadav: A serving commander of Indian Navy whose enrolment, employment, salary record are available. His confession is on record.

Despite such a long history of Indian terrorism, did we ever hear Zardari & Nawaz Sharif or their Ministers spoke about Indian terrorism in Pakistan. Instead, India placed so much importance & significance to alleged Pakistani terrorism in India that they refused to have any peace talks without first discussing terrorism. They consistently informed the world that they were not talking to Pakistan in a scenario where Pakistan is sponsoring terrorism in India. Pakistani Leader are consistently offering & requesting for peace talks & consistently rejected. Is it a good foreign policy?

Is it not a defensive & weak stance? Is it not disgraceful, that our request for peace talks has been repeatedly rejected by India? What exactly we want to prove to the world? that we are peace seekers? Sorry nobody believes that. Have we become a nation without honour & dignity who cannot even tell India or world about Indian sponsored terror activities in Pakistan? Had Ajit Doval not accepted openly that we are teaching Pakistan a lesson by creating unrest and sponsoring terror activities in Pakistan especially in Baluchistan? Is this video not on record? What else Pakistan needs to prove? Imran Khan is first leader in last 15 years who gave a tit for tat reply to Indian Leadership. India can make worst timing of conflict with Pakistan under the leadership of Imran Khan. After 1965, Nation will be first time united under Imran Khan to accept & respond any threat from India. Imran Khan has never lost and with whole nation at his back, India must fear such Pakistan. Look at those spineless intellectuals who are criticising Imran Khan’s tweet. Such intellectuals only made us weak & defensive. I now expect Imran Khan to raise the issue of Kulbashan Yadav as agenda point under the subject of terrorism, a subject India is so fond of discussing before Kashmir. I consider our foreign policy of peace seeking with India is flawed since 15 years from the time when Musharraf shook hands with Vajpayee. Peace is not offered to beggars. Peace is offered to opponents on equal footing. It’s time we change our stance. No more peace talks with India. No more trade with India. If India stops our water, we should use Ajit Doval doctrine to apply on India. Let’s support Sikh movement, let’s support Tamils, let’s stop Indian movies in Pakistan, let’s build dams, let’s sign Defense treaty with Russia, Turkey, China, Saudi Arabia & Iran.


عقابوں کا نشیمن


احمد جواد


پچھلے پندرہ برس سے بھارت میں ہونے والی ہر دہشت گردی کے لئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔بھارت نے تو پاکستان پر پچھلے پندرہ برس میں دہشت گردی کے چند واقعات کے الزام لگائے ہیں۔ مگر پاکستان کی پچھلے پندرہ برس کی تاریخ بھارتی پشت پناہی پر کی گئی دہشت گردی کی وارداتوں سے اٹی پڑی ہے۔یہ حقیقت بار بار آئی ایس آئی کی جانب سے پاکستانی قیادت کو باور کرائی گئی۔ایک موقع پر تو اقوام متحدہ کو ثبوتوں کے پلندے پیش کئے گئے۔بھارتی دہشت گردی کا سب سے بڑا ثبوت بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈرکلبھوشن یادیو کی گرفتاری پر ہاتھ لگا جس کی ملازمت اور تنخواہ کا ریکارڈ تک دستیاب ہے اور اس کا اقبالی بیان بھی ریکارڈ پر ہے۔ بھارتی دہشت گردی کی طویل تاریخ کے باوجود کبھی آپ نے زرداری، نواز شریف یا ان کے وزیروں کے منہ سے کبھی پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کے بارے کوئی بات سُنی۔اس کے برعکس بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات کا اس قدرطوفان کھڑا کر کے دہشت گردی پر بات چیت کئے بغیر امن مذاکرات سے انکار کر دیا۔ انڈیابڑے تسلسل سے دنیا کو تاثر دے رہا ہے کہ بھارت پاکستان سے اس لئے امن مذاکرات سے گریزاں ہے کیونکہ بھارت میں ہونے والی دہشت گردی کے پس منظر میں اسے پاکستان شہہ دے رہا ہے۔ پاکستانی لیڈر بڑے تسلسل سے بھارت سے امن مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں اور وہ بھی اُسی ڈھٹائی سے ان کی درخواستوں کو رد کرتا چلا آرہا ہے۔ کیا اسے ایک بہتر خارجہ پالیسی کہا جائے گا؟ کیا یہ ایک کمزور اور دفاعی طرز فکر نہیں ہے؟ بھارت بار بار ہماری امن مذاکرات کی پیش کشوں کو ٹھکرارہا ہے کیا یہ بات ہمارے لئے شرمناک نہیں؟ کیا ہم دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم امن کے متلاشی ہیں؟ معاف کیجئے کوئی ہماری بات پر یقین نہیں کرے گا۔ ہم عزت اور احترام سے عاری ایسی قوم بن چکے ہیں جو نہ بھارت سے کہہ سکتی ہے نہ دنیا کو باور کراسکتی ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کو بھارت ہوا دے رہا ہے۔ کیا اجیت دوول نے کھلم کھلا اعتراف نہیں کیا کہ پاکستان خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کی پشت پناہی کر کے بھارت پاکستان کو سبق سکھا رہا ہے؟ کیا اس اعترافی بیان کی ویڈیوکا ریکارڈ موجود نہیں؟ یہ بات ثابت کرنے کے لئے پاکستان کو اور کیا چاہئے؟ گذشتہ پندرہ برس میں عمران وہ واحد لیڈر ہے جس نے بھارتی قیادت کے الزامات کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا ہے۔ عمران خان کے اقتدار میں آنے سے پاک بھارت تنازعات کی بھارتی ٹائمنگ کو سخت دھچکا لگا ہے۔1965ء کے بعدیہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ پوری قوم بھارتی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لئے عمران خان کی قیادت میں متحد ہوگئی ہے۔ عمران خان کبھی ہارا نہیں اور جب پوری قوم متحد ہوکر اس کی پشت پناہی کرے تو بھارت کو ایسے پاکستان سے خوف آنے لگے گا۔ ان بزدل دانشوروں پر ایک نظر ڈالیں جو عمران خان کے ٹویٹ پیغام پر تنقید کر رہے ہیں۔ یہی دانشور ہیں جن کی وجہ ہے ہم کمزور اور دفاعی پوزیشن لینے پر مجبور ہوئے۔ میں عمران خان سے توقع کرتا ہوں کہ دہشت گردی کے ضمن میں کلبھوشن یادیو کے معاملے کوایجنڈے پر لے کر آئیں۔ یہ وہ موضوع ہے جس پر بھارت کشمیر سے پہلے بات چیت کرنا چاہتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ گذشتہ پندرہ سالوں میں واجپائی سے مشرف کے مصافحہ کے بعد پاکستان نے بھارت سے امن کی خواہش کے اظہار کی جو خارجہ پالیسی اپنائی اس میں کچھ کمزوریاں موجود ہیں۔ یاد رکھئے بھکاریوں کو امن کی پیشکش نہیں کی جاتی۔ امن کی پیشکش اپنے مد مقابل کو برابری کی سطح پر کی جاتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم بھی اپنے موقف کو بدلیں۔ نہ بھارت کو امن مذاکرات کی دعوت دیں نہ اس کے ساتھ تجارتی تعلقات استوارکریں۔ہندوستان نے ہمارا پانی بند کیاہے۔ ہمیں بھی اجیت دوول کی بھارت کو سبق سکھانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔آئیے ہم بھی سکھوں کی آزادی کی تحریک کی حمائت کریں، تامل ناڈ کے حریت پسندوں کی حمائت کریں۔ پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش بند کریں۔آئیے ہم ڈیم بنائیں۔ہمیں بھی روس، ترکی ، چین ، سعودی عرب اور ایران کے ساتھ دفاعی معاہدے کرنے چاہئیں۔

Facebook Comments