عوام کو لیڈرشپ چاہیے

0
98

اگر پی ٹی آئ کو اتنی بڑی جنگ جیتنی ہے تو خالی عمران خان کا نام اور ووٹ بینک کافی نہیں ہے، پی ٹی آئ کی آرگنائزیشن میں لیڈرشپ کا فقدان ہے، عمران خان اکیلا ہی یہ جنگ لڑ رہا ہے، شیر افضل مروت نے عمران خان کے جیل میں جانے کے بعد پہلی دفعہ دلیری کا مظاہرہ کرتے ہوۓ عوام کے جذبات کی راہنمائ کی، عوام جس جوش و جذبے سے نکلے، وہ ایک طوفان تھا، یہ ایک نا ختم ہونے والی آندھی بن سکتی تھی لیکن پی ٹی آئ میں کالی بھیڑوں نے اس تحریک پر فل سٹاپ لگوا دیا اور تقسیم کی کوششیں شروع کر دی، سی ای سی کے اجلاس میں عمران خان کا یہ تاریخی فقرہ میں نے اپنے کانوں سے سُنا تھا اور مجھے یاد ہے، پی ٹی آئ کو پی ٹی آئ سے خطرہ ہے اور پی ٹی آئ کو صرف پی ٹی آئ ہرا سکتی ہے، جیل میں عمران خان تک صحیح صورتحال پہنچنا ایک چیلنج ہے، ایسے میں ایسا ثخص چاہیے جو خان کی طرح سوچتا ہو اور خان کیطرح بہادر ہو، جسے عوام عمران خان کا نمائندہ سمجھے عوام کو لیڈرشپ چاہیے، کیونکہ عوام پانی کے ڈیم کیطرح ہوتی ہے، پانی کے ذخیرے سے استعمال چاہے بجلی بنانا ہو یا زراعت، دونوں کو راستہ اور راہنمائ چاہیے ہوتا ہے، پی ٹی آئ میں ڈیم اور پانی دونوں موجود ہیں لیکن فلڈ گیٹس کا راستہ بلاک ہے اور بجلی بنانے کی ٹربائین پر قبضہ ہے، جو بھی فلڈ گیٹس یا ٹر بائین چلانے کی کوشش کرے گا، اسے فارغ کر دیا جاۓ گا، اندرونی یا بیرونی کوششوں سے بس ڈر یہ ہے کہ کہیں بڑھتے پانی کےساتھ ڈیم پھٹ نا جاۓ، ڈیم جب پھٹتا ہے تو بہت تباہی ہوتی ہے، ڈیم میں ہر روز پانی بڑھ رہا ہے