Why Imran Khan should not go to UNGA?


By Ahmad Jawad

Writer is Chief Visionary Officer of World’s First Smart Thinking Tank ”Beyond The Horizon” and most diverse professional of Pakistan. See writer’s profile at http://beyondthehorizon.com.pk/about/ and can be contacted at “pakistan.bth@gmail.com”

I like to draw analogy among three great leaders Mahathir, Erdogan & Imran Khan quite frequently. I predicted all of them to win elections this year before any elections in these three countries.

Mahathir is attending UNGA after completing 4 months of ruling Malaysia as Prime Minister. Mahathir was back in PM office after 22 years of rule in his last tenure.Mahathir did not attend UN Golden Jubilee celebration session in protest to UN’s inability to resolve issue.Mahathir is still remembered for his bold decision.

I am not sure if Erdogan is attending UNGA session this year, though he attended UNGA last year, this time he has serious challenges at home, he may skip the session. He is in power since last 16 years and won elections on 24 Jun 2018.

Compared to Erdogan & Mahathir, Imran Khan has come to power for the first time and it is going to be just one month when UNGA 2018 session starts.

Why Imran Khan should not attend UNGA 2018? Let me explain:

I remember once taking Imran Khan for a conference in Berlin in 2010. It was a 2 day conference. I recall he never enjoyed that conference for the simple reason he explained to me that he has a serious battle at home. He strongly believed for right reasons that he is needed in country more than in a foreign country. I, not only, understood his logic but truly believed in his thought process.

I do understand difference between a Berlin conference & UNGA but example has been given to understand “How Imran Khan thinks”.

Imran Khan just accepted Berlin invitation because of my recommendation and I regret even today to engage his precious time for less important activities. I am grateful at the same time that he obliged my recommendation. Interestingly, Imran Khan also never forgot this conference and even recently he reminded me teasingly about this trip in a lighter tone. Such international exposure & relationship will come later, first we need to work at home. That was his belief which reflect his focus & single mindedness towards his targets.

I remember a narration from his book “ All Rounder View”, where he explained his methodology to face challenges. He gave example from cricket. “

When I am batting, I am not thinking about making a century, I am only thinking about the ball which is soon coming to me, and I have to play the ball according to its merit”. Imran Khan wrote. It explains simple philosophy of his life “ First things First”.

My German colleague advised me once how to catch a chicken in a Farm where hundreds of chicken are moving around, if you run behind a chicken and just before catching, you see a better chicken and you change your target, same thing happens again & again whenever you get close to a chicken to catch, you are tempted to change your target for a better option. In the end, you end up exhausted & dejected and still without a chicken.

Focus is the primary characteristic of great leaders and Imran Khan is no exception.

He has just taken over a country which has been plundered & looted by Zardari & Sharifs for 10 years. He has serious challenges at home and very high expectations. Knowing Imran Khan, I can safely say he is sleeping very late these days because he is thinking about the changes he has to bring in Pakistan. He is thinking every moment about Pakistan and I am sure he must be dreaming the same in his few hours of sleep.

At this stage, UNGA should carry no importance to him, he is only focussed for his first 100 days in Pakistan and this is the incoming ball, he is thinking about only. Knowing him, and believing in “ First Things First” I strongly recommend he should not visit any foreign country for first 100 days.

Our foreign relations & diplomatic affairs can be handled by our capable Foreign Minister and his team.

Before Imran Khan starts his foreign tours, all “Short Cut” Ambassadors must be removed, all cronies of MNS must be recalled from foreign posts. A new team should do new homework before Imran Khan embarks on a foreign tour.

First 100 days is all about within Pakistan. Imran Khan exactly knows how the wind is blowing, ball is swinging, pitch is turning, and he has a very new team, he has to lead his team by leading from the front and this is what he likes most.

My request to those who all are trying to teach art of diplomacy & International relations to Imran Khan, must take a pause, Imran Khan will be as good in diplomacy as he proved in politics.

A famous saying “First put your house in order” and everything will follow is a simple message to complex minds.

Despite my understanding that Imran Khan should not go to UNGA, Imran Khan is in a better position to make a better decision and I am sure whatever he decides, it will be in national interest.

عمران خان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں کیوں نہیں جانا چاہئے؟

احمد جواد

مجھے اکثرمہاتیر، اردگان اور عمران خان جیسے تین بڑے رہنماؤں میں مشابہت تلاش کرنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں نےاِس برس ان کے ممالک میں انتخابات کے انعقاد سےقبل ان تینوں کی کامیابی کی پیشگوئی بھی کی تھی۔

مہاتیر ملائشیا میں اقتدار میں آنے کے چار ماہ مکمل کرنے کے بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلا س میں شرکت کرنے جارہے ہیں۔ مہاتیر اپنے گذشتہ اقتدار کے 22برس بعد دوبارہ کامیاب ہوکر ایوان وزیر اعظم میں واپس لوٹے ہیں۔اقوام متحدہ کی مسائل کے حل میں ناکامی کی وجہ سے مہاتیر نے اقوام متحدہ کی گولڈن جوبلی تقریبات میں شرکت نہیں کی تھی۔ مہاتیر کو اسی دبنگ فیصلے کی وجہ سے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس سال اردگان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کریں گے یا نہیں حالانکہ گذشتہ برس انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔اس برس انہیں ملک کی داخلی مشکلات کاسامنا ہے اس وجہ سے شائد وہ اس اجلاس سے پہلو تہی کر سکتے ہیں۔اردگان پچھلے 16سال سے اقتدار میں ہیں اور حالیہ برس 2018ءکے 24 جون کو ہونے والے انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کی۔

عمران خان کو کیوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہونا چاہئے اس کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں:

مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ 2010ء میں برلن میں ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لئے میں عمران خان کو لے کر گیا۔ یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔مجھے اندازہ ہے کہ اس کانفرنس میں شرکت سے وہ مطمعن نہیں ہوئے ۔ اس کی سادہ سی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ملک کی اندرونی جنگ کے بارے زیادہ سنجیدہ تھے۔انہیں اس حقیقت کا شدت سے احساس تھا کہ بیرون ملک جانے کی بجائے انہیں ملک کے اندر موجود ہونا چاہئے تھا۔میں ان کے سوچنے کے انداز کی وجہ سے ان کی منطق سے متفق تھا۔

میں برلن کانفرنس اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فرق سے بخوبی واقف ہوں لیکن مثال دینے کا مقصد یہ تھا کہ عمران خان کس طرح سوچتے ہیں۔

عمران خان نے میرے اصرار پر برلن کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کی تھی اور مجھے اس بات کا شدید قلق ہے کہ انہوں نے ایک کم اہم کانفرنس کے لئے اپنا قیمتی وقت صرف کیا۔ایک طرح سے میں ان کا ممنون بھی ہوں کہ انہوں نے میرا مان رکھا۔عمران خان نے برلن کانفرنس کو فراموش نہیں کیا اور مجھے چھیڑنے کے لئے اس دورے کا استہزائیہ انداز میں تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔بین الاقوامی تعلقات اور عالمی تعارف رہے ایک طرف پہلے ہمیں پاکستان کے اندرونی معاملات درست کرنے کی ضرورت ہے۔یہ عمران خان کی سوچ کا انداز ہے اور ان کے اپنے اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کا اظہار بھی ہے۔

مجھے ان کی کتاب میں درج ان کی ایک بات“ آل راؤنڈر انداز “یاد آتی ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ مشکلات کا کس طرح سامنا کرتے ہیں۔ اس کی مثال کرکٹ کے کھیل سے دی ہے۔

انہوں نے لکھاہے کہ جب میں بیٹنگ کرنے جاتا ہوں میں سنچری سکور کرنے کے بارے نہیں سوچتا۔ میں صرف اس بال کا سوچتا ہوں جس کا مجھے فوری طور پر سامنا کرنا ہے۔میں اس بال کو اس کے میرٹ پر کھیلتا ہوں۔اس سے ان کے فلسفہ حیات پہلا کام پہلےکی وضاحت ہوتی ہے ۔

میرے جرمن دوستوں نے ایک دفعہ مجھے پولڑی فارم میں اردگرد بھاگتی مرغیوں میں سے ایک مرغی پکڑنے کی ترکیب کی مثال دی۔اگر آپ ایک مرغی کو پکڑنے کے لئے لپکتے ہیں اور آپ کو ایک بہتر مرغی دکھائی دیتی ہے تو آپ اپنا ہدف تبدیل کرکے دوسری مرغی کے پیچھے بھاگنے لگتے ہیں۔آپ یہ عمل بار بار دہراتے ہیں اوربہتر ہدف کی تلاش میں ایک سے دوسری مرغی کے پیچھے بھاگتے ہیں۔انجام کار اس عمل میں آپ تھک ہار کر بیٹھ جائیں گے اور کوئی مرغی بھی آپ کے قابو میں نہیں آئے گی۔

توجہ اور یکسوئی تمام بڑے رہنماؤں کی خوبی ہوتی ہے اور عمران خان بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں۔

عمران خان نے حال ہی میں پاکستان کی عنان اقتدار سنبھالی ہےجس کو شریف خاندان اور زرداری دس سال لوٹنے میں لگے رہے۔پاکستان کو اندرونی طور پر شدید مشکلات کا سامنا ہے اور عمران خان کے ساتھ بہت زیادہ توقعات بھی وابستہ کر لی گئی ہیں۔جتنا میں عمران خان کو جانتا ہوں مجھے یقین ہے ان دنوں وہ رات کو دیر تک جاگ کر سوچتے ہوں گے کہ پاکستان میں کس طرح تبدیلی لانی ہے۔ہر لحظہ وہ پاکستان کے بارے سوچتے ہیں اور اپنی مختصر سی نیند میں اسی کی بہتری کےخواب دیکھتے ہیں۔

اس موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کی عمران کے نزدیک زیادہ اہمیت نہیں۔ فی الوقت ان کی تمام تر توجہ پاکستان میں ان کے پہلے 100دنوں کی کارکردگی پر مرکوز ہے۔ یہی وہ آنے والا بال ہے جس کے بارے وہ سوچ رہے ہیں۔ان سے واقفیت اور ان کے پہلا کام پہلے کے فلسفےکو جانتے ہوئے میں کہنا چاہوں گا کہ ان کو پہلے 100دن مکمل کرنے سے پہلے کسی بیرونی ملک کا دورہ نہیں کرنا چاہئے۔

ہمارے خارجہ تعلقات اور سفارتی امور ہمارے لائق فائق وزیر خارجہ اور ان کی ٹیم بخوبی نپٹا لیں گے۔

عمران خان کو غیر ملکی دورے شروع کرنے سے پہلے چور دروازوں سے تعینات کئے گئے سفیروں کو ہٹانا چاہئے اور بیرون ممالک سفارتی اسامیوں پر کام کرنے والے میاں نواز شریف کے چمچوں کو بلا کرفارغ کر دینا چاہئے۔عمران خان کےبیرونی دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ایک ٹیم کو ان امور پر ہوم ورک پہلے سے کام کر لینا چاہئے۔

پہلے 100دنوں کا معاملہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔ عمران خان کو بخوبی علم ہے کہ ہوا کس طرف کی چل رہی ہے، بال گھوم رہا ہےاورپچ ٹرن کرنے لگ گئی ہے ۔ ان کی ٹیم کے ارکان بھی نو آموز ہیں اور اس ٹیم کی قیادت کے لئے ان کو خود سامنے آنا ہوگا جو ان کو بہت مرغوب ہے۔

جو لوگ عمران خان کو سفارت کاری اور بین الاقوامی تعلقات کے رموز سمجھانے میں مصروف ہیں ان تھوڑا توقف کرنا چاہئے۔عمران خان کو سفارت کاری میں اتنی ہی مہارت حاصل ہے جس کا اظہار وہ سیاسی امور کی انجام دہی میں کر چکے ہیں۔

ایک مشہور مقولہ ہے کہ پہلے اپنے گھر کی خبر لینی چاہئے۔ مشکل پسند ذہنوں کے لئے یہی سادہ انداز اپنایا جائے گا۔

میری سوچ کے مطابق عمران خان کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں نہیں جانا چاہئے۔عمران خان فیصلہ کرنے کے لئے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ عمران خان جو فیصلہ کریں گے وہ پاکستان کے بہترین مفاد میں ہوگا۔

Facebook Comments