عمران خان زیرو سے ہیرو بن گیا، ہماری میڈیا اسٹریٹیجی ہی نہیں تھی، دانیال عزیز

0
100

بھائ میں یہ ایک سال پہلے وزیراعظم ہاؤس سے استعفی دینے سے پہلے بتا کے آیا تھا، فہد حسین اور مریم اورنگ زیب کو یاد ہوگا نا مسلم لیگ ن کے پاس کوئ سٹریٹیجی ہے اور نا پی ڈی ایم کے پاس اور نا انکے آقاؤں کے پاس، چند نکمے ان سب کی میڈیا سٹریٹیجی پر مامور ہیں، لیکن نکمے کیا کریں کہ بیانیہ تو لیڈرشپ دیتی ہے، نیچے تو صرف اسکی مارکیٹنگ کرتے ہیں لیکن جو اصل بات تسلیم کرنے والی ہے وہ یہ ہے کہ ایلون مسک، مارک زکر برگ بھی ان کے حوالے کر دیں، ان کے پاس بیچنے کیلئے بیانیہ ہے ہی نہیں تو کوئ بھی ہو، وہ کیا بیچے؟ روایتی اور موروثی سیاست اور انکے ہینڈلرز عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں, یہ اب اُلٹے بھی ہو جائیں، عوام ان کو تسلیم نہیں کرے گی، الیکشن ان سب کی مشترکہ موت ہے اور یہ سب مشترکہ طور پر الیکشن سے بھاگ رہے ہیں، ان کی سیاست ختم ہو چکی ہے، عوام انکو جوتے مارنے کیلئے بے چین ہے، ووٹ تو بہت دور کی بات ہے، ایک اصلاح کر دوں، عمران تو بیس سال پہلے بھی زیرو نہیں تھا لیکن 9 اپریل 2022 سے پہلے مقبولیت میں کچھ کمی ہوئ تھی اور وہ ضمنی الیکشن میں واضح تھی