میں عمران خان کو آج کے دور کا ولی اس لئے مانتا ہوں

0
118

میں عمران خان کو آج کے دور کا ولی اس لئے مانتا ہوں کہ واشنگٹن، دہلی، لندن، غلام اسلامی ممالک، یورپ، اسرائیل صرف ایک عمران خان سے خوفزدہ ہیں اور وہ اکیلا انہیں شکست دے رہا ہے، جیل کی سلاخوں کے پیچھے سے، پاکستان کا سارہ گند ایک جمع ہو کر اسکے خلاف کھڑا ہے اسکی غیر معمولی مقبولیت، اسکی غیر معمولی حق گوئ، اسکا غیر معمولی بقا, اسکی غیر معمولی کامیابیاں، اسکا غیر معمولی اولین مقصد، یہ ولی پاکستان میں پیدا ہو چکا ہے، اسکے مخالف ذلیل و روسوا ہوں گے، اسکا نام رہتی دنیا تک رہے گا، اسنے سچ کا جو دیا جلا دیا ہے، یہ کبھی نہیں بُھج پاۓ گا، یہ دیا دلوں میں گھر کر چکا ہے، یہ نسلوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے پاکستان اور پوری دنیا کے مسلمان عمران خان میں مسلم اُمہ کا لیڈر دیکھ رہی ہے، یہی عمران خان کا سب سے بڑا جرم ہے اور یہی عمران خان کی سب سے بڑی سچائ ہے میں تو یہ بھی دیکھ رہا ہوں کہ عمران کے مخالفوں کو دنیا میں وہ ذلت اور رسوائ نصیب ہوتی ہے جو کوئ با ضمیر شخص برداشت نہیں کر سکتا، اللہ نے عمران خان کے اُوپر اپنی رحمتوں کا سایہ کیا ہوا ہے، اُس پر سختیاں تو وہی راستہ ہے جہاں سے اللہ نے اپنے نیک لوگوں کو گزارہ مشکل وقت میں ایک مسلمان کے طور پر ہمیشہ یاد رکھیں کہ شعب ابی طالب کے واقعے کی سختیاں کبھی سچ کو مٹا نہیں سکتی، وہ واقعہ مسلمانوں کیلئے مشکل وقت میں ہمشہ ایک روشنی کی کرن ہے، ہمارے نبی کی زندگی ہماری زندگی کے ہر موڑ پر ایک سبق کیساتھ موجود ہے اور ہم اپنے آخری بنی کے ماننے والے پیروکار ہیں بر صغیر میں تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے، نواز شریف کو وہی کردار ملا ہے جو تاریخ میں میر جعفر اور میر صادق کو ملا، نواز شریف تمام بیرونی ایجنڈے کا مرکز بن چکا ہے، اُس وقت کا انگریزوں اور ایسٹ انڈیا کمپنی کا کردار اب کس کو ملا ہے؟ سب کو پتہ ہے کہ اب کس کو ملا ہے؟ لیکن پاکستان کی عوام نے اب کوئ سراج الدولہ یا ٹیپو سلطان نہیں بنانا، آپ نے صرف ایک رجب طیب اردوگان بنانا ہے جو پاکستان میں عمران خان کی شکل میں اکیلا اندرونی غداروں اور انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ سے لڑ رہا ہے یاد رکھیں! عوام نے یہ جنگ سراج الدولہ یا ٹیپو سلطان کیطرح نہیں ہارنی بلکہ اردوگان کیطرح جیتنی ہے، انگریزوں کو انکے میر جعفر اور میر صادق کیساتھ شکست دینی ہے