ابتک کا اہم ترین پیغام – پھر نا کہنا کسی نے خبر نا دی،یہ پیغام تاریخ کا حصہ رہے گا

0
45

پنجاب میں تحریک انصاف کے امیدوار ن لیگ کے حق میں دستبردار ہو رہے ہیں – لفافہ صحافی مزمل سہروردی کی خبر جی کاغذات نامزدگی چھیننا پہلا طریقہ ہے اگر کاغذات چھینے نا جائیں، تو نااہلی دوسرا طریقہ کار ہے، اگر نااہلی نا ہو پاۓ تو اُمیدوار کو ڈرا دھمکا کر الیکشن سے دستبردار کروا دو، ہر کسی کو اپنی اپنی عورتوں کی عزت اور بچوں کی زندگی عزیز ہے، اور جنکو الیکشن لڑنے کی اجازت مل جاۓ، انہیں الیکشن جیتنے کے بعد ڈرایا دھمکایا جاۓ گا، انکا پارلیمنٹ میں ووٹ اغوا ہو جاۓ گا، صرف 20/25 پی ٹی آئ کے اُمیدوار چھوڑ دئیے جائیں گے، تاکہ جمہوریت کے ڈرامے میں حقیقت کا سماں پیدا ہو، سکرپٹ رائٹر نے سکرپٹ قوم کے غلامی کے جراثیم کو سامنے رکھ کر لکھا ہے، سکرپٹ کو یورپین اور امریکی کوالٹی کنٹرول سے باقاعدہ منظور کرویا گیا ہے ایسے میں مزمل سہروردی جیسے کراۓ کے صحافی تجزیہ کریں گے کہ پی ٹی آئ کی مقبولیت صرف سوشل میڈیا پر ہے، زمینی حقائق کچھ اور ہیں، جی زمینی حقائق یہ ہیں کہ زمین پر جن کو اللہ نے اُڑنے کیلئے پر دیے، وہ چیونٹیوں کیطرح رینگ رہے ہیں، اور بوٹوں کے نیچے چینوٹیاں کچلی جاتی ہیں، قصور بوٹوں کا نہیں، قصور اُنکا ہے جنہوں نے اُڑنے کی بجاۓ رینگنے کو ترجیح دی لفافے صحافیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ سوشل میڈیا پر جن بُھوت پی ٹی آئ کی حمایت کرتے ہیں جنہیں یوتھیا کہتے ہیں، ایلون مسک اور مارک زکربرگ نے پاکستان کے سوشل میڈیا کیلئے جنوں بُھتوں کو خاص رعایت دی کہ بارہ کروڑ جن بھوت پاکستان کا سوشل میڈیا چلا رہے ہیں, ان بارہ کروڑ جنوں بُھتوں نے مارکیٹ سے موبائل بھی خریدے ہوۓ ہیں اور اسکا ماہانہ بل بھی دیتے ہیں، انکے قومی شناختی کارڈ بھی بنے ہوۓ ہیں عمران خان کی مقبولیت کیا ہے؟ پاکستان کے 70 فیصد لوگ گلیوں، بازاروں، گھروں، دفتروں میں پی ٹی آئ کے حمایتی ہیں، پاکستان کے کسی بھی شہری کو چیلنج ہے، ایک دن اپنے گھر، اپنے ہمساۓ، گلی صاف کرنے والے، کچرا اٹھانے والے، اپنے ڈرائیور سے، اوبر ڈرائیور سے، ویگن ڈرائیور سے، بس سٹاپ پر کھڑے مسافر سے، ریڑھی پر پھل بیچنے والے سے، دکان پر سبزی گوشت بیچنے والے سے، ریسٹورنٹ پر ویٹر سے، کسی طالب علم سے، کسی استاد سے، کسی موچی سے، کسی راہ گیر سے پوچھ لیں کہ ووٹ کسکا ہے، عمران خان کے حق میں 70 فیصد رزلٹ کی گارنٹی دیتا ہوں پاکستانیوں، اس حقیقت کو واضح کرنے کا مقصد ہمت ہارنا نہیں لیکن یہ بتانا ہے کہ آپ کے ووٹ کی وقعت دو ٹکے کی بھی نہیں، تو پھر کیا کرنا ہے؟ وہی جو آج سے کئی ماہ پہلے بتا چکا ہوں، دس کروڑ عوام کو پولنگ سٹیشن پر صرف ووٹ ڈالنے نہیں بلکہ نتائج کی حفاظت تک بیٹھنا ہے، نتائج تبدیل ہونے پر احتجاج کرنا ہے، غلام کا ووٹ اشرافیہ کیلئے صرف ایک مُہر ہے، مُہر مت بنو، مُہر کے مالک بنو، اپنی مُہر کی حفاظت کرنا سیکھو، برصغیر کی سو سالہ تاریخ میں ایسی فاشزم دیکھنے میں نہیں آئ جو آج پاکستان میں ہے، آج پاکستان میں مقابلہ ن لیگ یا پیپلز پارٹی یا اسٹبلشمنٹ سے نہیں ہے، آج پاکستانی عوام کا مقابلہ امریکی سامراج اور انکے غلاموں سے ہے، یہ تاریخ کی بڑی جنگ ہے، 8 فروری کے ڈرامے کا سکرپٹ اور سب کردار لکھے جا چکے، پاکستانی عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ پلان اے، پلان بی، پلان سی کی خوش فہمی میں رہنا ہے، یا آزادی لینی ہے، عمران خان نے جو کرنا تھا، کر چکا، وہ سواۓ جیل میں ہمت اور بہادری سے رہنے کے علاوہ اب اور کچھ نہیں کر سکتا، جو لیڈر شپ باہر ہے، وہ بے بس ہے، اب جو بھی کرنا ہے، عوام نے خود کرنا ہے، کوئ فرشتہ آ کر نہیں بتاۓ گا، زمین پر موجود ترک یا بنگالی یا ایرانی یا سری لنکن، کسی ایک قوم سے تو سیکھ لو، ورنہ بہادر شاہ ظفر بننا ہی تمہاری قسمت ہے، ٹیپو سلطان تو بہت پہلے غداروں کے ہاتھوں مارا جا چکا، اس زمین پر ٹیپو سلطان مارے جاتے ہیں، میر صادق، میر جعفر ترقیاں بھی کرتے ہیں، عہدے بھی لیتے ہیں، مال بھی بناتے ہیں، عیش و آرام بھی کرتے ہیں، نہیں ہے نااُمید اشرافیہ اپنے سکرپٹ سے ذرا مال ہو تو یہ مٹی بڑی غلام ہے